کشمیر کا حصول ممکن مگر کیسے؟

24 نومبر 2017

1947ء میں وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا۔ تب سے کشمیر کا مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ 70 سال میں کئی آمروں اور ’’جمہوری‘‘ حکومتوں نے اقتدار سنبھالا۔ دیکھنا یہ ہے کہ 70 سال میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جدوجہد ہوئی بھی یا محض باتوں کا ہی سہارا لیا جاتا رہا۔ ملک میں دو ہی سیاسی پارٹیاں تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ جو کہ خود جنرل ضیاء الحق کی پیداوار ہے۔ ماضی کو چھوڑیئے حالیہ برسوں میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے عوام کے دیگر مسائل کے حل کی طرح کشمیر کے بارے بھی صرف زبانی جمع خرچ سے ہی کام لیا ہے۔ زرداری صاحب نے بقول جنرل مشرف بی بی صاحبہ اور ان کے بھائی کو مروایا اور عام لوگوں کی رائے میں زرداری نے PPP کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں پیپلز پارٹی نے اتحادیوں سے مل کر حکومت کی۔ انہوں نے مل کر ملکی اداروں کو کھوکھلا کیا۔ کشمیر کے بارے دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے محض 5 فروری کو ملک میں عام تعطیل کرنے یا ایک دو رٹے رٹائے بیان جاری کرنا ہی کافی سمجھا ہے۔ ن لیگ نے اس سال 5 فروری کو ایک منٹ کی ’’خاموشی‘‘ کر کے کشمیر کے لئے ’’جدوجہد‘‘ کی۔ ہم نے تب بھی ایک کالم لکھا تھا کہ ایک منٹ کی ڈرامائی خاموشی کی کیا ضرورت تھی آپ نے تو 70 سال سے کشمیر کے لئے خاموشی اختیار کر ر کھی ہے۔ دونوں پارٹیوں نے ایک بڑا کارنامہ یہ بھی سر انجام دیا ہے کہ ایک ’’مولانا‘‘ صاحب کو کشمیر کمیٹی کا چیئر مین بنایا ہوا ہے۔ ’’مولانا‘‘ نے محض مراعات حاصل کرنے کے علاوہ آج تک کشمیر کیلئے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ سب پر عیاں ہیں۔ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ 

کشمیر کے حصول کے لئے کیا کرنا ہوگا۔ یہ ایک سوال ہی نہیں، حکومت کیلئے چیلنج بھی ہے کہ موجودہ حکومتی پارٹی کے بھارت کے ساتھ گہرے ذاتی مراسم اور دوستیاں ختم کئے بغیر اس سلسلے میں کسی مثبت پیشرفت کی توقع عبث ہو گی۔ انڈیا شب و روز ہماری سرحدوں پر گولہ باری کرتا ہے کئی عورتیں، بچے، بوڑھے جوان شہید ہو جاتے ہیں۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہی انسان دہل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں گزشتہ 70 برسوں سے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں کیوں نہیں لے کر گئے ؟ مودی کی دھمکیوں کا جواب ہمارے وزیراعظم کو دینا ہوتا ہے۔ مگر ان کی ادھر توجہ ہی نہیں اور جواب آرمی چیف کو دینا پڑتا ہے۔ 6 ستمبر 2017ء کو جنرل باجوہ نے دنیا کو بجا طور پر باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر خطے میں امن کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف بہت کچھ کر چکے ہیں اب ہم Do More نہیں کریں گے آپ کو کرنا ہو گا۔ جنرل باجوہ پاک آرمی کے چیف ہیں۔ ایک محب وطن پاکستانی ہیں۔ ملک کے اندرونی بیرونی مسائل و حالات پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے۔ پاک آرمی نے باتوں سے نہیں عمل سے کنٹرول لائن پر بھارت کی نہتے کشمیریوں پر فائرنگ اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور اپنے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں سے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ کراچی میں امن کا سہرا بھی پاک آرمی کو جاتا ہے۔ پاک آرمی کے ان ہی عظیم کارناموں کی بدولت دشمن بھی اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے سفارتی سطح پر اپنی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے نئی مربوط اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ محض بیان بازی سے کچھ نہ ہو گا۔