برطانوی معاشرہ ؟

24 نومبر 2017

ترقی یافتہ ممالک کی صفیں ہوں، یو کے، یو ایس کے اعتدال پسند معاشرے، حتی کہ ہمارے پڑوس بھارت میں بھی معمولی پس منظر رکھنے والے شخص کو آگے بڑھنے ، اپنی صلاحیتں منوانے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے تک پہنچے کا مکمل حق دیا جاتا ہے پاکستانی جہاں جاتے ہیں قدر و منزرلت کی بلندیوں کوچھو جاتے ہیں۔ ایسے ہی قسمت کے کچھ دھنی ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوانے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کیا ۔خوداعتمادی کی بدولت انہوں نے غربت کی بے رحم لکیر وںکو پائوں کے نیچے روند ڈالااورمحنت اور لگن کی طاقت سے وہ مقام بنایا کہ آفاق کی بلندیاںبھی رشک کرنے لگیں۔ بے شمار پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی قسمت آزمائی کا فیصلہ برطانیہ جیسے خوبصورت اور ترقی پسند ملک سے کیا اور وہاں کے لوگوں کی محبت اور انصاف کے نظام نے انہیں اعلیٰ ترین درجے پر فائز کر دیا گیا۔ایک طویل فہرست ہے جسے صضحہ قرطاس کی زینت بنایا جاسکتا ہے جن میںسے چند کامیاب لوگوںکامثا ل کے طور پرذکر کرنا ضروری ہے۔لندن اس وقت دینا کے عظیم ترین شہروں میں سے ہے ۔ درجن سے زیادہ پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کے ممبرز ہیں یا رہیں ہیں۔خالد محمود، شبانہ محمود،روزینہ علین خان،نصرت گیلانی،ساجد جاوید، رحمان چشتی،لارڈ نذیر احمد،لارڈطارق احمد،لارڈ قربان حسین، بیرونس سعیدہ وارثی، بیرونس نوشین مبارک،انس سروراور ہنزلہ ملک امیدکی وہ داستاتیںہیں جنہوں نے اپنی محنت اور خلوص کے بل بوتے پر برطانیہ جیسے تیز رفتارملک میں کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑے اور ثابت کیا کہ ’ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا ۔وہ کون سا عقدہ ہے جو واہ ہونہیں سکتا‘۔ 

1992میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے محمد یاسین بی کام کی ڈگری لیے بیڈ فورڈ پہنچے۔ انکے والد ٹرک ڈرائیور تھے ۔ محمد یاسین نے شروع میں ایک فیکٹری میں جاب کی اور وہیں پر لیبر یونین سے متعارف ہوئے۔ کچھ عرصے بعد ملازمت چھوڑ کر ٹیکسی چلانے لگے مگر سیاست کو نہیں چھوڑا۔ پھر لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور کمیونٹی کا کام بھی ساتھ ساتھ کرتے رہے۔کونسلر کا انتخاب جیتے اوربدستور ٹیکسی چلاتے رہے۔ اب لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کرممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ پاکستانی نثاد برطانوی شہری محمد یاسین کہتے ہیں کہ میں ٹیکسی ڈرائیور سے ممبر آف پارلیمنٹ بنا جس دوران مجھے ٹکٹ کے حصول یا الیکشن کے اخراجات کے لیے جیب سے ایک روپیہ بھی نہیں لگانا پڑا کیوں کہ یہی اس نظام کی خوبصورتی ہے کہ اگر کسی میں ٹیلنٹ ہے اور وہ ملک و قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے تو اسے آگے آنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں دیکھیں تو پتہ چلتاہے کہ ہمارا معاشرہ اب بھی کتنا پیچھے ہے اور موروثیت کی بھینٹ چڑھنے کیساتھ ساتھ اشرافیہ کے ہاتھو ں میں کیسے مقید ہے۔ نر یند ر مودی کاخاندان آج بھی غریب ہے اور اس کا والد چائے کا ٹھیلا لگاتا تھااور خود چائے بیچتا تھا۔پھر سیاست میںآنے کے بعد وہ 2001ء میں وزیر اعلیٰ اور پھر 2014ء میں بھارت کا وزیراعظم بنا۔ باراک اوبا مہ اور کلنٹن غریب اوریتیم تھے لیکن عدول و انصاف کے نظام نے انہیں دنیا کے طاقتورترین ملک کا صدر بنا دیا۔
ہمارا پیار ا ملک پاکستان برسوں سے بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ ، فرقہ پرستی ، بد امنی اور ناانصافی کی چکی میں پس رہا ہے اور کوئی نہیں ہے جو اس کی آبیاری کا صحیح معنوں میں حق ادا کرے اور دہرے نظام زندگی کو عام و خاص کے لیے برابر کر دے۔ پاکستان میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک آدمی یا کسی چھوٹی پارٹی کا غریب سربراہ ملک کا سربراہ بن جائے ۔یہاں غریب کو وہ مقام کبھی نہیں مل سکتا جو امیر کو حاصل ہے۔ہمارے ہاں حکمرانوں کا عامی کے مسائل سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔امراء کا شرفاء سے کوئی رابطہ نہیں ہے امیر زادوں کو ملک کی لوٹی دولت نے اتنا مدہوش کر دیا ہے کہ مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ ، قتل وغارت گری ، غیرت کے نام پر قتل اور ظلم کے ننگے ناچ کے باوجود انہیں ٹس سے مس نہیں ہوتی اور وہ ملک کو پہلے سے کہیں بہتر گردانتے نظر آتے ہیں ۔ گھنٹوں گھنٹوں لائٹ نہ ہو، ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں ہوں، 70فیصدر سے زائد آبادی کو پانی ، صحت ، تعلیم جیسی بنیادی ضروریات میسر نہ ہوں تو بھی انہیں کیا فکر ہے کہ ان کے ہاں تو قومی خزانے کی ان گنت دولت آتی ہے اورسرائے محل ، جاتی امرا، بلاول ہائوس، بنی گالہ ، ترین شوگر ملزاور حدیبیہ پیپرز ملز میں غرق ہوجاتی ہے ۔ ان سنگ دل عیاش حکمرانوں میں سے زیادہ کی اولایں تو دبئی، لندن اور امریکہ کی ریاستوں میں پیدا ہوئی ہیں اور وہیں کی نیشنلٹی اور شناخت رکھتی ہیں ۔
دیوانے کا خواب لگتا ہے کہ کبھی پاکستان قوم کو پاکستان کا فخر سمجھا جائے گا اور اس کے جائز حقوق اسے دیے جائیں گے۔ کاش کہ ہمارے معاشرے کے عام لوگ بھی اپنی محنت اور کوشش سے کسی بڑے مقا م پر پہنچ پائیں اور کسی بڑے محکمے میں بھرتی ہوسکیں یا کسی اعلی عہدے پر پہنچ سکیں۔کوئی عام انسان رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہمارے ملک کا فرسودہ انتخابی نظام ، طریقہ کار اور میکنزم یکسر تبدیل ہوگا، اسلحے ، پیسے اور گاڑیوں کی گھن گرج کو انتخابات کے ماحول سے دور رکھا جائے گا ، انتخابات پر اخراجات کو الیکشن کمیشن طہ کرے گا اور خلاف ورزی پر فوری ایکشن لے گا، ٹکٹ کے حصول پر پارٹی فنڈنگ کے نام پر اربوں روپیہ کی پارٹی رشوت اور ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے گا ۔اورفئیر نتائج کی خوشخبری سے عوام کو ہمکنار کرے گا۔یاد رکھیئے! موروثی پارٹیوں ، الیکشن کمیشن اور عدالت کو یہ سوچنا ہوگا کہ جب تک عام آدمی قومی اسمبلی کا ممبر نہیں بنے گا جب تک ملک میں امن و امان کا قیام ناممکن ہوگا۔برطانیہ میںبس ڈرائیور کا بیٹا صادق خان لندن کا بااختیار میئر بن گیا۔ سچ ہے کہ زندہ قومیں وقار سی جیتیں ہیں اور ہم وقار سے کب جیے تھے یاد نہیں۔