اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدآمد بھی کرائے

24 نومبر 2017

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد کو منظور کر لیا گیا جس میں بلا امتیاز تمام انسانوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی گئی یہ قرار داد پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی اس متعلق پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ قرارداد میں بلا امتیاز تمام لوگوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے جس کا مقصد بالخصوص کشمیر اور فلسطین میں برسرپیکار خریت پسندوں کی جدوجہد پر توجہ دلانا ہے عالمی برادری نے قرارداد کے ذریعے قابض افواج کے تمام غیر قانونی قبضوں کو مسترد کر دیا۔ حق خود ارادیت کی قرارداد اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے اور غیر ملکی افواج کے قبضہ کے خلاف برسراقتدار خریت پسندوں کے لیے بھی اچھی خبر ہے ۔ قرارداد کی آئندہ ماہ جنرل اسمبلی سے توثیق ہو گی اس میں جارح ممالک کو مقبوضہ علاقوں میں فوجی مداخلت روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ کاش اقوام متحدہ اپنی پاس کی گئی ساری قرار دادوں پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے بھارت اپنے رویے اور عمل سے بازنہیں آرہا ۔ اب تک کنٹرول لائن پر 1300بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں گزشتہ دنوں راولا کوٹ کے مقام پر بلا اشتعال فائرنگ سے دو افراد شہید اور متعد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اشتعال انگیزیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ اس پر بھر پور احتجاج کر چکی ہیں ۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کشمیری رہنما سردار عتیق احمد خان، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، سردار خالد ابراہیم اور دیگر قیادت نے بھی پر زور مذمت کی ہے ۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اور بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ جنوبی ایشیا میں سکیورٹی کا کوئی میکنیزم نہیں ہے۔ پاکستان انتہا پسندی کے سخت مخالف ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی عوام اور فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس سے خطے میں استحکام آرہا ہے۔ پاکستان بھارت سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن پائیدار امن کے لیے بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بامقصد مذاکرات کرنا ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ میں جارج ٹون یونیورسٹی میں " جنوبی ایشیا سلامتی واستحکام "کی تقریب میں کیا قیام پاکستان سے ہی کشمیری اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن بھارت کے مظالم ڈھکے چھپے نہیں ہیں بھارتی حکمران ہر دور میں اپنی خباثت سے باز نہیں آئے ابھی بھارتی متعصب میڈیا بھی کشمیریوں کی بین الاقوامی اور مقامی پُر امن جدوجہد کو بھی دہشت گردی قرار دے رہے ہیں جھوٹ سے سچ چھپانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے‘ لیکن بھارتی افواج کا ظلم اور متصب میڈیا کا جھوٹ کشمیریوں کی جذبہ حریت کو ختم نہ کر سکے گا مقبوضہ کشمیر میں 7لاکھ سے زائد فورسز کا موجود ہونا ماروائے عدالت قتل، اجتماعی قبروں کا دریافت ہونا افسپا پوٹہ اور ٹاٹا جیسے انسانیت سوز قوانین کے باجود تحریک کا جذبہ جوان ہے۔ 1989ء کے بعد اور بالخصوص برہانی وانی کی شہادت کے بعد طویل اورشدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے حریت قیادت قید یا نظر بند ہے ۔ ہڑتال اور کرفیو کا سلسلہ جاری ہے بھارت کئی بار الیکشن بھی کرواکر دیکھ چکا ہے‘ لیکن امن اور سکون نام کی کوئی چیز وہاں نظر نہیں آتی انتہائی مظالم اور سیکورٹی کے باوجود تمام قومی دن بھارت کے خلاف پورے عزم سے منائے جاتے ہیں خواتین مرد بچے بوڑھے جوان اور طالبعلم سراپا احتجاج ہیں پاکستان کو دبانے اور تلخی کے باوجود بھارت کو اصل مقصد کی طرف آنا ہو گا اور وہ ہیں بامقصد مذاکرات مسئلہ کشمیر اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کو اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے ۔ لیکن بھارت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے بھی بہت پریشان ہے حالانکہ یہ پاکستان کے علاوہ پورے خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اس کا مقصد خطے میں امن ، استحکام اور ترقی لانا ہے۔ بھارت کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتا وہ اپنی بالا دستی قائم کرنا چاہتا ہے اب اس کو پاکستان کے ساتھ سی پیک منصوبے کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا ہے اس سلسلے میں وہ امریکہ، اسرائیل اور افغانستان کو بھی استعمال کر رہا ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتا ہے۔ چین واحد ملک ہے جو پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ گو سی پیک اور پاکستان کے استحکام سے چین کے لیے بہت آسانیاں ہیں ذرائع یہ بھی بتارہے ہیں کہ سی پیک میں رکائوٹ ڈالنے کے لیے بھارت کی جارحیت روایتی جنگ میں بدل سکتی مزید کلبھوشن اور ان کا جاسوسی نیٹ ورک بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے افغانستان کا امن پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے افغانستان میں تمام تخریبی کاروائیوں میں بھارت ملوث ہے تاکہ وہ پاکستان پر الزام لگا کر امریکہ سمیت پوری دنیا کے سامنے بدنام کرنا چاہتا ہے اس صورت حال میں ہماری حکومت اور اداروں کو بھرپور ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی ۔ محض ڈنگ ٹپائو اور خانہ پوری سے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے انہیں مکار اور موذی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے بانی پاکستان قائداعظم کے سنہری اصولوں کی روشنی میں اپنی پالیسیاں درست کرنا ہونگی ۔ موجودہ صورت حال میں انتشار اور خلفشار پاکستان کے لیے زہر قاتل ہے۔