ایمبولینس کاسائرن : زندگی مانگتا ہے!

24 نومبر 2017

اِس سائرن کی آواز دنیا بھر میں یکساں ہے۔ اِسے یکساں جذبات ہی کے تحت سُنا جاتا ہے اور یکساں احساسات ہی سے اس پر ردِ عمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی انسان سائرن کی اس آواز کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔یہ ایسی آواز ہے جسے سُن کر ہر شخص کی زبان پر پہلا جملہ یہی جاری ہوتا ہے: اللہ خیر کرے۔ہم ہر روز، ہرمحلّے، ہر شہر ، ہر کالونی، ہر بازار میں کہیں نہ کہیں یہ آواز سُنتے ہیں۔ سائرن کی یہ آواز مانوس بھی ہے اور ہمارے معمولاتِ حیات کا ناگزیر حصہ بھی۔کسی محلّے میں، کسی گھر کے سامنے کھڑی مخصوص گاڑی میں گونجتا یہ سائرن سب کو اپنی طرف متوجہ بھی کرتا ہے اور کسی ایمرجنسی کا اعلان بھی۔ سائرن کی یہ آواز ’’ایمبولینس‘‘ سے خاص اور وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ آواز دنیا کے ہر خطے میں جانی پہچانی جاتی ہے۔ اِسے سُن کر فطری طور پر دل اور دماغ میں ہمدردی کے احساسات جاگ اُٹھتے ہیں۔ ہم اس سے غیر متعلق رہ ہی نہیں سکتے۔مگر یہ سائرن کیا ہے اور ایمبولینس ہماری سماجی اور طبّی زندگی میں کیا اہم کردار ادا کررہی ہے، ہم نے کم کم اس پہلو پر کبھی غور کیا ہے۔

’’ایمبولینس ‘‘ کا لفظ دراصل لاطینی لفظ Ambulare سے نکلا ہے۔اِس کا معنی ہے: دو یا دو سے زیادہ افراد کاکسی شئے کو ایک مقام سے اُٹھا کر دوسرے مقام تک منتقل کرنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاطینی زبان میں پیدل چلنے کو بھی’’ایمبولینس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایمبولینس کی تاریخ کے بارے میں ویسے تو بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں مگر مستند طور پر کہا جاتا ہے کہ اِسے سب سے پہلے نپولین کی افواج کے مشہور سرجن اور ڈاکٹر ، ڈومنک جین لیری،نے متعارف کروایا۔ باقاعدہ اور منظّم طریقے سے کہ ڈومنک صاحب نے میدانِ جنگ کے عقب ہی میں زخمیوں کی مرہم پٹّی اور آپریشن کرنے کا آغاز کرکے نسلِ انسانی کے لئے ایک نیا انقلاب پیدا کیا۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ایمبولینس اورایمبولینس کا سائرن تقریباً ساتھ ساتھ ہی منصہ شہود پر آئے، اگرچہ سائرن کی ایجاد کا سہرہ فرانس سے دُور اسکاٹ لینڈ کے ایک ماہرِ طبیعات ،جان رابسن، کے سر بندھتا ہے۔ ان دونوں اختراعات نے انسانی زندگی بچانے میں ایسا کردار ادا کیا ہے کہ اِسے باقاعدہ اعدادو شمار کے دائرے میں محیط نہیں کیا جا سکتا۔ زندگی بچانے کے لئے ایمبولینس کے اندر چنگھاڑتا سائرن ہو یا آگ کے شعلوں کو سرد کرنے کے لئے فائر بریگیڈ کے گاڑیوں کے اوپر نصب سائرن کی مخصوص آواز، واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں سائرنوں نے اب تک کروڑوں انسانوں کو نئی زندگیوں کا پیام دیا ہے۔ پچھلے ڈھائی تین سو برسوں کے دوران شمالی امریکہ اور مغربی یورپ میں جتنی بھی ایمبولینسیں بروئے کاررہی ہیں، اب یہ ان ممالک کے عجائب گھروں کی زینت بنا دی گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے مجھے ان عجائب گھروں میں جانے کے متعدد مواقع میسر آئے ہیں ۔ ان کی سیر کے دوران واضح ہوتا ہے کہ ایمبولینس نے موجودہ شکل اختیار کرنے سے پہلے درجنوں مراحل اور مراتب طے کئے ہیں۔ یہ عجائب گھر ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب ’’ایمبولینس ‘‘صرف دو افراد کا ایک چارپائی نما بستر پر پڑے مریض کو اُٹھانے کا نام تھا۔ زمانہ بدلا تو جہاں میڈیکل اور طبّ کی تاریخ میں بہت کچھ بدلا اور بہت سے انقلابات نے جنم لیا ،وہیں رفتہ رفتہ ایمبولینس کی شکل اور ہیئت بھی بدلتی چلی گئی۔ پھر اِسے ایک تانگے کی شکل دی گئی جو تیزی کے ساتھ بگھی کی صورت اختیار کر گئی جسے پہلے دو ، پھر چار اور پھر چھ گھوڑے کھینچتے تھے۔ مگر ساتھ ہی بگھی کے دونوں اطراف جلی الفاظ میں ’’ایمبولینس‘‘ کے الفاظ کندہ کئے جانے لگے تاکہ اس کی امتیازی حیثیت دُورو نزدیک سے فوری طور پر پہچانی جا سکے اور لوگ اس کے لئے راستے کشادہ کر دیں۔ربڑ کا پہیہ معرضِ وجود میں آیا اور موٹر گاڑی ایجاد ہُوئی تو ایمبولینس نے تیزی کے ساتھ موجودہ شکل اختیار کر لی۔ یہ شکل اب ساری دنیا میں منفرد اور ممتاز حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس کے مخصوص سائرن نے اِسے مزید انفرادیت اور امتیاز بخش دیا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے آس پاس ہی امریکیوں نے باقاعدہ ایمبولینس کو پہلے فوج میں اور پھر شہری زندگی میں استعمال کرنا شروع کیا تھا۔امریکہ میں ’’کاؤ بوائے‘‘ کے دَور میں ڈاکٹر حضرات دو اور چار گھوڑوں والی بگھی نما ایمبولینس ’’نَو دریافت شدہ امریکہ‘‘ میں استعمال کرتے رہے ہیں ۔ یہ سہولت مگر غلاموںاور غریبوں کو نہیں بلکہ صرف امرا اور مراعات یافتہ طبقے کو حاصل تھی۔ اب تو ایمبولینس سے اللہ کے فضل سے ہر غریب اور امیر استفادہ کر سکتا ہے۔دنیا کے ہر امیر اور غریب ملک میں ایمبولینس کا وجود پایا جاتا ہے۔
ایمبولینس کے سائرن کی آواز سُن کر فوری طور پر اور بغیر کسی تاخیر کے راستہ دینا ہر شہری کا اخلاقی، دینی اور قانونی فرض ہے۔ایمبولینس کے سائرن کی آواز سُن کر راستہ نہ دینا اور اپنی جگہ پر ڈٹے رہنا بد اخلاقی بھی ہے، غیر انسانی فعل بھی اور شدید قسم کی بے حسی بھی۔ ایمبولینس کا سائرن محض ایک شور مچاتی آواز نہیں ہے بلکہ یہ اعلان ہے کہ زندگی اور موت کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ گیا ہے، اسلئے ایمبولینس کو ہر صورت فوری راستہ فراہم کیا جائے۔ مہذب اور سِوک سینس کا تقاضا ہے کہ ہم ایمبولینس کا راستہ مسدود کرنے کا کبھی باعث نہ بنیں۔ ہمارے اکثر عوام ایمبولینس کے سائرن کی آواز سُن کر مثبت اور مطلوبہ ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن یہ بھی اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایمبولینس کے سائرن کی آواز گونجتی رہتی ہے اور ایمبولینس کی چھت پر لگی سُرخ بتّیاں جلتی رہتی ہیں لیکن بھِیڑ راستہ نہیں دیتی۔ آبادی کے بے پناہ بڑھ جانے سے ہمارے سب بڑے شہروں میں ٹریفک رش بھی بے پناہ بڑھ گیا ہے۔ یہ رش کئی بار زندگیوں کے تلف ہونے کا موجب بن جاتا ہے کہ رش میں پھنسی ایمبولینس کو آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ملتا اور فوری طبّی امداد کا مستحق ایمبولینس کے اندر ہی اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ ملک بھر میں ایسے بہت سے واقعات متعدد بار رونما ہو چکے ہیں۔ یہ امر نہائیت تشویشناک ہے۔ ہمارے رویوں کو بھی بدلنے کی فوری ضرورت ہے اور ہر شہر کے منتظمین پر بھی لازم ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر کوئی ایسا انتظام کریں کہ ایمبولینس کسی بھی شکل میں اور کسی بھی وقت ٹریفک رش میں پھنس کر نہ رہ جائے۔ ترقی یافتہ ممالک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تو ہر اہم شاہراہ کے بیچوں بِیچ اتنی جگہ چھوڑ دی جاتی ہے جس پر ایک ایمبولینس آسانی کے ساتھ گزر سکے۔ وہاںقانون بھی بنائے گئے ہیں کہ شاہراہوں کے درمیان صرف ایمبولینس کے لئے بنائی جانے والی پٹّی پر کوئی دوسری گاڑی نہیں چل سکتی ۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کئے جاتے ہیں۔ اگر ہمارے وطن میں بھی کوئی ایسا یا اس سے ملتا جلتا کوئی انتظام اور اہتمام ہو جائے تو مستحسن ہوگا اور ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کی جانیں بروقت بچائی جا سکیں گی۔ جناب نواز شریف اور جناب شہباز شریف کی کوششوں اور عملی اقدامات کی بدولت لاہور، اسلام آباد و راولپنڈی اور ملتان میں میٹرو گاڑیوں کے لئے جو علیحدہ ٹریک بنائے گئے ہیں، ہمارا خیال ہے کہ میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینسوں کو یہ ٹریک استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ یہ بہت بڑی سہولت ہوگی اور اس پر علیحدہ سے کوئی تعمیری اخراجات بھی نہیں ہوں گے۔
الحمد للہ ، ہلالِ احمر پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہمارے پاس درجنوں ایمبولینسیں موجود ہیں۔ یہ جدید میڈیکل تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہیں اور جدید میڈیکل آلات سے بھی مزیّن ہیں۔ ہلالِ احمر پاکستان کی یہ ایمبولینسیں ملک کے ہر بڑے شہر میں موجود ہیں اور ان کے تربیت یافتہ سینکڑوں رضا کاروں اور عملے نے ہر ہنگامی صورت میں زخمیوں اور بیماروں کو فوری طبّی امداد بھی فراہم کی ہے۔ ہلالِ احمر پاکستان کی یہ ایمبولینسیں زلزلوں اور سیلابوں کے مواقع پر مدد فراہمی کے لئے ہمیشہ سب سے پہلے بروئے کار آتی ہیں۔ حالیہ ایام میں لاہوراور پشاور میں ڈینگی کی وبا پھیلی تو سب نے دیکھا ہے کہ ریڈ کریسنٹ کی ایمبولینسیں ، بغیر کسی امتیاز کے، متاثرین کو ہسپتالوں اور شفا خانوں تک پہنچانے کا اوّلین فریضہ انجام دیتی رہیں۔ ضرورت بس تربیت کی ہے ۔ ہر گھر، ہر تعلیمی ادارے اور ہر شہری کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ ایمبولینس کا سائرن سُنتے ہی ، بغیر کسی تحقیق کے، فوری طور پر ایمبولینس گاڑی کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر دیا جائے۔ کون جانتا ہے کہ ایمبولینس کے اندر لیٹا مریض کتنی شدت سے طبیب اور ڈاکٹر کے پاس پہنچنے کا منتظر ہے اور زندگی و موت کے درمیان کتنا راستہ باقی رہ گیا ہے!!