لاکھوں افراد کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ‘ وجہ ناقص تعمیرنو‘ بحالی کے اقدامات ہیں

24 جون 2011
نئی دہلی (ریڈیو نیوز + نیوز ایجنسیاں) اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سال پاکستان میں سیلاب کے خطرہ سے پچاس لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں جس کی وجہ ناقص تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات ہیں‘ ٹیلی فون پر برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے او سی ایچ اے کے سربراہ مینول بیسلر نے کہا کہ ہم مارچ کے آغاز سے ہی کسی ہنگامی حالت سے نمٹنے اور فوری اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے حکومت پاکستان سے رابطے میں ہیں رواں سال ہنگامی صورت کی صورت میں بیس لاکھ متاثرین جبکہ بدترین صورت میں پچاس لاکھ متاثرین کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم تیار ہیں پاکستان کے محکمہ موسمیات کی پیشنگوئیوں کے مطابق آئندہ مون سون سیزن میں گزشتہ سال سے دس فیصد کم بارشوں کی توقع ہے تاہم اس کے باوجود ناقص ڈھانچے کے باعث لاکھوں افراد سیلاب سے متاثر ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال مواقع کم ہیں اس کی وجہ فنڈز اور وقت کی کمی ہے۔ انسانی ہمدردی کے ادارے کسی بھی متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے امدادی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں مون سون کی بارشیں تو ضرور ہوں گی لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی شدت کیا ہوگی اور پاکستان کو غیر ملکی امداد کی کتنی ضرورت ہوگی۔ ہم اس کیلئے تیار ہیں اور اگر حکومت اور انسانی ہمدردی کے اداروں نے گزشتہ سال کے تجربے سے کوئی سبق نہ سکھا تو یہ ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غیرمعیاری تعمیرنو اور بحالی کے غیرتسلی بخش کاموں کی وجہ سے پاکستان میں رواں سال سیلاب کی صورت میں 50لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ایمرجنسی آفس کے سربراہ مینوئل بیسلر نے بیان میں کہا کہ گزشتہ برس سیلاب کے بعد تعمیر نو کے خراب اقدامات اور متاثرین کی بحالی کے نامناسب انتظامات کی وجہ سے اس سال سیلاب کی صورت میں بیس لاکھ افراد خطرے کی زد پر ہیں اور صورتحال مزید خراب ہوئی تو پچاس لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔ اس سلسلے میں تنظیم نے دونوں صورتوں میں اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔