فراغت دے اسے کارِ جہاں سے

24 نومبر 2017

فراغت دے اسے کارِ جہاں سے
کہ چُھوٹے ہر نفَس کے امتحاں سے
ہوا پیری سے شیطاں کُہنہ اندیش
گناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!
(ارمغانِ حجاز)