یورپی یونین کی روس کے 116 افراد اور اداروں پر پابندیاں

روسی خبر رساں ادارے ’ٹاس‘ نے بتایا ہے کہ یورپی یونین نے 116 روسی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے روس، چین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کی 61 کمپنیوں کو پابندیوں کے 14ویں پیکج میں شامل کیا ہے۔دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز کی برآمد پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔یوروپی یونین نے "آرکٹک 2" اور "مرمانسک" ایل این جی جیسے مائع قدرتی گیس کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور سامان، ٹیکنالوجی اور خدمات کی فراہمی پر پابندی عائد کردی۔بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے ممالک نے روس کے منجمد اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع کو یوکرین کے مفاد میں استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اعلان کیا کہ یورپی یونین نے ایک ایسا طریقہ کار تیار کیا ہے جو کیف کے لیے اسلحے کی خریداری پر ہنگری کے ویٹو کو منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔بوریل نے فنانشل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ بوڈاپیسٹ جس نے پہلے روسی اثاثوں کے استعمال کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا "کے لیے یونین کے فیصلے میں شمولیت ضروری نہیں۔گذشتہ ہفتے یورپی یونین کے ممالک نے روس پر "مضبوط اور اہم" پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگی کوششوں کا سخت جواب دیا جا سکے۔بیلجیئم کے ایوان صدر ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ "یہ پیکج نئے ہدفی اقدامات فراہم کرتا ہے اور خامیوں کو بند کرکے موجودہ پابندیوں کے اثرات کو بڑھاتا ہے"۔امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں پابندیوں کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ اس میں 300 سے زائد اداروں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ یوکرین میں جاری تنازعے کے دوران روسی فوجی پیداواری صلاحیتوں کو متاثر کیا جا سکے

ای پیپر دی نیشن