جسٹس شوکت صدیقی کی خرابی طبع کے باعث دھرنا کیس کی سماعت نہ ہو سکی

24 نومبر 2017

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طبیعت خرابی کے باعث فیض آباد انٹرچینج پر جاری مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت نہ ہوسکی۔ جمعرات کو حکومت نے دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا تھا۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو طلب کرتے ہوئے جڑواں شہروں کو ملانے والے انٹرچینج پر دھرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا جبکہ عدالت نے آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس بھی جاری کئے تھے۔دوسری جانب حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والے تمام اجلاس بے سود رہے اور کوئی فریق اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت کا دھرنا جمعرات کو 18ویں روز بھی جاری رہاجبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

طبیعت خراب