"کون سا فرائیڈے؟"

24 نومبر 2017

میں سمجھتا ہوں کہ لکھنے اور بولنے کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بعض کے نزدیک یہ آسان ہوگا کہ وہ لکھنے اور بولنے سے پہلے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جو منہ اور ذہن میں آیا، بنا ذہن پر زور ڈالے بس نان سٹاپ بولنا شروع کر دیا۔ اور جب جی چاہا بغیر دماغ کو استعمال کیے اناپ شناپ لکھ ڈالا۔ اس لکھنے اور بولنے سے نہ سماج کے پلے کچھ پڑتا ہے اور نہ لوگوں میں سدھار پیدا ہوتا ہے۔ بگاڑ اور خرابی ایسے میں نتیجے کے طور پر جڑیں پکڑتی اور پھل پھول لاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کسی موضوع اور عنوان پر سوچ سمجھ کر اور مضبوط بنیادوں اور ٹھوس تحقیقات کے بعد لکھنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہوتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قلم کو ہاتھ میں تھامنے اور لکھنے سے پہلے موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج جس موضوع کو میں نے منتخب کیا ہے۔ وہ "بلیک فرائیڈے" ہے۔ آج پورے یورپ،امریکہ اور پاکستان میں "بلیک فرائیڈے" منایا جا رہا ہے۔ بلیک فرائیڈے نومبر کے آخری جمعہ کے دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کے دو مقصد جو میرے سامنے آئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ چونکہ عیسائیت دنیا کا بڑا مذہب ہے۔ اس کے پیروکار دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ آج سے کوئی پچاس، ساٹھ سال پہلے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں ،اداروں اور تجارت پیشہ افراد نے سوچا ہوگا کہ کیوں نا اپنے مذہبی کرسسمس تہوار کو (جو پچیس دسمبر کو منایا جاتا ہے اور یہ ان کا سب سے بڑا خوشی کا تہوار ہوتا ہے)۔ اس تہوار سے پہلے ٹھیک ایک ماہ بیشتر ایک گرینڈ سیل لگانے کا آغاز کریں۔ انہوں نے ضرور یہ بھی سوچا ہوگا کہ وہ سیل ایک بہت بڑی رعایت کے ساتھ ہو۔ اس سے بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب لوگ مستفید ہو سکیں۔ اور شاید انہوں نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ کرسمس کی خوشیوں میں کوئی بھی شخص اپنی خستہ حالی اور مفلسی کی وجہ سے خوشیوں سے محروم نہ رہ جائے۔ اسے پچھتاوا نہ رہے کہ وہ اپنے لیے ملبوسات یا دیگر اشیائے ضرورت کا مہنگائی کے سبب اہتمام نہیں کرسکا۔
دوسری وجہ جو مجھے سمجھ آئی کہ تجارت میں جب کوئی کمپنی اوور سٹاک ہو جاتی ہے تو وہ اپنے سٹاک کو ختم کرنے کی خاطر ہر سال ایک گرینڈ سیل کا اہتمام ویسے بھی کرتی ہے۔ اس کے لیے وہ پرکشش پیکج بھی دیتی ہے۔ اور اپنی آفرز کی تشہیر کے لیے وہ بہت سا بجٹ بھی خرچ کرتی ہے۔ اب اس بلیک فرائیڈے کی وجہ سے اسے الگ سے سیل لگانے کی یا آفرز پیش کرنی کی حاجت پیش نہیں آتی۔ گرینڈ سیل میں اس کا سارا تازہ اور پرانا مال بک جاتا ہے۔ اس صورت حال میں کمپنی بھی خوش اور صارف بھی مسرور و مطمئن رہتا ہے۔ اس تجارتی سرگرمی کے لیے وہ اپنے مذہبی تہوار کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ اس مذہب کے پیر و کار خیرات یعنی چیئرٹی میں یہودیوں اور شاید مسلمانوں سے بہت آگے ہیں۔ میرا کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ مسلمان چیئرٹی نہیں کرتے، بلکہ ہمارے وطن عزیز میں دیگر اسلامی ممالک سے زیادہ چیئرٹی کرنے والے افراد موجود ہیں۔ یہ ہے بلیک فرائیڈے کے پیچھے کار فرما سوچ ہے۔
اب ہم تھوڑا آگے بڑھتے ہیں۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس روز بے حد و حساب اور بے انتہا افراتفری کا سماں برپا ہوتا ہے۔ ہر ملک کے صارفین رعایت کے لالچ میں اندھا دھند شاپنگ مالز کا رخ کرتے ہیں، تو یہی وجہ ہے کہ اس افراتفری کو انہوں نے "بلیک فرائیڈے" کا نام دے رکھا ہے۔ اب چونکہ ہمارے ہاں کے ایک مخصوص طبقے نے تنقید کو اپنا مزاج بنا لیا ہے،ہم یورپ اور امریکہ کے ہر اقدام اور منصوبے میں سازشی تھیوریوں کو تلاش کرنا کو اپنا مقصد حیات بنائے رکھتے ہیں۔ اس لیے ہم نے ان کے ہر دن اور اقدام کی مخالفت کو اپنا فریضہ سمجھ لیا ہے۔
اسی وجہ سے ہمارے ہاں جیسے چلڈرن ڈے، فادرز ڈے، مدرز ڈے اور ویلینٹائن ڈے کی پوری شدت سے مخالفت کی جاتی ہے۔ بعینہ اسی سوچ کے تحت "بلیک فرائیڈے" کی بڑے وسیع پیمانے پر مخالفت جاری ہے۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ ہمارے جمعہ کے دن کے یہود و نصاری شروع سے مخالف ہیں۔ اس لیے انہوں نے فرائیڈے کو بلیک کہہ کر اور منا کر مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ہمارے ہاں کی کمپنیوں نے پاکستان میں اس دن کو وائیٹ فرائیڈے، برائٹ فرائیڈے اور بلیسڈ فرائیڈے کا نام دیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ نام بدلنے کا اعلان نہایت ہی احسن اقدام ہے۔ اسی کو مثبت طرز فکر اور طرز عمل کہتے ہیں۔ اس ٹرینڈ سے پاکستان کی تجارت پیشہ کمپنیوں اور اداروں کو اس سلسلے میں مالی منفعت ہو گی۔ پہلے سے خسارے میں جانے والی کمپنیاں کچھ نہ کچھ صارف کو بھی ڈیلیور کر سکیں گی۔ اس سے تجارت کو تو فروغ ملے گا ہی، ساتھ صارفین اور تجارتی کمپنیوں کے درمیان تعارف، پہچان اور اعتماد کی فضا پروان چڑھانے کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے کاروباری بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس سالانہ گرینڈ سیل جس کا آپ کوئی بھی نام رکھ لیں۔ ہمارے عوام کے لیے اور تجارتی کمپنیوں کے لیے ثمر آور ثابت ہو گی۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمیں اپنی کمی کوتاہیوں اور خوبیوں، خامیوں کا بغور جائزہ لینا چاہئے۔ ایک الزام جو ہم مسلم کمیونٹی کے تاجر حضرات پرتواتر سے لگاتے ہیں۔ وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں ماہ مقدس، رمضان البارک میں چیزوں کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کرتی ہیں اور اشیائے ضرورت عام عوام کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کیوں لے لیا جاتا ہے کہ یہاں اس ماہ میں گرینڈ سیل رواج نہیں پاتی۔ اس سلسلے میں میں عرض کرتا ہوں کہ اشیائے ضرورت و اشیائے خوردونوش کو کنٹرول کرنا ضلعی و مقامی حکومتوں کا کام ہوتا ہے ، جس میں وہ ناکام رہتی ہیں اور چند ناجائز منافع خوروں کی وجہ سے پوری کمیونٹی بدنام ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میرا مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ اس بابرکت مہینے سے پہلے بھی گرینڈ سیل بڑی شان و شوکت سے لگائی جاتی ہے مگر چونکہ ہم تنقید کے بادشاہ ہیں ہم نے اس جملے کا رٹا لگانا فرض سمجھ لیا ہے کہ عیدین کے موقع پر ہمارے ہاں ہر شے کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں اس مفروضے اور قیاس سے نکلنا چاہیے۔ ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہئیے کہ جس میں انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کا عنصر کارفرما ہو۔ ہمیں ان عالمی ایام کو ان کے معروف ناموں سے نہیں بلکہ ان کے وسیع مقصد اور نصب العین کو ضرور جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، سوچ کی پستی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتی، جبکہ سوچ کی وسعت، گہرائی اور بلندی ہی ہمیں بلندی اور عروج تک پہنچنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں خوامخواہ کے بکھیڑوں سے الجھنے کی بجائے اپنے جیسے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی سعی و جد و جہد کرتے رہنا اپنی ترجیح بنا لینا چاہیے اور اس کی مسلسل و مستقل منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے۔