تحریک لبیک یا رسول اﷲ

24 نومبر 2017

پچھلے پندرہ دنوں سے راولپنڈی اسلا م آباد کے سنگم پر خادم رضوی صاحب کی قیادت میں تحریک لبیک یا رسول اﷲ کے کارکنان اور رہنما اپنا مورچہ لگا ئے ہوئے ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ آئین میں جو ترا میم مرذائیوں کو خوش کرنے کے لئے کی گئی ان کو نہ صرف مکمل طور پر ختم کیا جائے بلکہ ان کو کرنے والے وزیر قانون کو برطرف کیا جائے۔یہ بھی پاکستان میں المیہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اﷲ کے نعرے کی بنیاد پرجس جماعت نے پاکستان بنایاآج اُسی نے ترمیم کر ڈالی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام ترامیم مکمل طور پر بدنیتی پر مبنی تھیں جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی عام آدمی کو نہ تو ان ترامیم سے کوئی فائدہ تھااور نہ ہی یہ عوامی مطالبہ پر شامل کی گئیں بلکہ یہ امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لیے شامل کی گئیںامریکہ کا حالیہ بیان اس کا واضح ثبوت ہے۔افسوس یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے تمام مسلمان اس بد نیتی کو نہ پڑھ سکے نہ سمجھ سکے جب پارلیمنٹ ان پڑھوں پر مشتمل ہوگی تو ایسے ہی فیصلے کرے گی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پارلیمینٹیزین قانون سازی میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں علماء اکرام نے آواز تو اُٹھائی لیکن بڑی دھیمی لیکن خادم حسین رضوی نے پوری قوت کے ساتھ اس بل کے خلاف تحریک برپا کردی پہلی مرتبہ بریلوی مکتبہ فکر کے لوگوں کا کوئی مستند رہنما اس قوت کے ساتھ حکومت کے سامنے کھڑا ہوا بلکہ آج تک ڈٹا ہو اہے اس مطالبہ کو پزیرائی مل رہی ہے ۔جمعہ کو میں خود میں وہاں موجود تھا پنڈی کی عوام جوق در جوق اس تحریک کا حصہ بن رہے تھے گویا پورا راولپنڈی اُمنڈ آیا تھا لوگ کھانا کمبل لباس خشک میوہ جات لے جارہے ہیں اور وہ اس مطالبہ کو جائز سمجھتے ہیں۔میں نے وہاں پر تمام جماعتوں کے دوسرے درجے کے رہنمائوں اور بے شمارکار کنوں کو دیکھا جو والہانہ انداز میں لبیک یا رسولؐ اﷲ لبیک یا رسولؐ اﷲ کے نعرے لگارہے تھے اورنتائج سے بے پرواہ تھے تمام تر حکومتی جبر کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اورحکومت کا مکمل بائیکاٹ جاری رہا۔
مجھے امید تھی کہ دوسری مذہبی جماعتوں کے سربراہ بھی اظہار یکجہتی کے لئے پہنچے گے لیکن افسوس کہ وہ صرف نعروں سے آگے نہ بڑھ سکے بلکہ بعض کو تو سانپ ہی سونگھ گیا ہے جس نبیؐ کے نام لے کر ساری عمر کھاتے رہے اورلوٹتے رہے جب وقت آیا توفقہی متعصب نکلے۔
لیکن عوام رضوی کے ساتھ ہوچکی وہ کسی مصلحت کا شکار نہیں ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ رضوی صاحب جوش خطابت میں مخالفیں کو بری طرح لتاڑتے ہوئے حد سے بھی گزرجاتے ہیں آفریں ہے ایک بوڑھے معزور بزرگ رضوی پر جو اس ہمت اور جرات سے لبیک یا رسول اﷲکی تحریک برپا کر کے ایک نیا پیغام عوام کو دے رہا ہے اور دین کے ساتھ لوگوں کو جوڑ رہا ہے۔
اس ترمیم کی بنیاد پر ن لیگ نے اپنی قبر خود کھود لی ہے وہ جتنا مرضی جتن کرے عوام کے دل میں دبارہ جگہ نہیں بنا سکتی۔یہ بات درست کہ عام لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کچھ کاروباری افراد کو بھی نقصان ہو رہا ہے لیکن رحمتلل آلمین کی حرمت کہیں زیادہ اہم ہے ایک دو گھنٹے زیادہ سفر میں لگ رہے ہیں لیکن حکومت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بے نقاب ہو رہی ہیںجس کا خمیازہ اُن کو اگلے الیکشن میں بھگتنا پڑے گایہ اب پوری قوم کا مطالبہ بن چکا ہے ذمہ دارافراد کو برظرف کیا جائے راجہ ظفر الحق فورََا شائع کیا جائے یا وہ خود پریس کانفرنس کر کے اپنا نام تاریخ میں سر بلند کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ان پر تشدد کیا گیا تو پھر پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آئے گا اس سے گریز ہی ملک و ملت کی بہتری ہے انتشار کسی کے مفاد میں نہیں ہیاس کا حل مزاکرات کے زریعہ حکومت کے پاس ہے جنھوں نے انتشار کو شروع کیا وہ ہی ختم کر سکتے ہیں۔