معلومات ایک کال پر

24 نومبر 2017

یہ بات بے حد خوش آئند ہے کہ غیر محسوس طریقے سے ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے آثار نمودار ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگ صرف حکم کی تعمیل پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں جب کہ کچھ اپنے رہنما کے وژن کو دیکھتے ہوئے نئے نئے منصوبے بناتے اور انہیں عملی شکل دیتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر سید بلال حیدر ڈپٹی کمشنر بھکر خادمِ پنجاب کے وژن اور خوابوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خادمِ پنجاب کی زندگی کا مقصد پنجاب کے لوگوں کو سہولیات پہنچانا، انہیں جدید دور کے مطابق ڈھالنا اور ان کی زندگیوں کو خوشحال بنا کر انہیں باوقار شہری بنانا ہے۔ ڈی سی بھکر نے وزیر اعلیٰ کے ان خوابوں کو اپنے ذہن کے آئینے میں سجا کر ان کی تعبیریں تلاش کرنے کی کاوش کی۔ ٹیکنالوجی کے جدید دور کی بہت سی معاونات بھی ان کے ساتھ تھیں اور سب سے بڑھ کر ایک پختہ یقین کہ کچھ کر کے دکھانا ہے پھر وقت آیا کہ ان کے ذہن میں پلنے والے خادمِ پنجاب کے وژن سے ہم آہنگ منصوبے حقیقت بن کر سامنے آ گئے ہر فرد سے رابطے کو ممکن بنانے کے لئے انہوں نے آن لائن سروس شروع کی جو پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی سروسز کے حصول کے بارے معلومات کی فراہمی کو آسان بنانے کی شاندار کاوش ہے۔ ہیلپ لائن 0800-15050 کے ذریعے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ، کیریکٹر سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس، فوتیدگی سرٹیفکیٹ اور صحت کی خدمات کے علاوہ دیگر کئی ضروری معلومات گھر بیٹھے ایک فون کال پر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعے ضلع کے کسی بھی سرکاری دفتر/ ادارے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے مثلاً تعلیم کے شعبے کے حوالے سے بچوں کے داخلے کے لئے میلوں کے سفر کی بجائے لبیک بھکر پر کال کر کے داخلہ فارم / پراسپکٹس 3 دن میں اپنے گھر پر منگوایا جا سکتا ہے جس سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب منصوبے کے تحت 100 فیصد شرح خواندگی کا خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ بھکر ضلعی انتظامیہ نے بے روزگار اور معذور افراد کے لئے انقلابی اقدامات کا آغاز کیا ہے جن میں 3% معذوری کوٹے کے تحت سرکاری ملازمت، مصنوعی اعضائ، ویل چیئر، عشر و زکوٰۃ محکمے سے مالی امداد کی فراہمی اور پنجاب خدمت کارڈ کے ذریعے 1200 روپے ماہانہ مالی امداد شامل ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تعداد، نام یا سکولوں میں اساتذہ کی حاضری تک رسائی کے لئے لبیک بھکر موبائل ایپ بنائی گئی ہے۔ آپ گھر بیٹھے مختلف محکموں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں کی حاضری، کارروائی، کرپشن چیک کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے حکامِ بالا کو آگاہ بھی کر سکتے ہیں۔ ٹیوٹا کے شارٹ کورسز میں پڑھنے والے طلباء کے لئے ماہانہ 1000 روپے جبکہ نیووٹیک کے شارٹ کورسز میں پڑھنے والے بچوں کے لئے 3000 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ سرکاری اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے لئے پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ اور قائداعظم ایوارڈ سکالر شپ کی طرف سے وظائف رکھے گئے ہیں۔ غریب اور بے سہارا مرد و خواتین کے لئے ڈسٹرکٹ انڈسٹریل ہوم اور نیووٹیک کے تحت فنی تعلیم و تربیت کے ساتھ 2500 روپے ماہانہ وظیفہ اور ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ 

چھوٹے پیمانے پر صنعتوں کے قیام کے لئے وزیراعظم کی بلاسود قرضہ سکیم کے تحت 35 ہزار تک کے بلاسود قرضہ جات دیئے جائیں گے۔ محکمہ سماجی بہبود بیت المال کی طرف سے 5 ہزار کی مالی امداد، جہیز فنڈ کے لئے 15 ہزار روپے اور 1000 روپے گزارہ الائونس شامل ہے۔ بیوہ خواتین کے لئے دودھ دینے والے جانوروں کی مفت فراہمی ہو گی تا کہ ان کی محتاجی ختم ہو سکے۔ بھکر جاب بیورو کے ذریعے اداروں کا ڈیٹا بیس بنایا جا رہا ہے جو 3 سال میں 24000 ملازمت کے مواقع مہیا کرنے کے قابل ہو گا۔ وفاقی، صوبائی، سرکاری، نیم سرکاری شعبوں میں ملازمت کے لئے لوگوں کو مطلوبہ ہنر سکھایا جائے گا اور ان کی نوکریوں تک ان کی رسائی ممکن بنائی جائے گی۔
سب سے بڑی کامیابی ناخواندہ افراد کو ہنرمند بنانا اور انہیں کاروبار، زراعت اور مویشی بانی کے لئے قرضہ جات کی فراہمی ہے تا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں اور ملک کے باوقار شہری کہلائیں۔ بے آسرا مرد و خواتین کے لئے دارالامان ایک کارِ خیر ہے جہاں رہائش، کھانا، میڈیکل کی سہولت، پناہ گاہ اور نفسیاتی امداد شامل ہے۔ اسی طرح بے سہارا اور لاوارث بچوں کے لئے کاشانہ اور نگہبان پراجیکٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں کھانے، رہائش کے علاوہ لباس اور یونیفارم بھی فراہم کیا جائے گا۔ بہت سے ادارے پہلے سے موجود تھے لیکن ان تک رسائی نہیں تھی۔ موجودہ اصلاحات میں ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جو موجود سہولیات تک رسائی دیتا ہے مثلاً پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، اخوت، خوشحالی بینک، محکمہ سماجی بہبود بیت المال، محکمہ لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ، جہیز فنڈ سمیت کئی محکموں سے استفادہ کیا گیا ہے اور جن چیزوں کی کمی تھی انہیں شروع کیا گیا ہے جس میں میڈیکل کالجز، یونیورسٹی سمیت کئی ادارے شامل ہیں۔ بھکر کے ڈپٹی کمشنر نے فلاحِ عامہ کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ ترقی یافتہ پاکستان کی شروعات ہے۔ یقیناً ضلعی انتظامیہ شاباش کی مستحق ہے۔