میلاد شریفِ مصطفیﷺ کی چند حکایات

24 نومبر 2017

میلاد شریف مسلمان بہت شروع سے ہی مناتے چلے آ رہے ہیں۔ مثلاً خلفائے راشدین کے صرف ۰۳۱ سال بعد یعنی امام شافعی کے زمانے میں بصرہ کے ایک خوش بخت شخص کی کہانی ملاحظہ ہو۔ یہ بصرہ کا ایک ایسا آدمی تھا جس کے اعمال سے بظاہر لوگ بڑے تنگ تھے۔ ہاں اس میں ایک بڑی خوبی تھی۔ اور تو شریعت کا کوئی حکم شاید نہ مانتا ہو، لیکن آقاﷺ سے عشق کی بناء پر جب بھی ربیع الاول آتا تو اپنے کپڑے دھو دھلا کر صاف کرتا، خوشبو لگاتا، دعوت کرتا اور اس میں میلاد شریف (یعنی سرکارﷺ کی پیدائش کے واقعات وخصائل وغیرہ پر مشتمل خطبہ یا تقریر) پڑھواتا اور لوگوں کو اس موقعہ پر کھلاتا۔ لمبے عرصے تک ایسا کرتا رہا۔ آخر جب مرا تو بصرہ والوں نے آسمانی آواز سنی: ’’اے بصرہ کے باسیو! اللہ کے اولیاء میں سے ایک ولی کے جنازے میں شریک ہوجاؤ!‘‘ یہ سن کر سارا شہر امڈ آیا اور بڑی دھوم دھام سے اس کا جنازہ پڑھ کر دفن کیا گیا۔ رات کو کچھ لوگوں نے اسے جنت کے اعلیٰ لباس میں ملبوس دیکھا۔ عرض کی اے حضرتِ ولیٔ کامل، ہمیں بھی نیکی کا نسخہ بتا دیجئے تو مہربانی ہو گی۔ فرمایا: ’’سرکارِ دو عالمﷺ کے میلاد شریف کی تعظیم سے یہ مرتبہ ملا ہے۔‘‘ (اسے مشہور عربی عالم علامہ فتح اللہ بنانی شافعی نے لکھا ہے۔)

سب سے پہلے سرکاری سطح پر ہزاروں لوگوں کو دعوت عظیم عادل بادشاہ حضرت صلاح الدین ایّوبی (رحمۃ اللہ علیہ) کے دور میں شروع ہوئی۔ آپ کے ہی ایک جنریل مظفر الدین کوکبوری آج تک اپنے میلاد شریف سے عشق کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ حضرت میلاد شریف کے موقعے پر سینکڑوں بکریاں اور گائیں ذبح کراتے اور کھلی دعوت دیتے۔ امراء اور سلطان صلاح الدین کے علاوہ عوام کے بھی ہزاروں لوگ دور دراز ممالک سے شریک ہو کر ثواب کماتے۔ آپ ہی کے عشق کو دیکھ کر اس وقت کے ایک بڑے عالم نے انہیں اپنی کتاب: ’’التنویر في مولد البشیر النذیر‘‘لکھ کر تحفۃً پیش کی۔ آپ نے اسے قبول فرمایا اور یہ سلسلہ بابرکت آپ ہی کے دور میں تمام دُنیا میں پھیلا۔ مراکش میں وہاں کے حاکم ابو العباس اللخمی السبطی نے میلاد شریف کے فضائل میں ایک کتاب’’الدر المنظم في المیلاد المعظم‘‘ لکھ کر اس سلسلۂ مبارک کو مزید چار چاند لگائے۔
علّامہ منصور بن ناشّار فرماتے ہیں: ’’میں نے سرکارِ دو عالم، حبیبِ خدا، سربراہ وشفاکارِ امتﷺ کو خواب میں دیکھاکہ آپﷺ میرے متعلق فرما رہے ہیں: ’اسے کہہ دو اس عمل کو نہ چھوڑے‘ آپﷺکی مراد میلاد شریف تھی۔‘‘ آگے یہی حضرت فرماتے ہیں: ’’میں نے شیخ ابو عبد اللہ الزرہونی(اللہ ان پر رحم فرمائے) کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارتِ شریفہ کا شرف حاصل کیا اور آپﷺ کے میلاد شریف منانے کے (فضائل کے)بارے میں فقہاء کے اقوال عرض کئے (تاکہ آپﷺ خوش ہوں)۔ آپﷺ نے (تائید میں) فرمایا: جو بھی ہمارے لئے خوش ہوتا ہے ہم اس کے لئے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ!
آٹھویں صدی ہجری کے عالم امام ابن جابر اندلسی علیہ رحمۃ الرحمٰناسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں ایک یہودی کو میلاد شریف سے محبت کی وجہ سے نہ صرف ایمان بلکہ سرکارﷺ کا دیدار بھی نصیب ہو گیا! فرماتے ہیں مصر میں ایک شخص ہر سال بڑے دھوم دھام سے میلاد کیا کرتا تھا، گویا آدھے شہر کو دعوت دیتا۔ اس کے مبارک گھر کے سائے میں ایک یہودی بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ یہودی بی بی نے اپنے شوہر سے ایک مرتبہ حیران ہو کر پوچھا: ’’ہمارا یہ مسلمان رشتہ دار ہر سال اس مہینے میں اتنا پیسا کیوں خرچ کر دیتا ہے؟‘‘ یہودی نے بتایا کہ یہ میلاد شریف ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسی مہینے میں آقائے دو جہاںﷺ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی، اس لئے آپﷺ کی آمد کی خوشی، استقبال اور تعظیم کی خاطر بغیر گنے پیسا بہاتے ہیں۔ یہ سن کر دونوں کے دلوں میں بھی ایک پل کے لئے سرکارﷺ کی محبت نے انگڑائی لی اور دونوں کافی دیر چپ رہ کر سوچتے رہے کہ یہ کیسی عظیم الشان، کیسی عاشق امت ہے کہ اپنے آقا ومہربانﷺ کی تاریخِ ولادت کو نہ صرف یاد رکھتی ہے بلکہ اس موقعہ پر درود پاک پڑھتی ہے، محفل سجاتی ہے، آپ پر صلاۃ وسلام بھیجتی ہے، غرباء کی دعوت کرتی ہے اور بے حساب مال لٹاتی ہے۔ آخر اس میں کوئی تو بات ہے، یوں ہی کسی عام آدمی سے ایسی محبت کیسے ہو سکتی ہے؟
چنانچہ جب بی بی رات کو سوئی تو دیکھا کہ ایک ایسی نورانی چہرے والی شخصیت اسی مسلمان پڑوسی کے گھر تشریف لا رہے ہیں جن کا تصور بھی ذہن میں نہیں آسکتا۔ ساتھ آپﷺ کے صحابہ کرام نے آپﷺ کو گھیرا ہوا ہے اور آپ کے فضائل ورتبہ کا بیان کرتے چل رہے ہیں۔ آپﷺ کے پیچھے یہ غیر مسلم محب بھی بے اختیار بھاگ پڑی۔ یہودیہ ہونے کی شرمندگی سے دل پارہ پارہ ہو رہا تھا، جگر چاک ہو رہا تھا، ماتھا پسینے پسینے ہو رہا تھا۔ لیکن سرکارﷺ نے اس بے چاری امتی کے ساتھ خوب حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا اور وہ فوراً مسلمان ہو گئی۔ ساتھ ہی قسم کھائی کہ اپنی تمام جمع پونجی ایک عظیم الشان محفلِ میلاد میں صرف کر دے گی۔
صبح اُٹھی تو دیکھا کہ اس کا شوہر نے پہلے ہی سب کچھ جمع کر رکھا ہے اور لوگوں کو دعوت دینے اور ایک جشن کی تیاریوں میں ہے۔ عرض کی: ٓآقا میں آپ کو آج ایک اچھا کام کرتے کیسے دیکھ رہی ہوں؟ اس عظیم بزرگ نے فرمایا: یہ سب اسﷺ کی خاطر ہے جس کے ہاتھ پر تم کل رات مسلمان ہوئی ہو! اس کے بدلے سرکارﷺ میری شفاعت فرمائیں گے۔

محفل میلاد

لاہور (پ ر) پاور ہائوس مغلپورہ میں سالانہ محفل میلاد کل ہوگی ایک خوش نصیب کو ...

محفل میلاد مصطفیؐ

لاہور (پ ر) داتا حضور میلاد کمیٹی کے زیراہتمام سالانہ محفل میلاد مصطفیؐ آج ...