تصویر کا دوسرا رخ

24 نومبر 2017

مکرمی! فیض آباد کا دھرنا ایک حساس نوعیت کا مسئلہ ہے جسے کچھ لوگ عام مسئلہ سمجھے ہوئے سیاسی، ذاتی مفاد اور پوائنٹ سکورنگ کی بات کرتے ہیں۔ ایک معزز کالم نگار نے فیض آباد دھرنے پر تفصیلی کالم لکھا کہ ایک قانون بہت سبک رفتاری سے منظور کیا تھا ،اس قانون میں چند تبدیلیاں کی تھیں جنھیں فیض آباد میں دھرنا دے رہے بغیر کسی بحث کے پارلیمان نے فوراً اپنی خطا کا اعتراف کر لیا اور بہت ہی تیز رفتاری سے بظاہر نادانستگی میں ہوئی غلطی کا ازالہ بھی کر دیا۔ دھرنا دیے افراد اب ذمہ داروں کی نشاندہی چاہتے ہیں ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دھرنے والے کسی ذاتی یا دنیاوی مصلحت کی خاطر نہیں بلکہ مطلقاً ختم نبوت کے مسئلہ پر اٹھ کھڑے ہیں پھر کالم نگار کا کیا مطلب ؟ مزکورہ کالم نگار حکومت کو نصیحت کرنے کی بجائے مظاہرین کو نصیحت کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مظاہرین کے علاوہ بھی مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جو بوجوہ دھرنے میں شریک نہیں وہ ان کی ہمنوا ہے۔ گویا کالم نگار نصیحت کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ان علمائے کرام سے اس سلسلے میں زیادہ مذہبی علم رکھتے ہیں۔ غلطی کرنے والے کی نشاندہی کرنا اور اسے کماحقہ سزا دینا دینا و دنیاوی تقاضا ہے۔حکومت اس حساس مذہبی معاملہ میں ایسا کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟ میرے علم کے مطابق پرویز مشرف کے دور میں معزز ججوں کی معزولی کے وقت بھی یہی وزیر قانون تھے، اگر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت پرویز مشرف پر مقدمہ چل رہا ہے تو آرٹیکل چھ دو کے تحت ملزمان کو تحفظ کیوں دیا گیاہے۔ اس طرح حساس دینی معاملہ میں بھی حکومت جان بوجھ کر ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ اتنی ہی نادانستہ ہے کہ اسے حساس مسئلہ پر قانون سازی کا پتہ نہیں چلتا تو ایسی پارلیمنٹ پر افسوس ہے۔ اگر دھرنے کی وجہ سے کوئی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی لہذا ضروری ہے کہ وزیر قانون کے بارے میں فی الفور فیصلہ کیا جائے ؛ (آنریری کیپٹنر شاہجہان خٹک، گائوں کانی مکھڈ روڈ، تحصیل جنڈ)