امام احمد رضاؒ اور معاصرین سندھ

24 نومبر 2017

ڈاکٹر محمد لائق زرداری نے ’’سندھ کی سیاسی جدوجہد(1843ء 1936ئ)‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی سے 16برس قبل ہی انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تھا‘ لیکن جیسے ہی میرٹھ وہندوستان کے دیگر مقامات پر رونما بغاوت کی خبریں سندھ پہنچیں یہاں بھی فوج میں بغاوت کے جذبات بھڑک اٹھے۔ 13ستمبر 1857ء کی شب میگ گریگر (انگریز فوجی افسر) کو تصدیق شدہ خبر ملی کہ 21ویں رجمنٹ رات 2( دو ) بجے بغاوت کرنے والی ہے اور باغی 16ویں ارجنٹ سے بھی رابطے میں ہیں۔ اس نے کراچی چھائونی کے بریگیڈیئر کرنل لوٹھ سے مل کر رجمنٹ کو نہتا کرکے 25جوانوں کو حراست میں لے لیا۔ کورٹ مارشل کے بعد 3باغیوں کو توپوں کے منہ پر کھڑا کرکے عوام کے سامنے اڑا دیا گیا ‘ جبکہ 7کو پھانسی ہوئی اور کچھ کو کالے پانی بھیجا گیا۔ ایسی ہی بغاوت حیدرآباد کی 13نمبر پلٹن اورسکھر‘ جیکب آباد اورشکارپور میں بھی ہوئی غرضیکہ سندھ کے لوگوں نے بھی پہلی جنگ آزادی میں جب انہیں ٹیپوسلطان ‘ سراج الدولہ جیسے سرفروشوں کی قیادت میسر نہ تھی اپنا کردار ادا کیا۔ سندھ کے صوفیانہ سماج میں جہاں درگاہوں‘ خانقاہوں اور گدی نشینوں کے گہرے اثرات ہیں اور اس دور میں بھی پیران پاگارہ ‘مخدومین کھوڑا‘ سرہندی ‘ بھر چونڈی مشائخ برطانوی تسلط کے خلاف تھے اور ان کے ماننے والے زندگی کے جن شعبوں سے بھی وابستہ تھے وہاں ان عقائد کی ترویج وتشہیر کررہے تھے۔یہ گدی نشیں اورصوفی بزرگ جن عقائد پر کاربند تھے وہ صدیوں سے مسلمانان اہل سنت کاورثہ ہیں اورامام احمد رضا ؒ نے ان کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ مخالفین کے اعتراضات کو رفع کیا۔ سرزمین سندھ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی کا1905ء میں کراچی قیام بھی رہا‘ جب وہ دوسری بار ادائیگی حج کے بعد یہاں پہنچے تھے ۔ کراچی کی نامور دینی وعلمی شخصیت مولانا عبدالکریم درس ان کے میزبان تھے۔ اس سے قبل بھی سندھ کے علما ومشائخ اورفقیہہ دینی امور میں اعلیٰ حضرت ؒ سے رہنمائی لیتے تھے۔فتاویٰ رضویہ میں سندھ کے علما وعوام کے استفسارات اس کی دلیل ہیں۔ پروفیسر سید عارف کے تحقیقی مقالے ’’ مولانا احمد رضا خاں اورسرزمین سندھ‘‘ میں مذکور ہے کہ اعلیٰ حضرت ؒ کے وصال پر مولانا عبدالکریم درس نے (مقبول حق احمد رضا 1340ھ) مادہ تاریخ نکالا تھا۔ مولانا احمد رضا بریلوی کی عربی تصنیف ’’الدولتہ المکیۃ‘‘ پر سندھ کے بزرگ شیخ ہدایت اللہ بن محمود نے عربی میں تقریظ تحریر کی تھی اور1922ء کے ماہنامہ ’’تصوف‘‘ لاہور میں سندھ کی علمی شخصیت اللہ بخش عقیلی کا تعزیتی مضمون شائع ہوا تھا‘ جو مولانا احمد رضا بریلوی کے سانحہ ارتحال پر ان کے جذبات کا عکاس تھا۔

سندھ کی سیاست پر بلاشبہ وڈیرے اورجاگیردار چھائے ہوئے تھے‘ لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ یہ ابتدائی طورپر مسلم لیگ میں شمولیت کے روادار نہ تھے ۔ جب مسلم لیگ کا پیغام سندھ میں پھیلا اوریکے بعد دیگرے ایسے کئی واقعات پیش آئے جو انگریزوں اورہندوئوں کی مسلمان دشمنی بے نقاب کرگئے تو اس طبقے کو مجبوراً مسلم لیگ کی سمت آنا پڑا۔ قائداعظم ؒ کے 14نکات میں سے ایک سندھ کی بمبئی سے علیحدگی بھی تھا۔ اس کی سندھ کے ہندوئوں نے سختی سے مخالفت کی‘ مسجد منزل گاہ کا واقعہ اوربھریا روڈ میں ایک نہر کی تعمیر میں مسجد کی شہادت جیسے واقعات نے مسلمانانِ سندھ کی آنکھیں کھول دیں سیاسی قیادت کی اپنی اپنی مصلحتیں تھیں۔ کبھی وہ مفاہمت کے نام پر اکٹھے ہوتے اورکبھی وزارتوں کے مسئلے پر بکھر جاتے‘ لیکن مولانا محمد اسمٰعیل روشن پیر سرہندی (م 1942ئ) پیر محمد قاسم مشوری( م 1990) پیر محمد حسن جان سرہندی ( م1946ئ) پیر محمد حسین جان سرہندی ( م 1948ء ) پر غلام مجدد آف مٹیاری (م 1958ئ) پیر عبدالرحیم بھرچونڈی ( م 1971ء ) پیر محمد ابراہیم جان سرہندی آف سامارو( م 2002ء ) مفتی صاحب داد خان ( م 1965ء ) مخدوم احمد زمان آ ف لواری شریف‘ مولانا ظہور الحسن درس ( م 1972ئ) مولانا تراب علی راشدی ( م 1938ئ) مولانا تاج محمد آریجوی ‘ حافظ خیر محمد اوحدی( م 1982ئ) قاضی دوست محمد بلبل سندھ ( م 1987ء ) مفتی صاحب داد خان جمالی‘ مولانا مفتی محمد حسین ٹھٹھوی ‘پیر عبدالستار جان سرہندی ‘ مولانا مفتی محمد ابراہیم گڑھی یٰسین والے‘ مفتی عبدالغفور ہمایونی ( م 1918ئ) مفتی عبدالباقی ہمایونی( م 1963ئ) مولانا سید علی اکبر شاہ( م 1969ئ) مولانا عبدالوہاب ’’عبد‘‘ گلال ( م 1950ئ) شاہ غلام رسول قادری ( م 1971ء ) مولانا فتح علی اصغر جتوئی ( م 1937ئ) مفتی محمد صالح بھٹو نعیمی ( م 1992) مولانا محمد صالح میر قادری ( م1976ئ) کی تاریخی جدوجہد کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی فکر کے سندھ میں موید ومعاون تھے۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ کا بریلی سے رشتہ محبت اورمضبوط ہوا۔ ہندوستان بھر سے آنے والے اکابرین کے ورود مسعود سے یہ دھرتی مزید منوروشاداب ہوئی۔ سندھ میں حریت فکر اورفروغ دین کی بڑی علامت درگاہ عالیہ راشدیہ یعنی پیر گوٹھ کی گدی بحال ہوئی تو پیر صاحب پگارو شاہ مردان شاہ ثانی ؒ کی اتالیقی کا اعزاز مفتی تقدس علی خاں رضوی ؒ کو حاصل ہوا‘ جو خاندان اعلیٰ حضرت کے چشم وچراغ تھے ۔ بعد ازوفات بریلی شریف کا یہ چاند پیر گوٹھ میںہی مدفون ہوا ۔