ملائیشیا اور پاکستان کی ترقی کے انداز میں فرق

24 جون 2011
سلمان احمد خان ۔۔۔ ملائیشیا
دنیا تقریباً 246ممالک پر مشتمل ہے، جن میں سے تقریباً 192ممالک اقوام متحدہ کے ممبرز ہیں باقی ابھی تک ممبر نہیں بنے۔ دنیاچار برّے اعظموں پر مشتمل ہے اور دنیا میں چھ ہزار زبانیں بولی جا رہی ہیں جن میں سے ہر سو سال بعد آدھی زبانیں ناپید ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ پر نئی زبانیں آجاتی ہیں۔ جب سے دنیا میں بلب، پہیہ ، میڈیسن کی ریڑھ کی ہڈی پینسولین اور دوسری کئی ایک ایجادات نے اتحاص کے پنوں پر امر بنتے وجود پایا ہے تو یہ عروجِ عرفاں کی لازوال نعمتوں کو چھونے لگی ہیں، یوں وقت نے اس روئے زمین کو وہ دن بھی دکھا دیا جب انسان نے اپنی لازوال محنت کے ساتھ چاند پر قدمِ ارجمداں کا شرف حاصل کیا۔ ساری دنیا زمینِ کائنات پر اپنی نظروں کو آسماں کی طرف بلند کے ان چار اشخاص کے چاند پر قدم بوسی کرنے کو اپنی نظروں سے کیش کر رہی تھی جنہوں نے چاند کو مسخر کیا تھا۔
آج دنیا سفر کے لحاظ سے سمٹ کر اِکائی میں بدل گئی ہے، سالوں کے فاصلے مہینوں میں، مہینوں کے فاصلے دنوں میں اور دنوں کے فاصلے گھنٹوں میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا ایک کنارہ دوسرے کنارے کے قریب ترین آگیا ہے۔ آج ناشتہ پاکستان میں تو لنچ امریکہ میں اسی طرح شام کا کھانا آسٹریلیا کے دوردراز فاصلوں پر بچھے صحراﺅں میں تو قیام ا لیل عرب کی گرم ترین زمین پر بچھے صحرا پر کیا جاتا ہے۔ یو ں سائنس کی لازوال ترقی نے انسان کو آواز، تصویر، سماعت، بزنس، ترقی اور معلومات کے اُن بت کدوں میں لاکر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے آگے صر ف عجیب و غریب اور یَک لخت نظارے ہی شروع ہوسکتے ہیں ۔ آج ترقی کا معیار وسعت ظرفی اور آنے والے ایام کی دور اندیشی پر ریکارڈ کیا جا تا ہے۔ جو اقوام کل بیدار تھیں آج دنیا پر حکومت کر رہی ہیں جو اختلافات اور تنگ نظری کی تاریک راہوں پر محو سفر تھیں وہ آج غلامی کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکی ہیں ۔ان اقوام میں سے شاید ملائشیا (جسے ایشیا کا ٹائیگر کہا جاتاہے) ایشیا میں سب سے آگے جاتا نظر آتا ہے جس نے اسلامی دنیا کو واضح کر دیا کہ اگر ترقی کر ناچاہتے ہو تو انصاف، امن، تعلیم، وسعتِ نظری اور غلامی سے نجات کے بغیر یہ تر قی ممکن نہیں ہے۔وہ ملائشیا جس کو مہاتیر محمد نے اپنی 22سالہ محنت سے ترقی کے ان اَدوار پر لا کر کھڑا کردیا جہاں سے پاکستان کم از کم 150سال پیچھے نظر آتا ہے۔ جس کے حکمرانوں نے اپنے اندر تبدیلی کی لہر پیدا کر کے، اپنی قوم کو غلامی سے نفرت سیکھاکر، ملک میںترقی کے ذریعے ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر دیا لیکن ایک پاکستان ہے کہ جہاں پر ترقی پانے کے منصوبے ہمیشہ تکمیل کے ادھورے خوابوں کی اَن دیکھی دنیا میں تعبیرکی تلاش میں گم ہوجاتے ہیں لیکن کوئی مسیحا ان کوا ہمیت نہیںدیتا۔ ملائشیا جہاں پر صفائی کے معاملے میں کسی قسم کی سستی نہیں کی جاتی ہے، جہاں پر کثرت سے بارش آجانے پر رات کے وقت سڑکوں اور شاہراﺅں کو سرف کے ساتھ دھودیا جاتا ہے، جہاں پر بغیر گورنمنٹ کی اجازت کے ہسپتال اور کلینک نہیں کھولے جاسکتے، جہاں پر لوکل لیول پر میڈیکل سٹورز بنا نے کی اجازت نہیں” تاکہ کوئی جاہل ڈاکٹر کسی مریض کو غلط دوائی نہ دے سکے“ جہاں پر کاروبار زندگی تقریباً صبح چھ بجے سے شروع ہو جاتی ہے اور شام 5بجے تک جاری رہتی ہے۔ جہاں پر ابتدائی سالوں میںجو خواب دیکھے جاتے ہیں سال بھرمیں اُن کو پوراکرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، اس کے برعکس پاکستان میں یہ سب کچھ ایک غیر مقبول اور پورانہ ہونے والاخواب نظرآتا ہے۔ اس ملک میں صرف لوگوں اور شخصیات کو مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ وہ آگے چل کر ملک کی املاک کو نقصان پہنچائیں، اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ انہیں انصاف کے تاریک کٹہرے میں لا کر کھڑا کر نے والا کوئی نہ ہو۔ ملائشیا میں کوئی بھی چیز بغیر کمپنی بنائے ممکن نہیں ہے سب کچھ کمپنی کے ذریعے ہوتاہے۔ سب سے پہلے کوئی بڑی کمپنی بنائی جاتی ہے، پھر اس پر بزنس کیا جاتا ہے جب کہ ہمارے ہاں بزنس کے لئے کمپنی کا تصور ہی نہیں ہے، جس سے ہماراکاروبارعالمی سطح پراور لوکل لیول پرجانا جائے اور پہچانا جائے۔
آج پاکستان میں نوجوانوں کے شعورکوفحاشی اور عریانی کے ذریعے تباہ کیا جارہا ہے، جہاں پر نیٹ کیفے ریسرچ اور ترقی سے قاصر بلکہ یہ تباہی کے ضامن بنے ہوئے ہیں، آئے دن یہاں سے بیہودگی اور نوجوانوں کی تباہی کی مثالیں عیاں ہو رہی ہیں۔ جبکہ وہاں پر یہ ایک پاور فل کاروبار بن چکا ہے۔جو لوگوں کو ریسرچ میں کافی مدد دے رہاہے۔ یہاں پر لوگ امیر سے امیر تر ہوتے جارہے اور ادارے غریب سے غریب تر ۔ عمارتیں تباہ و برباد ہورہی ہیں۔ لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ سیاست کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جیالے پن کے نام سے لوگوں کو پاگل کیا جارہا ہے۔لوگ اکثر حکومتی فیصلوں کونہ مان کر اپنے غصے کا اظہار کر تے رہتے ہیں۔ یورپ اور ملائشیا میں احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالنا ناممکن ہے ۔ اشتہار بازی اور وال چاکنگ کا توتصورہی نہیں ہے۔ حکومتی فیصلوں نے لوگوں کو کاروبار میں مصروف کر دیا، لوگوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے کہ کسی کے ساتھ اختلاف کریں۔ عموماً صبح چھ بجے سے لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف نکل جاتے ہیں۔سکول بھی صبح کی نماز کے بعد کھل جاتے ہیں۔ حکومت تعلیم کو عام کرنے میں مخلص ہے۔ بچوں میں تحائف اور انعامات کی تقسیم عام ہے۔ ملائشیا 2020 تک اپنی کنسٹرکشن کو مکمل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے اس کے بعد کنسٹرکشن پر پابندی لگادی جائے گی ۔ اب کافی حد تک سائنس اور ہنر مندانہ تعلیم کی طرف بھی توجہ دی جارہی ہے۔ صحت و صفائی کے معاملہ میں کسی قسم کی سستی نہیں برتی جاتی ہے۔ ہمیشہ اداروں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو حکومت اورحکومتی اداروں کا احترام سکھا یا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کا اختلاف نہ ہوسکے۔ اس وقت ملائشیا میں KLCC کی عمارت تقریباً 88منزلہ ہے ، جو اس سرزمین کی حقیقی ترقی کا ایک زندہ شاہکار ہے۔ وہاں پر جاپان اور دوسرے کئی ایک ممالک کی فیکٹریاں ہیں جہاں پر یورپین لوگ جاب کرتے ہیں ۔ سنگاپور ساتھ ہونے کی وجہ سے اس ملک کو ترقی میں کافی فو قیت حاصل ہے۔ Genthin,KL Central,Beachesاور دوسرے کئی ایک مقامات ایسے ہیں جو اس کی ترقی اور دوسرے ممالک کی اقوام کو یہاں پر آنے پر مجبور کرتے ہیں۔اس ملک کے ماحول کا پر امن ہونا لوگوں میں یہاں بزنس کرنے کی دلچسپی ظاہر کرتاہے۔ عدالتی نظام سے کوئی مستثنٰی نہیں۔ یہاں انصاف چلتا ہے چاہے کچھ کا کچھ ہوجائے۔ لیکن اس کے برعکس آپ پاکستان کی زیارت کرکے دیکھ لیں آپ کو مزید غصہ آئے گا۔ یہاں پرسفارش اور رشوت عام ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو صحیح روزگار نہیں مل پاتاہے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس فرسودہ نظا م کو تبدل کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ اس وقت ساری دنیا بحران کا شکار ہے لیکن ملا ئشیا اس سے کافی حد تک محفو ظ ہے ، بلکہ دوبئی سے تو کافی حد تک لوگی یہاں پر شفٹ بھی ہوئے ہیں۔2010سے ملائشیا کافی حد تک تبدیل ہوا ہے ،یہاں کے رولز ریولیوشن بھی تبدیل ہوئے ہیں ،کافی بہتری بھی آئی ہے اور امپرومنٹ بھی۔