براہمداغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد

24 نومبر 2017

سوئٹزر لینڈ نے سات سال بعد کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سر براہ برہمداغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی ، بلوچ رہنما نے اس خبر کی تصدیق اپنے ٹویٹ میں خود کی ہے۔ براہمداغ بگٹی کی کالعدم بی ایل ایف بلوچستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث تھی اور اسکے سر براہ براہمداغ نے گزشتہ کئی برسوں سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر رکھی تھی اور پاکستان میں اس وقت انتہائی مطلوب شخص تھے۔2016میں بھارت کا دورہ کر کے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے اس سے مالی امداد کی درخواست کر چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ میں پاکستان کیخلاف عوامی مقامات اور بسوں پر اشتہارات لگانے میں ان کا کردار سامنے آیا تو پاکستان نے سفارتی سطح پر ان ملکوں سے احتجاج کیا تھا، چند روز قبل سوئس حکام نے بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ایک اور برطانوی شہریت یافتہ رہنما ء مہران مری کوزیو رخ ایئر پورٹ پر حراست میں لے کر اہل خانہ سمیت واپس برطانیہ بھجوا دیا تھا کہ انکے سوئٹزر لینڈ میں سفر کرنے پر پابندی ہے۔ اب اسکے چند روز بعد ہی براہمداغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی حکام نے سوئس حکام کے سامنے اپنا مؤقف مؤثر طریقے سے پیش کیا ہے۔ یہ پاکستان کی سفارت کاری کی کامیابی ہے، بلوچستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث کالعدم تنظیم کے رہنما کو پاکستان واپس لا کر اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اسی طرح پاکستان کیخلاف مسلسل ہرزہ سرائی کرنیوالے قائد متحدہ کیخلاف بھی حکومت کو متحرک ہونا چاہئے۔