معاشرے کی نا انصافی اورپردیس جانے کاشوق

24 نومبر 2017

معاشرے میں ناانصافی اور بڑھتے ہوئے نودولتیوں کی وجہ سے معاشرے میں حصول روزگار کے لئے ہر ہنر اور طریقہ آزمایہ جارہاہے جس کی زد میں ہمارے نوجوان پس رہے ہیں ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا ہمیں کما کر معاشرے میں اعلی مقام دلوائے بیٹا والرین کی خواہشں پوری کرنا وہ اپنا نصب العین سمجھتے ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہوتاکہ وہ کہاں جارہے ہیں ان کی منزل مقصود کہاں ہے وہ اپنے روشن مستقبل کے لئے خوابوں کی وادیوں میں کھوئے رہتے ہیں۔اس جوانوں کو سمجھائے کی پردیس میں جانا کوئی آسان کھیل نہیں کیا جہاں والدین بہن بھائیوں اور دوستوں سے جدائی سہنا پڑتی ہے وہاں پردیس میں محنت اور مشقت بھی کرنا پڑتی ہے ایک عمر اپنی منزل کو پانے کے لئے تب جا کر پردیس کا مقصد پورا ہوتا نظر آتاہے کیونکہ پردیس میں ہر آنے والا یہ سمجھتاہے جو تیس چالیس پہلے پردیس آیا تھا ویسا ہی ہوجائے کوئی خوش قسمت ہوگا جو آتے ہی دولت کی ریل پیل پا لے لیکن دیکھا یہی دو نمبر کے زریعے پردیس میں وہ پھنس جاتے ہیں اور ہر جائز ناجائز کام کرنا شروع کردیتے ہیں پردیس کا نام سنتے ہی ایک دفعہ تو رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ پردیس میں جاکر کن کن مصیبتوں سے پالا پڑتا ہے لیکن جب دولت کی ریل پیل ہوتی ہے تو نخرے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن انسان کبھی بھی کسی نعمت سے مطمئن نہیں ہوتا۔اللہ تعالی نے انسان کو ہر نعمت سے نواز رکھا ہے لیکن معاشرے میں نا انصافی اور دوسرے کے دیکھا دیکھی انسان کا لالچ بڑھ جاتاہے ایسی صورت حال تو دیکھتے ہوئے ہمارے نوجوان خوابوں کی دنیا میں بسنا شروع ہوگئے ہیں کہ کسی طرح دولت اکٹھی کرلی جائے اور اپنے مستقبل روشن کرلیں لیکن جو نوجوان غیرقانونی راستے اختیار کررہے ہیں وہ جان جوکھوں میں ڈال کر والدین سے ہمیشہ کے لئے ان کے خوابوں کو ادھورہ رکھتے ہیں گذشتہ دنوں بلوچستان تربت کے علاقہ میں 15 نوجونواں کو انتہائی بے دردی سے انہیں صف میں کھڑا کرکے سفاکی سے قتل کر دیا ان نوجوانوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے والدین کے خوابوں کو پورا کرنا چاہتے تھے پردیس جاکر محنت مشقت کرکے اپنے گھر والوں کو نا انصافیوں سے چھٹکارا دلوانا چاہتے تھے یہ نوجوان ان انسانی سمگلروں کے چنگل میں کیسے پھنستے ہیں آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں ان انسانی سمگلروں کے آقا اور سہولت کار اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں جو ان انسانی سمگلروں کے گاڈ فادرہیں۔یہ لوگ خود پردیس جاکر کمپنیاں بناکر وہاں دو نمبری کرتے ہیں کمپنیوں کی آڑ ویزوں کی خریداری کا کاروبار کرتے ہیں خوب دولت کما کر پاکستان آکر وہ اپنے اپنے علاقوں چوہدراہٹ قائم کرتے ہیں اور ناجائز دولت کے بل بوتے وہ مکروہ دھندہ کرکے عوام کی خدمت کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور بڑے بڑے افسروں کے ساتھ علیک سلیک بناکر جائز ناجائز کام کروا کر اپنا رعب جماتے ہیں ،پھر الیکشن کے ذریعے وہ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور دولت کو پوراکرنے کے لئے جہاں وہ حکومت سے مراعات وصول کرتے ہیں وہیں یہ لوگ اپنے ایجنڈ بناکر ایسا مکروہ کھیل کھیلتے ہیں وہ نوجوانوں کا بیرون ممالک کے قصے بتا کر ان کے دلوں میں ایسے خواب جاگتے ہیں کہ نوجوان غیرقانونی راستے اختیار کرنے پر رضامندی ظاہر کرکے اپنے آپ کو ایجنٹوں کے حوالے کردیتے ہیں نوجوانوں گھر کی جمع پونجی ایجنٹوں کو دے کر بیرون ملک کے لئے گھر سے نکلتے ہیں صرف پاسپورٹ کی بنا کر وہ گھر سے نکل پڑتے ہیں ان کو اپنی منزل کا تعین نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جارہے ہیں ان کی منزل مقصود کہاں ہے وہ خوابوں کی دنیا میں بسے ہوتے ہیں ایک ایجنٹ دوسرے ملک کے ایجنٹ کے آگے فروخت کردیتاہے وہ پھر دلدل میں پھنستا ہی جاتاہے اسے باہر نکلنے کا راستہ صرف موت ہی ہوتا ہے ایجنٹوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں،ان کا مقصد دولت اکٹھا کرنا ہوتاہے کیونکہ حکومت نے آج تک کسی ملزم کو پکڑا ہی نہیں اگر پکڑا جاتاہے تو سیاسی انتقام کا بہانہ بنا کر عدالت سے رہائی لے لیتے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کا ازخود نوٹس لیا ملزمان ان نوجوانوں کے مستقبل کو داو پر لگا کر انہیں موت کی وادی میں دھکیل رہے ہیں۔ویزہ کی تصدیق کے لئے ہرملک کا سفارت خانہ پاکستان کے اسلام آباد لاہور اور کراچی میں موجود ہیں جہاں ویزوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن ایجنٹ حضرات ایسا موقع کب آنے دیتے ہیں وہ تو سہانے خواب دکھا کر انہیں ورغلا لیتے ہیں حیرانگی کی بات ہے کہ ایسے سینکڑوں واقعات ہوچکے ہیں ہزاروں افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں پھر بھی کوئی کچھ کہنے والا نہیں۔ کیا حکومت سو رہی ہے ان کو نہیں علم کہ کون کون ایجنٹ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہاہے اگر قومی وصوبائی اسمبیلیوں میں کئی حاضر و سابق ایم این ایز اس گھناونے دھندے میں ملوث رہے جب بیرون میں یہ لوگ ہوتے ہیں تو وہاں بیٹھ کر بھی گورکھ دھندہ کرتے ہیں اور ان کی جیب میں ہر وقت کئی ائیرلائز کی ٹکٹ موجود ہوتی ہیں جونہی ان کے دھندے کا پول کھلتاہے وہ رفو چکر ہو جاتے ہیں پھر ان پر اس ملک میں داخلہ پر پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ پاکستان کے ہر ادارے میں پاوں جما چکے ہیں ان کے گھناونے دھندے پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا کیونکہ سب حکومتی مشینری ان کے ساتھ ہوتی اس کے بغیر کوئی ایسا گورکھ دھندا نہیں چل سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے نوجوان نسل کو نو دولتیوں کے سایہ سے بچایا جائے جو اپنی دولت کے بل بوتے پر نوجوانوں کے ساتھ ایسا کھلواڑ کررہے ہیں حکومت کو نوجوانوں کے روشن مستقبل کے کوئی اقدامات کرنے چاہئے تاکہ یہ نوجوان بے راہ روی کا شکار نہ ہوں، معاشرے میں نا انصافی اور عدم مساوات کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے۔