میرے دھیان میں ہے

24 نومبر 2017

ہمارے کراچی کے بہت محترم بزرگ شاعر رونق حیات کا ایک شعر جو یقیناً کسی اور پیرائے میں تھا مگر مجھے کسی اور حوالے سے بار بار یاد آرہا ہے کہ

میرے یقین میں ہے اور مرے گمان میں ہے
کہیں بھی جائوں ہمیشہ وہ میرے دھیان میں ہے
گو کہ ان کا نظریہ خیال اس غزل اور شعر کے حوالے سے یقیناً ان کا محبوب رہا ہو گا۔مگر میری ساری سوچ ،ہر خیال ہر نظریہ صرف میرے محبوب میرے کشمیر کے گرد ہی گھومتا ہے۔ اور اس شعر کو میں ہمیشہ اسی حوالے سے یاد رکھتی ہوںکہ میں چاہے کہیں بھی ہوں ،کسی حال میں بھی ہوں،کسی حوالے سے بھی ہوں میرے دھیان میں اور میرے گمان میں ہمیشہ کشمیر بستا ہے چاہے دیارِ غیر میں کہیں ادبی نشستیں سجی ہوں تو میرے ہر دوسرے پیرائے میں کشمیر کی دھرتی کا ذکر ہوتا ہے۔ چاہے اردو زبان کے فروغ کیلئے شعری محافل ہوں تو میری ہر غزل میں کم از کم ایک شعر کشمیر کے نام ہوتا ہے۔چاہے دوسرے ممالک میں لکھنے اور بولنے کے حوالے سے کانفرنسنزکا انعقاد ہوں میرے لب پر صدائے کشمیر ہی بلند ہوتی ہے۔اگر کوئی اعزازی محفل ہو تو مجھے کشمیر کے نام کے بغیر کوئی اعزاز ہی نہیں جچتا جب مجھ جیسی ایک عام کشمیری لڑکی صرف اور صرف کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کیلئے اپنے کشمیری بھائیوں اور باپوں کے بہتے ہوئے لہو کے حوالے سے دنیا کو متوجہ کرنے کیلئے اپنی مظلوم کشمیری بہنوں اور مائوں پر مہذب دنیا کی بند آنکھیں کھولنے کیلئے، اپنے معصوم کشمیری بچوں کی کھوئی ہوئی پیشانی کے حوالے سے انسانی حقوق کے چیمپئنز کی رگِ انسانی جگانے کیلئے اپنے ہر فعل اور ہر عمل کو (جو کہ شاید اتنا باوقعت نہ بھی ہو)کشمیرکے کے حوالے سے وقف کر سکتی ہے تو آخر کیا مجبوری ہے کہ وہ لوگ جن کو صرف اسی کام کے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ، جن کا کام ہی صرف اور صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے وہ ایسا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔جن کا اٹھنا بیٹھنا اور سونا جاگنا صرف اور صرف کشمیر کے حوالے سے ہونا چاہیے انہیں کیوں یہ کام ِ دشوار نظرآتا ہے۔آج کل صدرِ آزادکشمیر جناب سردار مسعود خان کا حالیہ دورہ برطانیہ بھی کافی متازعہ خبروں کی زد میں ہے اور ایک ٹی وی چینل اور کچھ شخصیات نے ان کے ایک فلاحی ادارے (تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم) کے ڈنر کو بہت منفی تاثر دیکر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ جناب مسعود خان بھی ان ہی شخصیات کی صف میں شامل ہیںجن کے پیش نظر مسئلہ کشمیر نہیں بلکہ ذاتی مفاد اور تفریح ہے۔کچھ پارٹیوں کے لیڈران کرام بھی اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے تندوتیز بیانات دینے میں مصروف عمل ہیں لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ ان لیڈران کرام کو مسئلہ کشمیر سے کتنی دلچسپی ہے اس کا اندازہ ان کے سابقہ دوروں کے حوالے سے بھی کافی حقائق موجود ہیں جنہیں نہ نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کی یاداشت اتنی خراب ہے کہ انہیں سر اسر فراموش کر دیا جائے جبکہ اس کے برعکس سردار مسعود خان کے لئے بیرونی دورے کوئی نئی چیز نہیں ہیں کہ وہ کشمیر سے باہر نکلتے ہی آپ سے باہر نکل جائیں بلکہ ان کے ایک طویل سفارتی دور میں جہاں وہ سفارتی اور دفتر خارجہ کے اْمور کی انجام دہی کیلئے پاکستان میں اپنے فرائض تندہی سے ادا کرتے رہے اس کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں بھی انہوں نے اپنے سفارتی امور کو موثر طریقے سے سر انجام دیا۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے بھی وہ ایک سادہ طرزِ زندگی کے حامل ہیں اور آج ان پر طنز وتنقید کے نشتر برسانے والے در حقیقت اسی بھارتی طرزِ فکر کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں جسے ان کے صدر ا آزادکشمیر کے عہد ے پر فائز ہونے سے یہ پریشانی لاحق ہے۔ کہ ایک نامور سفارتکار مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جس بہتر انداز سے کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھا سکتا ہے وہ یقیناً کسی سیاسی لیڈر کیلئے آسان نہیں ہے۔
اس لئے سردار مسعود خان کی صدر نامزدگی کے ساتھ ہی ایک مخصوص لابی نے اس کی مخالفت شروع کر دی تھی اور اب بھی در پردہ اسی حوالے سے کام جاری ہے اور اس چیریٹی ڈنر کا یہ حصہ بھی کسی سازش کا نتیجہ ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ جس پلاننگ اور سازشی ذہنیت کے تحت اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کام کرتی ہے اس کانفرنس کی منفی رپورٹنگ اسی ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتی ہے تا کہ ایک با شعور کشمیر ی لیڈر کی کردار کشی کر کے اسے بھارت میں انسانی حقوق کے حوالے سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے سے روکا جا سکے۔گزشتہ مہینہ لندن کے دورہ کے دوران یہ حقیقت مجھ پر بخوبی عیاں ہوئی کہ کس طرح بھارتی ایجنسیاں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی انسانیت سوز حرکتوں پر پردہ ڈالنے اور اسے مزید پیچیدہ بنانے کیلئے نام نہاد کشمیری نمائندگان پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تا کہ اپنے مطلب کے بیانات اور نتائج حاصل کئے جا سکیں۔لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو خو د تلاش کریں اور یہ طے کرلیں کہ ہم جہاں بھی موجود ہیں دنیا کے جس بھی خطے میں ہیں جس بھی حیثیت میں ہیں ہر حال میں اور ہر خیال میں کشمیر کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنا کے رکھیں گے۔اور ہر سطح پر کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو دنیا کی نظروں میں اجاگر کریں گے۔یقین کیجئے کہ ہم نے اپنی حیثیت میں اگر صرف ایک شخص کو بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہ کر دیا اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک کر دیا تو وہ دن دور نہیں کہ جب بھارت بیرونِ ممالک اور اپنا چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا اور اسے مجبوراً کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت دینا ہی پڑے گا۔