کشمیر سنٹر برسلز اور احرام کے اشتراک سے سیمینار کا انعقاد

24 جون 2011
مکتوب بیلجیئم ۔۔۔ وقار ملک
اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر انسانی حقوق کمیشن کے آڈیٹوریم میں کشمیر سنٹر برسلز اور بین الاقوامی تنظیم احرام کے اشتراک سے سیمینار ڈی ٹینشن ان کن فالیکٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبائ، سکالرز، دانشور، صحافیوں، تھنک ٹینکس نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا انسانوں کو حقوق دلوانے میں قوانین تو بناتی ہے لیکن خود ہی ان قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتی جس سے حکومتوں اور عوام کے درمیان خلاء بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ انسانوں کو ان کے قوانین دلوانے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرے تاکہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔ کشمیر سنٹر برسلز کے چیف ایگزیکٹو بیرسٹر عبدالمجید ترمبو کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایسی شخصیات عوام کے لئے ایک نمونہ ہیں۔ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماہر پروفیسر الفرڈ ڈی زیاس نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملہ کو دوسرے تمام امور پر فوقیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی حقوق کا چارٹر منظم طور پر سامنے لایا گیا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں لاطینی امریکہ میں لوگوں کو بے جا حراست میں رکھنے کے متعدد واقعات ہوئے جس پر بڑی لے دے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قانون ہر فرد کے انسانی حقوق کی توثیق کرتی ہے چاہے وہ مجرم یا دہشت گرد ہی کیوں نہ ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست ان حقوق کو یقینی بنائے لوگوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنا نہ صرف جنیوا کنونشن بلکہ دیگر تمام عالمی قوانین کے بھی منافی ہے۔ کئی ممالک نے ابھی تک ان عالمی پروٹوکول پر دستخط نہیں کئے۔ جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ کی ذمہ داری اپنی جگہ نان گورنمنٹل تنظیموں اور اداروں کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انٹرنیشنل کونسل آف ہیومن رائٹس کے چیئرمین بیرسٹر مجید ترمبو نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں خلفشار یا تصادم کی صورت حال میں بیجا حراست معمول بن چکا ہے۔ عالمی قانون کے تحت گرفتار کردہ کسی بھی شخص کو ایک مخصوص مدت کے اندر پیش کرنا اس کا حق تھا کہ اسے انصاف مل سکے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ آئے روز بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہ صرف ان پر تشدد ہو رہا ہے بلکہ مقدمہ چلائے بغیر زیرحراست رکھا جاتا ہے۔ ان عالمی اداروں سے انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔ مڈل سیکس یونیورسٹی لندن کی ڈاکٹر ایلویرا ڈومنیز نے کہا دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی حقوق کا چارٹر بنانے والے ممالک خصوصاً امریکہ اور برطانیہ اب اپنا راستہ تبدیل کر رہے ہیں۔ وار آن ٹیرٹر نے انسانی حقوق کے ضوابط کے بنیادی نکات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عراق اور افغانستان پر امریکہ کی کارروائی اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج حکومتیں کھلے عام سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی نفی کر رہی ہیں۔ بن لادن کے قتل کا جواز تلاش کرنے کے لئے قانون کی اپنی مرضی سے تشریح کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کا کہ جنیوا کنونشن کے تحت کچھ بھی حالات ہوں کسی کو ٹارچر کی اجازت نہیں گوانتاناموبے جیل قائم کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ ڈاکٹر جوشاکاسٹلینو نے کہا کہ لوگوں میں آگہی کے فروغ کے ساتھ سات ممالک میں اداروں کو چیلنج کرنے کی روش چل نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوگوسلاویہ اور سوویت یونین کے حصے بخرے کرنے کے لئے حق خودارادی کا استعمال کیا گیا۔ ترقی پذیر ممالک کے عوام اب اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا پہلا فرض عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ انہیں بلاوجہ گرفتار کرنا اور ٹارچر کرنا۔ جسٹس فاﺅنڈیشن لندن کے شال نے کہا کہ کشمیر کے عوام 63سے اپنے حق خود ارادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کا تنازع نیوکلیئر فلیشن پوائنٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقبوضہ کشمیر میں 70ہزار سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ 671سے زائد بھارتی سکیورٹی کیمپوں میں گرفتار کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج کسی بھی قانون سے مبرا ہے۔ اسے قتل و غارت گری کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جعلی مقابلوں میں مار دیا جاتا ہے۔ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کا ترجمان بن چکا ہے۔ عالمی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال پر آنکھیں بند کرنے کی بجائے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ بیرسٹر مجید ترمبو نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس کی تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر سپیشل رپورٹر نے بھی اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں 180افراد کی ہلاکت کے ایک واقعہ پر بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ ڈاکٹر نادیہ برناز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا کنونشن کے تحت حراست میں ٹارچر انسانی کے خلاف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے اوپر عائد الزامات کی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے مگر اکثر حالات میں یہ حق دینے کی کوئی نہ کوئی توجیح پیش کر دی جاتی ہے۔ دنیا میں جاری تصادم کے حالات یا خلفشار کے ضمن میں اس کا یقین کرنا ہے کہ آیا کوئی کانفلکٹ داخلی نوعیت کا ہے یا عالمی تشویش کا۔ اس بارے کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ پینل نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو زیرحراست بنئے جانے یا ان کے والدین کی گرفتاری کی صورت میں انہیں بے یارومددگار چھوڑ دینے کے بارے سوال کے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر تصادم کے حالات میں بچوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست ان ضوابط پر عملدرآمد کرے۔ تمام مقررین نے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ غیرقانونی حراست، ٹارچر اور انصاف کی عدم فراہمی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف عالمی اداروں بلکہ این جی اوز بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کو رکیں۔
دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ادارے نیوز ایجنسی اے پی پی نے بیرونی ممالک میں ہزاروں یوروز کی تنخواہوں پر نمائندگان کی تعیناتی عمل میں لائی ہے جس میں تعلیم کی کارکردگی اور ان کے کردار کا ریکارڈ طلب کرنے کی بجائے رشوت اور سفارش کوملحوظ خاطر رکھا گیا۔ بیلجیئم، جرمنی اور برطانیہ میں جن افراد کا تقرر عمل میں لایا گیا ان کی باقاعدہ تعیناتی سابق وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے اپنے دورہ یورپ کے دوران کی۔ ہزاروں یوروز کی شاپنگ کروائی گئی۔ بیلجیئم دورہ کے دوران وفاقی وزیر نے ایک ایسے شخص کی تعیناتی عمل میں نہ لانے کے احکامات صادر کئے جو صحافت کے اصولوں سے اور تعلیم سے بے بہرہ اور پولیس کو مطلوب رہتا تھا۔ جس کا تعلق بھارتی لابنگ سے بتایا جاتا ہے۔ اس شخص کی تعیناتی کی خبر جب کمیونٹی کے سرکردہ افراد تک پہنچی تو ہر چہار اطراف سے سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کے خلاف عوام نے بحث کا آغاز کر دیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ایک سرکاری ادارے میں ایسے افراد کی تعیناتی نہ کرے جس پر شک تعصبات پیدا نہ ہوں اور جو عناصر ملک و قوم کے خلاف کام کرتے ہوں انہیں پاکستان کے سرکاری اداروں میں تعینات نہ کیا جائے۔ پاکستان کمیونٹی نے اے پی پی اور دیگر دیگر سرکاری اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بیرون ملک میں تقرری سے پہلے ان کا ریکارڈ طلب کریں اور پھر ان کی تعیناتی کریں۔ اے پی پی نے سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کے حکم پر ایسے افراد کی تعیناتی عمل میں لا کر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور رشوت سفارش کو فروغ دے کر کمیونٹی کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ حکومت پاکستان اس کا سدباب کرتے ہوئے بیلجیم میں کی گئی تقرری کو فوری معطل کرے وگرنہ کمیونٹی احتجاج کا حق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ عوام فاقوں پر ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں قوم کا روپیہ ملک کے اندر اور عوام کو سہولیات میسر کرانے میں صرف کیا جائے نہ کہ وزراء کو عیش و عشرت کرانے والوں کو انصاف و حیرت سے ہٹ کر نوکریاں دی جائیں۔