’’سقراط‘‘ (حیات، فلسفہ اور نظریات)

24 نومبر 2017

سقراط یونانی کلاسیکل اخلاقی فلسفے کے سکول کا بانی ہے۔ اسکی زندگی کی معلومات قارئین تک تین راویوں کے ذریعے پہنچی ہیں۔ ایک سقراط کے زمانے کا مشہور ڈرامہ نگار ارسٹوفینز ہے۔ دوسرا سقراط کا شاگرد افلاطون اور تیسرا راوی ایتھنز کا سپاہی منش رئیس زادہ زینوفن جو سقراط کے خاص معتقدوں میں سے تھا۔سقراط نے فلسفے کی تعلیم کیلئے کوئی سکول یا اکیڈمی قائم نہیں کی‘ وہ عوامی مقامات پر چلا جاتا جہاں لوگ زیادہ تعداد میں موجود ہوتے اور اپنے فلسفے کا پرچار کرتا۔ اس کا سارا دن اسی فلسفیانہ گفتگو میں گزر جاتا۔ نوجوان اسکی گفتگو بہت دلچسپی سے سنتے۔ سقراط ایتھنز کے مروجہ مذہب کی خامیوں پر کڑی تنقید کرتا تھا۔ وہ ریاستی مذہب کی اصلاح کرنا چاہتا تھا تاکہ ایتھنز کے شہریوں کو حقیقی سچائی کے قریب لایا جا سکے۔کتاب کے مصنف ملک اشفاق نے فلسفے سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک اچھی کتاب لکھی ہے جس میں سقراط کی سوانح، ہنر ،فن اور تخلیق کی دریافت، سقراط کی عائلی زندگی، سقراط کے عہد کے یونان کا پس منظر، سقراط کی اخلاقی سیرت، سقراط کے فلسفے کانقطہ آغاز، سیاسیات اور اخلاقیات، سقراط پر مقدمہ، سقراط کے فلسفے کے جانشین، سقراط عرب مورخین کی نظر میں، سقراط کے حکم و آداب اور تصنیفات شامل ہیں۔120 صفحات پر مشتمل ‘ اعلیٰ کاغذاور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ یہ کتاب بک ہوم ۔ بک سٹریٹ-46 مزنگ روڈ لاہور نے شائع کی ہے جس کی قیمت 300/- روپے ہے۔(فون:042-37231518)۔ (تبصرہ: سلیم اختر)