پولیس میں چند انتہاپسندوں کی نشاندہی ہوگئی، نگرانی کر رہے ہیں: رانا ثناء

24 جون 2011
لاہور (خبرنگار + سٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس میں چند انتہاپسندوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کی حکومت نے نگرانی شروع کر دی ہے۔ ان افراد کو کوئی بھی حساس نوعیت کی ڈیوٹی نہیں دی جا رہی۔ پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو مےں رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس مےں سکروٹنی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کرپٹ جیالا عسکری قیادت کا جس طرح ترجمان بن رہا ہے اس پر عوام میں عسکری اداروں کے حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ اسکے ساتھ ہیں۔ آصف زرداری فوج کے کمانڈر انچیف ہیں آئی ایس پی آر کا منصب نہ سنبھالیں۔ بابر اعوان کالے کوٹ میں کالی بھیڑ ہےں۔ انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کے بارے میں بات کروں یا ان کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پیش کروں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بجٹ منظوری کا کوئی کریڈٹ نہ لے کیونکہ جب بجٹ منظور ہوا تو ایوان میں پیپلز پارٹی کے 3 اور (ق) لیگ کے 8 ارکان موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کے مطابق حمایت کرنے کی بجائے ”No“ کی آواز بلند کی۔ اسمبلی مےں پوائنٹ آف آرڈر پر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ حکومت صحافی برادری کے مفادات اور انہیں جانی و مالی تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کریگی اور صحافی کالونی میں قبضوں کیخلاف درخواستوں پر کارروائی نہ کرنے پر ایس ایس پی لاہور نے انکوائری کے بعد ایس ایچ او ہربنس پورہ محمد اکمل کو معطل کر دیا ہے اور اسے اور ڈی ایس پی باغبانپورہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں اور پریس کلب کے اسسٹنٹ مینجر عقیل احمد اور ممبر اختر حیات کی درخواستوں پر پولیس کو مقدمات درج کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ صحافی کالونی کے دیگر مسائل کے حل کے لئے کمشنر اور ڈی سی او لاہور کیساتھ مل کر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔