متبادل ذرائع سے بجلی کیلئے مستحکم پالیسیاں ناگریرہیں : سفیر ڈنمار

24 نومبر 2017

کراچی (کامرس رپورٹر) اگر ڈنمارک متبادل ذرائع سے 56فیصد بجلی پیدا کرسکتا ہے تو پاکستان بھی متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرسکتا ہے اسکے لئے صرف مضبوط پالیسیاں بنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں تعینات ڈنمارک کے سفیر رودف مائیکل ہے پریرا ہالمبو نے انرجی ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ اور الٹر نیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ کے تعاون سے انرجی اپڈیٹ کے تحت دوسری عالمی ونڈ انرجی سمٹ 2017سے خطاب میں کیا۔اس تقریب سے صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، اسپیشل سیکریڑی انرجی سندھ راشد حسین قاضی، چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی محمد نعیم قریشی، ظفر سبحانی، مشیر نیپرا سجاد قریشی، سی ای او گمیسا الرویرو بلبائو، سی ای او اے سی ٹی ونڈ عدنان ٹپال، ہیڈ بزنس ڈیلوپمنٹ ڈیسکون انجنئرنگ سید مصطفی شاہ، انیس یونس، عرفان احمد، سی ای او ایس ٹی ڈی سی ریحان حامد، ڈائریکڑمتبادل توانائی سندھ انجنئر محفوظ قاضی، صدر پاکستان ونڈ انرجی ایسوسی ایشن پاکستان دانش اقبال، سی ای او ہوا انرجی فرمان لودھی اور دیگر نے خطاب کیا۔ ڈنمارک کے سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے کئی مواقع موجو د ہیں ۔