وفاق کے غیر آئینی اقدامات سے سندھ کو اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے : مراد علی شاہ

24 نومبر 2017

کراچی( وقائع نگار) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایک بار پھر وفاق پر برس پڑے۔ گلے شکووں کا انبار لگادیا۔ صوبائی افسران کے سامنے اجلاس کے دوران سندھ کے ساتھ وفاق کی جانب سے زیادتیوں ناانصافیوں کا واویلا کرتے رہے او ر سرکاری افسران سر جھکائے ان کی باتیں سنتے رہے جبکہ اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے معاون خصوصی سر دھنتے رہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاق غیر آئینی کام کررہا ہے ۔ سندھ سے 2800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا ہوتی ہے جس میں سے ایک ہزار دیگر صوبوں کو منتقل کردی جاتی ہے اور سندھ کے صنعتی علاقوںمیں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے یہ سراسر غیر آئینی کام ہے اور صوبے کے لوگوں کو اسی وجہ سے بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت صوبے سے پیدا ہونے والی گیس پر سب سے پہلا حق سندھ کے لوگوں کا ہے صوبے میں ہزاروں دیہات ایسے ہیں جہاں گیس اور بجلی نہیں ہے اگر سندھ کی گیس دیگرصوبوں کو نہ دی جائے تو سندھ 15 روپے فی یونٹ کے بجائے8 ارب فی یونٹ کے حساب سے 5 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ اس وقت صوبے کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے جس کاذمہ دار وفاق ہے لہذا سندھ کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل158 پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے 437 ایسے گاﺅں ہیں جن کو گیس فیلڈ سے 5 کلومیٹر اند ر واقع گاﺅں کو گیس فیلڈ کنکشن اسکیم سے فائدہ ہوگا او ر گیس ملے گی ۔ ان گیس کنکشن پر سندھ میں 3591 ملین روپے خرچ آائے گا وفاق چاہتا ہے کہ سوئی گیس کمپنی747ملین روپے خرچ برداشت کرے اور باقی 2844 ملین روپے سندھ حکومت ادا کرے ۔ سندھ حکومت کا موقف واضح ہے کہ وفاق یہ خرچہ برداشت کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی سی آئی اجلاس کی تیاری کے لئے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سی سی آئی جلاس میں سندھ کے جن آئٹمز پر غور ہونا ہے ان میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ، ایل این جی کی درآمد ، گیس پیدا کرنے والی گیس فیلڈ کے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر گاﺅں کو گیس کنکشن کی فراہمی ،فکل کوآرڈینیشن کمیٹی کا قیام، قومی پانی پالیسی، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ چاہتا ہے کہ وفاق ہائر ایجوکیشن کمیشن 2002 میں ترمیم کرکے اس کا دائرہ کار اسلام آباد تک محدود کرے۔ وفاقی حکومت ہائر ایجوکیشن ڈویژن کو صوبے کو منتقل کرے جس میں ریگولیشن ، منصوبہ بندی اور ہائرایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کے فنکشنز اور اثاثہ جات بھی سندھ ہائر ایجوکیشن کو ٹرانسفر کردیئے جائیں۔ اسی طرح پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کی جانے والی فنڈنگ بھی وفاق اب صوبائی حکومت کے ذریعے کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی بی سی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ڈنمارک کے سفیر مسٹر تولف ہولمبو نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں 50ہزار میگاواٹ ونڈر انرجی پیدا کرسکتے ہیں۔ ٹھٹھہ اور جامشورو اضلاع میں اہم ونڈو کوریڈور ہیں۔ 

مراد علی شاہ