’’سرخ بتی جل رہی ہے ‘‘

24 نومبر 2017

ریاست بہاول پور،نوابوں کا شہرہے۔۔۔ جس کے ہر ’’چوراہا ‘‘ پرحال ہی میں ’’ٹریفک سگنل‘‘ بھی نصب کئے گئے ہیں۔ کبھی کبھی’’ سبز ‘‘بتی جلتی بھی نظر آتی ہے۔ پھر’’سبز‘‘سے’’ سرخ ‘‘ہوتی بھی دیکھائی دیتی ہے۔ سڑکیں تو اتنی کشادہ نہیں ہیں لیکن ان شاہراہوں سے گزرنے والوں کے دل بہت بڑے ہیں۔ جو ان جلتی بجھتی بتیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔آئے روز حادثے بھی ہوتے رہتے ہیںاور1122 کے جوان اپنی خدمات بھی سر انجام دے رہے ہیں اور دوسروں کی جان بچاتے بچاتے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن ’’نواب لوگ‘‘ کہاں پرواہ کرتے ہیں۔ٹریفک پولیس بھی ہر’’چوک‘‘ پر موجود ہے۔ہم نے کئی بار ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو عوام کے ہاتھوں رسوا ہوتے دیکھا ہے۔اگر ٹریفک پولیس کا کوئی اہلکار کسی ’’نواب‘‘ کو روک لیتا ہے تو اسے فون پر بات بھی کرنا پڑتی ہے۔ سیاسی شخصیات سے جھاڑ بھی کھانا پڑتی ہے۔اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے۔۔۔ بہاول پور شہر میںٹریفک سگنل کی تنصیب کا کام تو مکمل ہو چکا ہے لیکن ابھی باقائدگی سے آغاز نہیں ہوا۔کبھی کبھار ہی کسی چوک پر سرخ یاسبز بتی جلتی بجھتی نظر آتی ہے، شائد ابھی اس نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے یہ سب جناب کمشنر کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔جن کی سربراہی میں اور بہت سے نا مکمل کام ’’مکمل‘‘ ہو رہے ہیں۔اچھی صحت کے لئے بھی شہر میں موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ان سب کے ساتھ ساتھ اگر ہماری تمام فورسز کو مکمل آزادی سے اپنا اپنا کام کرنے دیا جائے تو پھر سونے پر سہاگا ہو گا۔ہمارے ٹریفک اہلکاروں کو مکمل اختیارات دئیے جائیں۔ غلط پارکنگ کرنے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے اور اگر کوئی ’’نواب ‘‘ بدتمیزی سے پیش آتا ہے تو پھر ’’ڈولفن فورس‘‘ کے حوالے بھی کر دینا چاہیے۔ہمارے سیاست دان صرف جمہوریت کے لئے کام کریں ۔ جس طرح نوابوں نے کیا تھا۔۔ جرائم پیشہ عناصر کی سر پرستی نہ کریں، جو نواب بنے پھرتے ہیں۔۔۔وکٹوریہ ہسپتال کے شعبہ حادثات میں آئے روز ایسے افراد کو شدید زخمی حالت میں لایا جاتا ہے جوشراب کے نشہ میں دھت، تیز رفتاری کے باعث حادثہ کا شکار ہوتے ہیں۔اور انہی نوابوں کی وجہ سے اور لوگ بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں جو شائد گھر جا رہے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہسپتال جا پہنچتے ہیں۔ٹریفک اہلکار بھی ان بیچاروں پر ترس کھاتے ہیں اور انہیں1122کے ذریعے ہسپتال تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان کی جان بچ سکے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان نوابوں پر کوئی ’’دفعہ‘‘ نہیں لگایا جاتا ۔شراب پی کر گاڑی چلانے والے جب حادثہ کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں ہسپتال ضرور پہنچایا جائے لیکن انہیںپھر سزا بھی دی جائے اور جرمانہ بھی عائد کیا جائے تاکہ آئندہ یہ محتاط رہیں۔ان نقلی نوابوں کے بر عکس ہم نے ملتان روڈ ، ماڈل ٹائون سی چوک پر ایسے نوجوان کو بھی دیکھا ہے جس نے عین اس وقت اپنی موٹر سائیکل چلتی ہوئی’’اے۔سی‘‘ کوچ کے سامنے لا کر کھڑی کر دی جب سرخ بتی جل رہی تھی اور مجبوراََ ڈرائیور کو گاڑی روکنا پڑی۔ اس وقت ٹریفک پولیس کا اہلکار بھی موجود تھا اور شائد وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہا ہو گا۔ ایسے نوجوانوں کو ہمارا سلام ہے، جو خود بھی قانون کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔اس دوران ہم سوچ رہے تھے اگر ڈرائیور گاڑی نہ روکتا اور موٹر سائیکل پر چڑھا دیتا، تو پھر کیا ہوتا؟؟؟جس طرح کنڈیکٹر حضرات بہت زیادہ بدتمیز ہوتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا بھی ہو سکتا تھا؟؟ اس نوجوان کا کوئی نقصان ہو جاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟؟؟ ہم یہ سب سوچ رہے تھے لیکن اس نوجوان نے ایسا کچھ نہیں سوچا۔ وہ شائد یہی سوچ رہا تھا کہ’’ سرخ بتی جل رہی ہے‘‘ اور اس گاڑی کو روکنا چاہیے اور اس نے کر دکھایا، شائد وہ اصلی نواب تھا۔۔۔ 

ہمیں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ٹریفک پولیس اہلکار موجود ہوں یا نہ ہوں، اگر سرخ بتی جل رہی ہے تو پھر رک جانا چاہیے ۔ یہ نہ ہو کہ کوئی نواب ہمیں روک لے۔