دھرنا جاری ، عوام پریشان ناجائز مطالبات تسلیم نہیں : وزیر داخلہ

24 نومبر 2017

اسلام آباد/ حاصل پور (نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگار) پنڈی اسلام آباد کے سنگم فیض آباد کی سڑک 18 روز بعد بھی نہ کھل سکی۔ اپنے کام‘ سکول‘ کالج دفتر جانے کیلئے گھروں سے نکلنے والوں کو بدستور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روز لاکھوں شہری ، جن میں بچے بوڑھے اور مریض بھی شامل ہیں۔ راستوں میں گھنٹوں خوار ہو رہے ہیں مگر ان کے حال پر ترس کھانے والا کوئی نہیں۔ گزشتہ روز حکومت نے لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹرو بس سروس کو دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیا جبکہ دھرنے والوں کو ایک علاقے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حوالے سے فیض آباد کے ارد گرد سڑکوں پر سٹریٹ لائٹس بند کر دی گئیں جبکہ مری روڈپر بھی رکاوٹیں لگا دی گئیں۔ حاصل پور سے نامہ نگار کے مطابق ختم نبوت احتجاجی ریلی نکالی گئی۔وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری احسن اقبال نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ حکومت کسی صورت دھرنے والوں کے ناجائز مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ حکومت کے پاس دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کرنے کا کوئی آپشن نہیں۔ آج ان کے مطالبات مان لیے تو مزید لوگ اسلام آباد میں دھرنے دینا شروع ہو جائیں گے۔ ختم نبوت کا قانون مزید مضبوط اور سنگین ہو گیا ہے۔ دھرنے قائد ختم نبوت پر سیاست کر رہے ہیں۔ ہم مذاکرات کا راستہ بھی اپنا رہے ہیں، دھرنے والے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دھونس دھاندلی سے وکٹ گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ دھرنے کا مقصد مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک متاثر کرنا ہے۔ کسی کی ضد اور انا کیلئے وزیر قانون استعفیٰ نہیں دے سکتے۔ ان بدعتوں کا سامنا کر رہے ہیں جو طاہر القادری اور عمران نے متعارف کروائیں۔ یہ لال مسجد اور ماڈل ٹائون جیسا واقعہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ دھرنے والوں کو سیاست نہیں چمکانے دیں گے۔ اپیل کرتا ہوں کہ ہم سے جائز مطالبہ کریں۔ وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ ایک ضد ہے، اگلے 24 گھنٹوں میں اہم اعلانات ممکن ہیں۔ وزیر قانون سے صرف پارلیمنٹ استعفیٰ لے سکتی ہے، میں فیض آباد چوک کا نہیں پورے ملک کا وزیر داخلہ ہوں۔ گلی گلی محلے میں یہ لڑائی نہیں پھیلانا چاہتے، چاہیں تو 3 گھنٹے میں آپریشن کر کے یہ جگہ خالی کرا لیں۔ 

دھرنا