ذوالفقار علی بھٹو کا وژن اور پیپلز پارٹی

24 نومبر 2017

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے بنیادی تصور اور پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’ پاکستان ایک اعلیٰ نصب العین ہے اِس ملک کو خدا نے بنا یا یہ ترقی پسندنظریہ ہے یہ ایک حسین تصور ہے اور تخلیق کی معراج ہے یہ محض سندھ کا ریگستان نہیں ہے بلوچستان کے سرداروں کا نام نہیں ہے بنگال کی سحر انگیز شادابی نہیں ہے پنجاب کا حسن پرور میدان نہیں ہے پٹھانوں کی سرزمین جرات نہیں ہے یہ محض 10کروڑ بہادر اور جیالوں انسانوں کا وطن نہیں ہے حقیقت میں پاکستان ان تمام خوبیوں کے مجموعے کا نام ہے پاکستان اسلامی قومیت کے جذبے کی تخلیق ہے پاکستان ایک عالم ِ آفرین نظریہ کا نتیجہ ہے یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس کو تاریخ کے قلب سے تراشہ گیا ہے ‘‘ ۔ اُنہوںنے پاکستان کی پیپلز پارٹی کے لئے کہا تھا ’’ یہ پارٹی شخصی نہیں اصولی ہوگی جو عوام کی آزادی کے لئے ہر قربانی دے گی سوشلزم کے اُصولوں کو اپنائے گی عوام اور آزادی‘ صحافت کے لئے جدوجہد کرے گی مجھے حالات نے نہیں بلکہ میرے ضمیر نے مجبور کر دیا ہے کہ میں فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے بوجھ تلے پسنے والے عوام کو آواز دوں اور متحدو منظم کروں ۔ پیپلز پارٹی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے گائوں گائوں گھر گھر جائے گی اور عوامی حاکمیت کی بحالی کے لئے ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کرے گی ہم عوام کو تمام حقوق دلاکر دم لیں گے کوئی طاقت ہمارے ارادوں کو بدل نہیں سکتی مجھے جذباتی کہا جاتا ہے لیکن میں جذباتی نہیں بلکہ غیرت مند ہوں پاکستان کی معیشت پر قابض سرمایہ داروں کے استحصالی ہتھکنڈوں کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کا مقصد سرمایہ داروں کے اِس ظلم کو ختم کرکے سوشلسٹ نظام رائج کرنا ہے جب عوام کی آزادی اور اُن کے حقوق چھین لیے جائیں جب ملک میں بے چینی موجود ہے جب ملک کے سارے عوام اپنے حقوق کے لئے چیخ رہے ہوں تو میں عوامی حقوق کی بحالی اقتصادی مساوات اور اسلامی سوشلزم کی بات نہ کروں تو اور کیا کروں ۔ایک اور موقع پر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ’’ میری جدو جہد کا مقصد قومی احیاء ہے میں قائد اعظم اور اقبال کا جھنڈا سر بلند رکھنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا پر ثابت کر دیا جائے کہ 10کروڑ بہادر عوام کی اسلامی مملکت اوجِ کمال تک پہنچ سکتی ہے اور جس آزادی اور مساوات سے اِسلام نے تہذیب کا چراغ روشن کیا۔ میری آرزو ہے کہ ایک عدل و انصاف کا وہی نور ایک بار پھر دل افروز تقاضوں کے اجتماع کو خوبصورتی عطا کردے میری آرزو ہے کہ ہمارے عوام اخوت کے جذبے سے سرشار ہو کر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ شاہراہ ترقی پر گامزن ہوں اور مساوات کی آب وتاب میں یکساں حصہ دار ہوں یہ تھا قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا وہ وژن جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی بنائی گئی پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو صاحب کی قیادت میں مندرجہ بالا وژن پر عمل درآمد کرسکی یا نہیں یہ ایک علیحدہ موضوع ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ابتدائی سالوں میں معلوم ہوتا تھا کہ بھٹو صاحب پاکستان کو ایک عظیم ملک بنا دیں گے کیونکہ اُنہوں نے جن نامساعد اور بحرانی حالات میں اقتدار سنبھالا تھا وہ غیر یقینی حالات تھے اگر بھٹو صاحب کے علاوہ اور کوئی شخصیت ہوتی تو شاید اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد ہی مستعٰفی ہونے پرمجبور ہو جاتی پاک بھارت جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ ایک شکست خوردہ اور اِستحصال زدہ قوم کی آخری اُمید بن کر اُبھرے انہیں ملک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے کئی نازک اور ازیت ناک آزمائشوں سے گزرنا پڑا کٹھن جدوجہد کے ریگ زاروں کو عبور کرتے ہوئے جب وہ 20دسمبر1971کی سرد رات کو ریڈیو پاکستان سے اپنے مایوس اور مضطرب عوام کو مخاطب ہوئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اُنہوں نے اپنی روح کو لفظوں میں سمودیا ہے اُن کی دکھی لیکن پر عزم دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہیں تھیں اور اُن کی آواز ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو نئی توانائی عطا کر رہی تھی وہ ظلم و شکست کی سیاہ رات کے بعد بھرپور توانائی کا سورج بن کر اُبھرے وہ ایک نئے دور کے نقیب اور معمار بن کر سامنے آئے۔ اِس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست کے لئے زمین ہموار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پر چھا گئی ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں ایک چمکدار ستارے کی طرح آئے اور اِسی طرح چمک کر تیزی سے غائب ہو گئے یا یوں کہیے پاکستان کو ایک بھیانک بحران سے نکالنے کے لئے آئے اور اپنا کام ختم کرکے تاریخ میں ایک اعلیٰ رہنما اور مدبر کی حیثیت سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے ۔آج ملک کے موجودہ حالت میں پیپلز پارٹی کے مقام کو دیکھ کر دن خون کے آنسو روتا ہے کہاں وہ عروج اور کہاں یہ زوال روٹی کپڑا اور مکان کو کرپشن کھا گئی 10برس سے صوبہ سندھ میں بااختیار حکومت ہونے کے باوجود بھی آج سندھ کے غریب عوام کے پائوں میںجوتی نہیں پیٹ میں روٹی نہیں تن پر کپڑا نہیں پھر بھی بھٹو صاحب اور شہید بے نظیر بھٹو کی محبت میں ڈوب کر جئے بھٹو کا نعرہ بلند کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بھوک ، افلاس ، غربت اور بے روزگاری سے نجات کے لئے منتظر ہیں میری دُعا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھٹو ازم پر چلنے اور بھٹو وژن کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں ۔