مختلف تعلیمی اداروں کی زیرنگرانی سہ روزہ ریفریشز کورس

24 جون 2011
ریاض نامہ ۔۔۔۔۔گل محمد بھٹہ
وطن عزیز پاکستان سے دور تعلیم کا حصول ایک ایسا امر ہے جس میں طلباءو طالبات کے علاوہ اساتذہ کرام کو بھی کئی قسم کی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل اور مشکلات میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ وطن سے دوری کے باعث پاکستان میں قائم تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مسلسل اور بروقت رابطوں کی کمی وجہ سے بھی تعلیمی مسائل کے حل میں مشکلات پیش آتی ہیںاور تعلیمی ترقی اور نظام تعلیم کی بہتری اور اساتذہ اور طلباءو طالبات کے مابین روابط اور جدید تعلیمی آلات و وسائل کے بہتر استعمال میں بھی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اس قسم کے مسائل اور مشکلات سے عہدہ برآ ہونے اور جدید تعلیمی معاملات سے آگاہی کے لئے طلباءو طالبات، والدین اور اساتذہ کرام بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ تعلیمی ترقی اور جدید وسائل تعلیم اور دیگر متعلقہ امور کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے الریاض میں قائم منصورہ انٹرنیشنل سکول، پاکستان انٹرنیشنل سکول، ناصریہ اور زوھا انٹرنیشنل سکول کی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے ان تینوں تعلیمی اداروں کے پرنسپل حضرات، منتظمین، معلمین اور معلمات کے لئے ایک سہ روزہ ریفریشر کورس کا انتظام کیا گیا جس میں فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن، اسلام آباد کے سابق ڈائریکٹر ریسرچ محمود الحسن ندیم صاحب کو خصوصی دعوت دی گئی تھی۔
یہ سہ روزہ ریفریشر کورس یہاں کے ایک مقامی ہوٹل میں منقعد ہوا جس میں منصورہ انٹرنیشنل سکول کے پرنسپل طارق سعید، پاکستان انٹرنیشنل سکول ناصریہ کے پرنسپل نادر عالم اور زوھا انٹرنیشنل سکول کی پرنسپل مسز عبد المالک مجاہد کے علاوہ ان تینوں تعلیمی اداروں سے اساتذہ کرام اور معلمات نے شرکت کی جن کی مجموعی تعداد 60 سے زائد تھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس تربیتی کورس میں شریک تینوں تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے کورس کے انتظامات میں خصوصی دلچسپی لی اور کورس کے انعقاد کے لئے ان ایام اور اوقات کی ترتیب دی جبکہ شرکت کے لئے ان معلمین اور معلمات کا انتخاب کیا کہ جس سے طلباءو طالبات کی تعلیم کم سے کم متاثر ہو یعنی یہ کورس ہفتہ واری چھٹیوں اور تعلیمی اداروں کے اوقات کار کے اختتام کے بعد کورس کا انعقاد کیا جانا وغیرہ شامل ہیں۔
اس کورس میں شریک معلمات کے لئے پردے کا علیحدہ انتظام موجود تھا۔ اس ریفریشر کورس میں تدریسی طریقوں، آسان اور مختصر سوالات و جوابات، امتحانی پرچہ جات کو مرتب کرنا، امتحانی پرچہ جات میں حل کئے گئے سوالات کے نمبروں کا طریقہ کار اور فیڈرل بورڈ کے ساتھ تعلیمی معاملات کے سلسلے میں مناسب طریقے اختیار کرنے سے متعلق آگاہی دی گئی۔ مہمان خصوصی محمود الحسن نے بھرپور انداز میں فیڈرل بورڈ کی ملازمت کے دوران تعلیمی خدمات اور ریسرچ سے متعلق اپنے تعلیمی تجربات کو شرکاءکے سامنے رکھا اور امتحانی پرچہ جات کیسے مرتب کئے جاتے ہیں اورشرکاءکو بتایا کہ طلباءو طالبات کے حل شدہ پرچہ جات کے نمبروں کے سلسلے میں کون کون سے مناسب اور ضروری معاملات کو سامنے رکھا جائے۔ اسی طرح تینوں سکولوں کے شریک معلمین و معلمات نے اپنے اپنے مسائل اور مشکلات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ بعد ازاں طارق سعید پرنسپل منصورہ انٹرنیشنل سکول ، نادر عالم پرنسپل پاکستان انٹرنیشنل سکول ناصریہ جبکہ زوھا انٹرنیشنل سکول کی پرنسپل کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا عبد المالک مجاہد نے مہمان خصوصی محمود الحسن ندیم کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد کی جس میں سہ روزہ ریفریشر کورس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے طے پایا کہ آئندہ بھی ایسے مفید کورس منعقد کئے جائیں گے جن میں پاکستان سے مزید تعلیمی ماہرین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ تعلیمی و تدریسی مسائل اور مشکلات کے حل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ ایسے تربیتی کورس سالانہ یا ششماہی منعقد کئے جائیں اور ان میں زیادہ سے زیادہ معلمین اور معلمات کی شرکت کا اہتمام کیا جائے نیز تمام معلمین اور معلمات کو باری باری ایسے کورسز میں شرکت کی دعوت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ معلمین اور معلمات مستفید ہو سکیںجس سے تعلیمی ماحول اور ترقی میں حتی الامکان بہتری لائی جا سکے۔