436 افراد سے تحقیقات نیب کی ذمہ داری ، ہرادارے میں کرپشن ، ایک دوکیخلاف کاروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: عدالت عظمٰی

24 نومبر 2017

اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کی ذمہ داری نیب کی ہے، آپ کی درخواست پر کارروائی کا حکم کیسے دیا جائے، درخواست کا دائر ہ کار بہت وسیع ہے،آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین نیب نے کرنا ہے،ہم یہ کام نہیں کرسکتے ۔گزشتہ روز پانامہ پیپرز میں شامل پاکستانیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔جماعت اسلامی نے پاناما پیپرز میں شامل 436افراد کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔طارق اللہ نے کہا کہ پاناما میں کمپنیاں بنانیوالوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مقدمے کا فیصلہ کرینگے، طارق اللہ نے کہاکہ ٹیکس بچانے کیلئے یہ کمپنیاں بنائی جاتی ہیں، کرپشن سے پیسہ لوٹ کر آف شور کمپنیاں بنانیوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔کرپشن ہر محکمے کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے، اس کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرنا ہوگا۔آپ چاہتے ہیں تمام 436افراد کے خلاف کارروائی کریں، آپ کی درخواست پر کارروائی کا حکم کسے دیا جائے۔ عدالت نے معاملے پر وفاق اور نیب کو نوٹسز جاری کردیئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کرپشن جیسی خوفناک بلاک کو ختم ہونا چاہئے۔ کرپشن کا معاملہ ایک‘ دو افراد کیخلاف کارروائی سے حل نہیں ہوگا آمدن سے زائد اثاثوں کے مالکان کیخلاف کارروائی ہی اصل مقدمہ ہے پر اس کا تعین نیب نے کرنا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا ریاست کے ہر ادارے میں کرپشن پائی جاتی ہے۔ روک تھام کیلئے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت عظمیٰ