مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کی تحریک دبانے کیلئے بھارتی فوج کو لیزر گنوں کے استعمال کی اجازت دے دی گئی

24 جون 2011
لاہور (رپورٹ سلمان غنی) پاکستان سے مذاکراتی عمل میں مصروف بھارت کی مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی اور سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک جانب وہ مسئلہ کشمیر کی جگہ مذاکراتی عمل میں دہشت گردی خصوصاً ممبئی بم دھماکوں پر بات چیت پر زور دیتا ہے تو دوسری جانب وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے اور اس پر اثرانداز ہونے کیلئے ممکنہ ہتھکنڈے اور خصوصاً مہلک ہتھیار اور گنز استعمال کررہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بھارت نے مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں تعینات سنٹرل ریزرو پولیس (سی آر پی ایف) اور پولیس کو لیزر گنوں کی فراہمی تیز کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر اسکے استعمال کی اجازت دیدی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارتی فورسز کو یہ ہتھیار اس لئے فراہم کئے جا رہے ہیں کہ یہ غیرمہلک ہیں۔ ان گنوں سے نکلنے والی گیسز سے انسان کے اعصاب ضرور مفلوج ہوتے ہیں مگر ان سے انسانی جان محفوظ رہتی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پچھلے کچھ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھارتی فوج کے بدترین مظالم کیخلاف جاری ”بھارتیو جموں کشمیر چھوڑ دو“ تحریک کے دوران مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی پر بھارتی فورسز نے اس گھناﺅنے منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے سی آر پی ایف اور پولیس میں ان مہلک ہتھیاروں کی فراہمی تیز کردی ہے جس سے مظلوم کشمیری مسلمانوں میں زبردست خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ماہر سائنسدانوں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کو دئیے گئے ان مہلک ہتھیاروں سے فوری طور پر انسانی جانیں تو نہیں جائیں گی مگر انکے استعمال سے انسانی جسم پر مضر اثرات کا مرتب ہونا یقینی اور ثابت شدہ امر ہے۔ حریت کانفرنس (گیلانی گروپ) نے بھی بھارتی فورسز کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی اور اسکی اجازت دینے پر شدید احتجاج کیا ہے اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے اس اقدام کا سنجیدگی سے سخت نوٹس لیں۔