مشرف‘ پرویز الٰہی و دیگر پر مقدمہ‘ رحمن ملک اور بابر عوان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواستیں خارج

24 جون 2011
راولپنڈی (آئی این پی + ریڈیو نیوز / وقت نیوز) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے بےنظیر بھٹو قتل کیس مےں پرویز مشرف ، پرویز الٰہی و دیگر کے مقدمہ کے لئے نئی ایف آئی آر کے اندراج، رحمن ملک اور بابر اعوان کے نام ای سی ایل مےں شامل کرنے اور تفتیش ایف آئی اے سے واپس لے کر پنجاب پولیس کے سپرد کرنے کی تینوں درخواستیں خارج کر دیں جبکہ عدالت نے سی پی او راولپنڈی کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار چودھری اسلم اور ان کے وکیل کو تحفظ فراہم کریں۔ بنچ نے 15جون کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اپنے حکم مےں کہا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی ایف آئی آر پہلے سے ہی درج ہے مزید اندراج کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ جمعرات کے روز جسٹس اعجاز احمد، جسٹس صغیر احمد قادری اورجسٹس چودھری طارق پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بے نظیر بھٹو کے سابق پروٹوکول آفیسر چودھری اسلم کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے اپنی پٹیشنز میں پرویز مشرف ، پرویز الٰہی ، رحمن ملک ، بابر اعوان، سابق ڈی جی آئی بی اعجاز شاہ، حامد نواز، کمال شاہ، برگیڈیئر (ر) اقبال چیمہ، سابق ڈی سی او عرفان الٰہی ، سابق سی پی او سعود عزیز، سابق ایس ایس پی آپریشن یاسین فاروق، سابق ایس پی خرم شہزادکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس ایک بڑی سازش ہے جس میں پرویز مشرف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں، بابراعوان، رحمان ملک وغیرہ بیک اپ گاڑی لیکر نکل نہ جاتے تو اتنے بڑے سانحہ سے بچا جاسکتا تھا۔ پرویزالٰہی، کمال شاہ اور اعجاز شاہ کے بارے مےں محترمہ اپنی زندگی میں بتاچکی تھیں کہ یہ لوگ میری موت کے ذمہ دار ہونگے، سی پی او سعود عزیز اور دیگر مقامی افسران نے وقوعہ سے قبل پولیس فورس کو ہٹا لیا۔ دوسری پٹیشن میں چودھری اسلم نے اگست 2009ءمیں جاری ہونے والے حکومت پاکستان کے اس نوٹیفکیشن کو بھی چیلنج کیا تھا جس میں بے نظیر قتل کیس کی تفتیش پنجاب پولیس سے لیکر ایف آئی اے کو سونپ دی گئی تھی، ان کا موقف تھا چونکہ رحمان ملک بطور ملزم ہیں اور وزیر داخلہ ہونے کے ناطے وہ ایف آئی اے کی تفتیش پر پوری طرح سے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تیسری پٹیشن میں چودھری اسلم نے رحمان ملک اور بابر اعوان کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی درخواست کی تھی۔ گزشتہ روز فاضل عدالت نے سرکارکے وکلاءکے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے چودھری اسلم کی رٹ پٹیشنز خارج کردیں، عدالت نے سی پی او اظہر حمید کھوکھر کو طلب کر رکھا تھا عدالت نے انھیں ہدایت کی کہ پٹیشنر چودھری اسلم اور ان کے وکیل اسد راجپوت کو جان و مال کا خطرہ ہے لہٰذا انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ بعدازاں چودھری اسلم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ میں ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں، سچ جتنا بھی کڑوا ہو اسے ماننا ہی پڑتا ہے، میں انصاف کے لئے سپریم کورٹ تک جاﺅنگا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں مارا نہ جاﺅں لیکن بی بی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے آخری دم تک لڑوں گا۔