بدھ‘ 3 ذیقعد‘ 1444ھ‘ 24 مئی 2023ء

سوشل میڈیا پر اندرون اور بیرون ملک منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
یہ فیصلہ نہیں اس کام کا آغاز پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا جب جان بوجھ کر منفی اور جھوٹی خبریں، تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی تھیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے بہت سے ملک کے اندر اور بہت سے بیرون ملک بیٹھے گمراہ عناصر ایسی حرکت کر کے عوام میں منفی اور غلط سوچ پیدا کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ اب ایسے افراد کے خلاف ایکشن لینے سے کم از کم ان جھوٹی خبروں، اطلاعات اور تصاویر سے جان چھوٹ جائے گی جن کی وجہ سے لوگوں کا بلڈپریشر ہائی رہتا ہے۔ ملک کے اندر رہنے والے تو کسی نہ کسی طریقے سے قابو آہی جائیں گے … اب بیرون ملک ایسا کام کرنے والوں کے نام متعلقہ اداروں کو دیئے جا رہے ہیں کہ ان کے نام ایگزسٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے جائیں جب تک تادیب کا خوف نہ ہو لوگ باز نہیں آتے۔ سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کے لئے بڑا وسیع میدان ہے تنقید کرنے کا حق سب کو ہے حکومت اور حکمرانوں یا اپوزیشن کے اچھے بُرے کاموں پہ مشورہ دینا انہیں سراہانا یا ٹوکنا برحق ہے۔ مگر یوں ملک و قوم کا حساس اداروں کا تمسخر اڑانا انہیں وطن دشمن کہنا یہ کہاں کی دیانتداری ہے۔ کون اس طرح کی غلط حرکات کی اجازت دیتا ہے۔ دنیا بھر میں ملک کے محافظوں دفاعی اداروں کیخلاف ایسی لغو باتیں کرنے کی کسی کو اجازت نہیں جہاں جہاں عسکری اداروں کو دشمنوں کے بہکاوے میں آ کر کمزور کیا گیا انہیں آپس میں یا عوام سے لڑایا گیا اس کا نتیجہ ہم آج لیبیا، سوڈان اور شام میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی دشمن کی چال ہے جس سے وہ مسلم ممالک میں انتشار پیدا کر کے انہیں کمزور بنا رہا ہے تاکہ مسلم دشمن قوتوں کے لئے تر نوالہ ثابت ہوں۔
٭٭٭
ایران سے خطرہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں نئی ٹاسک فورس قائم کر دی
امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کا کون سا ملک ہے جو امریکہ سے ناراض نہیں۔ اب اس صورتحال میں کہاں کہاں انکل ٹائم اپنی نت نئی ٹاسک فورسز قائم کرتا پھرے گا۔ چین سے اس کی بنتی نہیں، روس سے وہ نبردآزما ہے۔ افریقی ممالک اس کی سامراجی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ افغانستان میں اس نے سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو وہ دبانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں وہ فوجی طاقت مسلسل بڑھا رہا ہے۔ اس کے باوجود کے عرب ممالک سے اس کے تعلقات اچھے ہیں مگر وہ اسرائیل کی سرپرستی کر کے مسئلہ فلسطین حل ہونے نہیں دے رہا۔ شمالی کوریا نے براہ راست اسے چیلنج کر رکھا ہے۔ اس طرح ایران سے بھی اس کی نونک جھونک جاری رہتی ہے۔ چین اور روس بڑے ممالک ہیں شمالی کوریا اور ایران سے البتہ نکونک آیا ہوا ہے۔ ان دو کے خلاف وہ ہر ممکن کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو نیچا دکھائے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔اب مشرق وسطیٰ میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے سے امریکہ کو سخت بے چینی ہو رہی ہے حالانکہ مشرق وسطی میں بحیرہ عرب میں اس کے بڑی تعداد میں فوجی اور جنگی بحری بیڑے موجود ہیں مگر اب پھر امریکہ نے ایران کا ہوا کھڑا کر کے نئی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے جو مشرق میں تعینات ہوگی۔ اب اس فوج ظفر موج کے اخراجات بھی امریکہ خود تو ادا نہیں کرے گا جن ملکوں کے تحفظ کے نام پر وہ یہ فوج رکھے گا اس کے اخراجات بھی انہی ممالک سے وصول کرے گا حالانکہ جب عرب اور ایران تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو اس فضول ٹاسک فورس کے قیام کا کیا مطلب۔ اب تو امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کم کرنے کا سوچنا چاہئے مگر وہ اضافہ کر رہا ہے۔ اس کا واحد مقصد صرف اور صرف اسرائیل کا تحفظ یقینی بنانے کے سوا کچھ نہیں … 
٭٭٭
مالی بدعنوانیوں کے کیس میں بشریٰ بیگم کی عدالتوں میں طلبی سے عمران پریشان
ملک میں جاری سیاسی جنگ میں اب مزید شدت آتی جا رہی ہے۔ سیاسی آگ اب ذات سے آگے بڑھ کر گھروں تک جا پہنچی ہے۔ سابق دور میں مریم نوازشریف کو سیاسی میدان میں نشانہ بنایا گیا۔ اب جوابی حملے میں بشریٰ بی بی کو نشانے پر لیا جارہا ہے ۔ لگتا ہے حکمرانوں کو علم ہو گیا ہے کہ عمران خان کی بیگم بشریٰ ہی کپتان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر ان کے بارے میں کچھ کہنا سننا نہیں چاہتے جس طرح تحریک انصاف والوں کے لئے عمران خان کے لئے ریڈ لائن ہیں اب جو اس کی طرف بڑھے گا اس عمران خان کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔ خود عمران خان کہہ چکے ہیں کہ حکمران بشریٰ بی بی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال کر مجھے اذیت دینا چاہتے ہیں … یہ ہوتی ہے محبت جس میں کہا جاتا ہے:
یہ معجزہ بھی محبت ہمیں دکھائے کبھی
کہ سنگ تجھ پہ اٹھے اور زخم آئے مجھے
اول تو سیاست میں اس حد تک جانا درست نہیں کہ خواتین کے نام استعمال ہو۔ اگر واقعی کرپشن کے واضح ثبوت ہیں تو پھر مریم نوازشریف ہوں یا بشریٰ عمران خان کسی سے صرف اس لئے رعایت نہیں کی جائے کہ وہ ایک بڑے شخص کی بیٹی یا بیوی ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کسی حد تک مالی معاملات میں کرپٹ ہو چکی ہے کہ ان کے گھر والے بھی اب کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں کہیں فلیٹ کا رونا رویا جا رہا ہے تو کہیں ہیروں کی انگوٹھیوں اور یونیورسٹی فنڈز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ سب مالی طور پر آسودہ خانوادوں کی داستان ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ ہزار روپے پانچ سو روپے رشوت لینے پر تو ہی قانون ایکشن میں آتا ہے سزا بھی ملتی ہے مگر اربوں روپے کی لوٹ مار پر قانون آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ہے۔ 
٭٭٭
پاکستان سے حج کیلئے پروازوں کا آغاز ہو گیا
اس سال پاکستان سے پہلی مرتبہ کوٹے سے کم تعداد میں پاکستانی حج پر جا رہے ہیں۔ سوا لاکھ حاجیوں کا کوٹہ ملا تھا۔ مگر حالات نے مالی مشکلات نے اس بار پاکستانیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ صرف 82 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی ہی حج کی سعادت حاصل کر پائیں گے۔ حج دینی فریضہ تو ہے ہی اس کے علاوہ یہ خدا کے گھر کا مہمان بننے اور وہاں دنیا بھر سے آئے لاکھوں حجاج کے ساتھ طواف کعبہ‘  سعی ‘میدان عرفات میں ٹھہرنے اور قربانی کے متحمل کا ایسا پُرکیف تجربہ اور نظارہ ہے کہ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ایک بار ضرور خانہ خدا میں جا کر حاضری دے اور ان تمام پُرکیف روحانی سعادتوں سے فیضیاب ہو۔ ایسا دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ہوتا کہ لاکھوں افراد ایک جیسا لباس ایک جیسے کلمات اور مراسم حج ادا کرتے ہوں۔ حج کے بعد قرار قلب و سینہ دریا مدینہ کا سفر اور دیار نبی میں سلام پیش کرنا اور حاضری ہر مسلمان کے لئے ایک ایسی خواہش ہے جو بار بار حاصل کرنے کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں مچلتی ہے ا ور کبھی کم نہیں ہوتی۔ بیت اللہ شریف میں حاضری اور دیار نبوی کی زیارت خدا کے ہر مسلمان کو نصیب ہو۔ اس بار حکومت نے حجاج کو قربانی کی رقم واپس کر کے ایک اچھا ریلیف تو دیا ہے اب یہ رقم باقی اخراجات کی مد سے ہی نکالی جائے گی مگر اس کے باوجود حج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کی وجہ سے لوگوں جو پائی پائی جمع کر کے یہ سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں اس سے محرومی کے غم میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ حکومت کوئی ایسی راہ نکالے کہ سفر حج کے اخراجات غریب آدمیوں کے بس میں ہوں اور وہ یہ حسرت دل میں لے کر مرنے کی بجائے اس کی سعادت لے کر دنیا سے رخصت ہوں۔ مخیر حضرات بھی دل کھول کر غربا مساکین کو حج کرا کے ثواب دارین حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں دوہرا ثواب ہوگا ایک تو حج کا دوسرا، کسی کو حج کرانے کا، بار بار حج کرنے کے علاوہ دوسرے غربا کو حج کروا کر زیادہ ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے جو اب کعبہ کو زیادہ پسند ہے۔
٭٭٭٭٭

ای پیپر دی نیشن