‘‘ دھوکے باز ‘‘ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا`

24 نومبر 2017

پاکستان میں لوگ اسلام کے نام پر بھی سادہ لوح عوام کو دھوکا دینے سے پرہیز نہیں کرتے ،چاہے وہ حج جیسے مقدس فریضے اور عْمرے کے نام پہ ہو یا پھر ایران اور عراق میں جانے والے عقیدت مندوں سے پیسے بٹورنے کے نام پہ ہو۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ایک تحریر بھیجی جس میں ایک تحقیق کا ذکر تھا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں بکنے والی فارمی مرغی کس قدر نقصان دہ ہیں بلکہ تحقیق میں اس مرغی کے اثرات کو ایک ایسے جانور سے جوڑا گیا تھا جس کا نام لینا بھی ہمارے مذہب اسلام میں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دنیا کا ہر جعلی کام جس کا وجود ہے سرِعام کیا جاتا ہے۔ یہاں انسانیت کے دشمن لوگوں کو گدھے اور گھوڑے تک کھلا دیتے ہیں پھر فارمی مْرغی تو حلال چیز ہے بشرطیکہ زندہ حالت میں حلال کی جائے کیونکہ ہمارے ملک میں تو مْردہ کو بھی زندہ میں شامل کر کے بیچ دیا جاتا ہے۔کہنے کو تو سب مسلمان اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں چاہے انکی وجہ سے کسی انسان کی جان بھی چلی جاتی ہو ، لیکن ہم بدقسمتی سے اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن کام مسلمانوں والے تو دْور انسانوں والے بھی نہیں کرتے۔ جعلی ادویات بنا کر لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا ، دْودھ کو خالص بنانے کے لیے اس میں طرح طرح کی ملاوٹیں کرنا ، بڑے بڑے برانڈڈ مشروبات کے نام پر جعلی مشروبات بنانا اور لوگوں کو حلال کی بجائے حرام چیز کھلانا اگر انسانیت دشمن کام ہیں تو پھر یہ کام کرنے والے اپنے آپکو مسلمان تصور بھی کیسے کرسکتے ہیں ؟ یہ سب ایسے کام ہیں جن میں براہ راست انسان کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے یعنی کہ ان کاموں سے کسی بھی انسان کی جان جا سکتی ہے۔ اور یہی چیز ہمارے مذہب اسلام میں منع کی گئی ہے اور ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف ہر کھانے والی چیز کو خالص بنانے کے لیے طرح طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں وہاں دوسری چیزوں جو کہ انسان اپنے لیے استعمال نہیں کرتا میں ملاوٹ کرنا تو پھر نعوذباللہ جائز ہی سمجھا جاتا ہوگا۔ کیونکہ ہمارے ہاں ایک ہی چیز میں اتنی زیادہ ورائٹیاں دستیاب ہیں کہ بندہ چکرا جاتا ہے کہ اس میں سے اصلی کون سی ہے اور نقلی کونسی۔ستم بالائے یہ کہ مارکیٹ میں چائنا کی چیزوں نے بھرمار نے ‘‘ دو نمبر دھندہ ‘‘کرنے والوں کا کام مزید آسان کردیا ہے کیونکہ دو نمبر یا گھٹیا کوالٹی کی چیز کو چائنا کا قرار دے کر باآسانی فروخت کیا جا سکتا ہے۔اوپر جس فارمی مْرغی کا ذکر کیا ہے وہ بذات خود تو مصنوعی طریقہ سے پیدا کی ہی جاتی ہے اور تو اور اْس کو کھِلائے جانے والی خوراک میں دْنیا جہان کی غلاظت شامل کر کے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی جاتی ہے۔ خیر اس کاروبار کو تو اب کاروبار ہی سمجھا جاتا ہے نہ کہ انسانیت کی خدمت۔ اس کے علاوہ ہم روز مرہ استعمال کی اشیاء کا ذکر اگر شروع کر دیں تو شاید ایک لمبی فہرست بن جائے جو کہ ہم لوگوں کی زندگی کا لازمی جزو ہیں مثلاً کوکنگ آئل ، گھی ، گرم مصالحے ، دودھ ، بیکری کی تمام اشیاء اس قدر ملاوٹ کا شکار ہیں کہ آئے دن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایسے اسکینڈلز کو منظرِعام پر لاتا بھی رہتا ہے لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ یوں کہیں کہ یہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور دونمبری کے نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں۔ہم لوگوں کا وتیرہ ہے کہ ہم ہر بْرے کام کو امریکہ اور یہودیوں کی سازش قرار دے کر راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں اور خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں حالانکہ غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں ہر چیز خالص اور ملاوٹ سے پاک میسر ہوتی ہے ، کیا پاکستانی عوام کو گدھے کھلانے میں بھی امریکہ ملوث ہے ؟ کیا پاکستان کے غریب اور بے روزگار لوگوں کو بیرونِ ملک بھیجنے کا جھانسہ غیر ملکی ایجنٹ آ کر دیتے ہیں ؟ کیا لوگوں کے خون پسینے کی جمع شدہ کمائی یہودی ایجنٹ حج اور عمرے کے نام پہ لْوٹ لیتے ہیں ؟ یقیناً ان تمام گھٹیا کاموں میں ہمارے اپنے لوگ ہی ملوث ہوتے ہیں جو کہ لوگوں کو اپنے ظاہری لبادے سے دھوکے کا شکار کرتے ہیں۔اس لیے ‘‘ دھوکے باز ‘‘ کو خود کو مسلمان کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے ، چاہے وہ ہر سال حج کرے ، زکوٰاۃ دے ، نمازیں پڑھے ، اور غریبوں کی مدد بھی کرے تو بھی اْس کی عبادات شاید قبول نہ ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر چیز کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ مذہب ہی کیوں نہ ہو۔ ہر بْرا کام کر کے مذہب کی آڑ لینا دھوکے باز کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جو کہ یقیناً اپنے آپ کو جھوٹی تسلی اور لوگوں کو دِکھاوے کے لیے ہوتی ہے۔ اسے ہم دْوسرے الفاظ میں قول و فعل کا تضاد بھی کہہ سکتے ہیں۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جب کسی بھی معاشرے میں انصاف کی عدم فراہمی ، عوام کے بنیادی حقوق کی عدم دستیابی اور غریبوں کا استحصال ہو تو پھر معاشرے میں طرح طرح کی بْرائیاں جنم لیتی ہیں اور ان بْرائیوں کو بنیادی طور پر ہم انتقامی کارروائی بھی تصّور کر لیں تو کوئی حرج نہ ہوگا۔ ظاہر ہے جب غریب ‘‘ غریب تر ‘‘ اور امیر ‘‘ امیر تر ‘‘ ہوتا چلا جائے گا تو پھر احساس کمتری اور راتوں رات امیر ہونے کی خواہش نے لوگوں کو دھوکے بازی اور دو نمبری پر مجبور کر دیا ہے۔ ان بْرائیوں میں غریب تو ملوث ہے ہی سہی ، بڑے بڑے بزنس مین اور صنعت کار بھی اسی دھندے میں ملوث ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں انسانیت کو ہی پسِ پْشت ڈال چکے ہیں۔اس وقت ہمارے مْلک کا یہ حال ہے کہ اصلی اور ایک نمبر چیز کا ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے کیونکہ ہر چھوٹا بڑا صرف اور صرف ذاتی مفاد کے لیے کام کر رہا ہے چاہے وہ سیاستدان ہو ، سرکاری افسر ہو یا پھر کسی چھوٹی سی دْکان والا ہو۔ کسی نے بھی دوسرے کا بھَلا یا بْرا نہیں سوچنا بلکہ صرف اور صرف اپنے مفاد کو ہی ترجیح دینی ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دھوکے باز کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قومیت ہوتی ہے کیونکہ اْس کا مذہب اور قوم صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے۔ دھوکے باز نہ مسلمان ہوتا ہے ، نہ ہندو ، نہ عیسائی اور نہ ہی یہودی ہوتا ہے۔