سفر میں کیا سروسامان رکھنا؟

24 جون 2011
’سَیّاسُ العَصر‘ سیدی آصف علی زرداری نے رات گئے، وہ ’بچہ سی مرغ‘ ڈھونڈ ہی نکالا، جس کی تلاش اور گرفتاری کا ’دوہرا ہدف‘ دے کر جناب پرویز مشرف ’دنیا کے سفر‘ پر روانہ کئے گئے تھے! کیونکہ یہ ’بچہ سی مرغ‘ جنابِ زرداری کی آنکھوں کے سامنے جناب پرویز مشرف کے ہاتھوں کے طوطوں کے ساتھ اُڑ گیا تھا! اور وہ اس ’بچہ سی مرغ‘ کے بغیر وہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے، جوکہ اُنہیں کرنے کا ’ہدف‘ ملا تھا! جناب پرویز مشرف نے تو آٹھ برس مولانا فضل الرحمن دِکھا دِکھا کر کاٹ لئے اور اب جناب زرداری اپنی بقایا مدتِ کار ’مولوی نواز شریف‘ کی صورت دِکھا دِکھا کر گزار لینا چاہتے ہیں! جنابِ زرداری کے سَیّاس ذہن کی چال ڈھال دیکھتے ہی ’میثاقِ جمہوریت‘ گردوغبار ہو کے رہ گیا! اِدھر یہ آندھی اُٹھی اور اُدھر محترمہ ماروی میمن اپنے اٹھارہ کروڑ ساتھیوں سمیت قاف لیگ کی رکنیت کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہو گئیں! حالانکہ وہ پنجاب سے منتخب ہوئی تھیں مگر انہوں نے تمام ’فنڈز‘ ٹھٹھہ پر لگانا پسند فرمائے! مگر یہ اُن کا جرات آمیز قدم جناب سعد رفیق کی آنکھوں میں چُبھ اور کُھب گیا! حالانکہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اُنہیں بہت اُمید افزا نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں! کیونکہ محترمہ ماروی میمن ایک سچی قاف لیگر کی حیثیت سے آج بھی جناب پرویز مشرف کے نام پر مہر بلب رہتی ہیں!
اِدھر یہ لے دے جاری تھی اور اُدھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خاتون اول محترمہ مِشعل اوباما جنوبی افریقہ اور بوٹسووانہ کے دورے میں ’سوویستو‘ کے رجینا مُنڈی چرچ کے ہال میں نوجوان راہنما خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں : افریقی امریکی دو سو سال سے امریکہ میں بس رہے تھے، مگر انہوں نے اپنے حقوق کے لئے صرف 50 سالہ جدوجہد میں ہی وہ تمام حقوق حاصل کر لئے جسے ہر امریکی شہری کا حق سمجھا جاتا ہے! یہ پُرامن جدوجہد ایک جمہوری معاشرے میں ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی تھی، آج افریقی امریکی ہر شعبہ زندگی میں سربرآوردہ ہیں اور یہ سب نوجوان ہیں! آپ بھی اُٹھیں اور اپنے معاشرے میں اپنا مقام حاصل کر دکھائیں! یاد رکھیں! یہ کام صرف نوجوان ہی کر سکتے ہیں! افریقہ کے اندر بھی جمہوریت اور افریقی نوجوان راہنما خواتین ایک شاندار استحکام لا سکتی ہیں! ’یَس وِی آر!‘ ’ہاں! ہم ہیں!‘ ہمارے خلاف صف آرا لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا لازم ہے! ارجنٹائن کی خاتون صدر کرسٹینا فرنینڈز آئندہ صدارتی انتخاب میں بھی امیدوار ہونے کا اعلان کر رہی ہیں!
حیران کُن امر یہ ہے کہ ہمارے برقیاتی ذرائع ابلاغ جناب زرداری کی تقریر اور جناب احسن اقبال کے ردِعمل سے گرد گرد ہو رہے تھے اور ایک نجی نیوز چینل پر چودھری شجاعت حسین بدستور بجھے بجھے لہجے مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اپنا، جناب پرویزالٰہی اور جناب مونس الٰہی کا مقدمہ پوری استقامت سے لڑ رہے تھے، حالانکہ اُن کے ہاتھ میں تلوار بھی نہ تھی اور اُن کی تلوار کی جھنکار بھی واضح نہ تھی! ہمیں بھی سیاست تو کرنا تھی! کیا کرتے! ہمیں سیاست میں رہنا ہے!بیہن کھلون نُوں جی کردا اے ساڈا وی! پیپلزپارٹی کا ساتھ دے رہے تھے پرویز مشرف، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ارکان اُنہیں دے دو! ہم نے دے دئیے! اور وہ خود چل دئیے! اب ہم کیا کر سکتے تھے؟ جناب شجاعت حسین اور جناب پرویزالٰہی جناب پرویز مشرف پر اندھا اعتماد رکھتے تھے! حالانکہ اُنہیں اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی عادت ہی نہ تھی، سو، یہ سب اُن کے پیچھے چلتے چلتے منہ کے بل آ گرے! ہمیں یقین تھا کہ جناب نواز شریف اُنہیں سہارا دیں گے مگر اُنہوں نے تو اُنہیں دھکا بھی نہیں دیا! لہٰذا اُنہوں نے بھی ایک ٹھوکر اور کھائی اور پیپلزپارٹی کی گود میں جا گرے! یا شب کو دیکھئے تو ہر اِک گوشہ بساط، دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے، ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی، مطرب بہ نغمہ رَہ زنِ تمکین ہوش ہے! مگر تازہ واردانِ بساط ہوائے دل صبح اُٹھے تو قومی اسمبلی نے ’قومی بجٹ‘ کی اور پنجاب اسمبلی نے ’پنجابی بجٹ‘ کی منظوری دے دی! قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نون نے اور پنجاب اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی نے بجٹ کے حق میں ووٹ ڈال دئیے! بقولِ جناب ابرار حامد :
پیلے پڑے جاتے ہیں یہ رَہ کر بھی شجر پر
لے جائے ہَوا اُن کو نہ صحرا کے سفر پر