نواز شریف کی دو ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست‘ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

24 نومبر 2017

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سابق وزیراعظم نواز شریف کیطرف سے نیب ریفرنسز یکجا کرنیکی درخواستوں پر سماعت، نواز شریف کے وکیل اعظم نزیر تارڑ اور نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنس کو یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے.اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی پینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کیطرف سے نیب ریفرنسز یکجا کرنیکی درخواستوں پر سماعت کی تونواز شریف کے وکیل اعظم نزیر تارڑ نے اپنے دلائل میں کہا کہ احتساب عدالت نے ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی ہماری درخواستیں خارج کر دیں فلیگ شپ اور ہل میٹل ریفرنس میں ملزم، الزام اور گواہ مشترک ہیں ملک عزیز اور واجد ضیائ￿ بھی مشترک گواہان میں شامل ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا ٹرائل کورٹ یہ سمجھے کہ ان گواہوں کا بیان ایک بار قلمبند ہو اور ایک ہی بار جرح ہو تو کیا ہو گاآپ کہتے ہیں کہ ایک گواہ دو بار بیان ریکارڈ کرائے گا تو آپ کا دفاع ایکسپوز ہو جائے گاآرٹیکل 13 کا مینڈیٹ کچھ اور ہے اسے مکس نہ کریں، ایک جرم اور ایک جیسے جرم کو آپ ایک نہیں کہ سکتے.دلائل کے دوران وزیراعظم کے وکیل نے ایک شعر بھی پڑھانیب پراسیکیوٹر اور بینچ کے مکالمے میں مداخلت پر نیب پراسیکیوٹر اور وکیل نواز شریف کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تینوں ریفرنس میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے نواز شریف کی جانب سے ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست ہی اب غیر موثر ہو چکی جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کے پھر تو ہمیں ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دینا چاہئے. دونوں فریقین کی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔

فیصلہ محفوظ