موجودہ حکومت مینڈیٹ کھو چکی‘ مسلم لیگ کا اتحاد ہی ملک کو دلدل سے نکال سکتا ہے: اعجاز الحق

24 جون 2011
لاہور (رپورٹ: خواجہ فرخ سعید) متحدہ مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اعجاز الحق نے کہا ہے کہ ملک کو دلدل سے مسلم لیگ کا وسیع تر اتحاد ہی نکال سکتا ہے۔ افواج، حکومت اور اپوزیشن نمائندوں پر مشتمل نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام وقت کی ضرورت ہے، بلاامتیاز احتساب کےلئے جوڈیشل احتساب کمشن بننا چاہئے، موجودہ حکومت اپنا مینڈیٹ کھو چکی ہے، مسلم لیگوں کے اتحاد کا آخری موقع ہے، متحدہ مسلم لیگ مےں مسلم لیگ (ن) شامل نہ ہوئی تو دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر متحدہ مسلم لیگ سیاسی اتحاد بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایوان وقت مےں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی سے ان کے دفتر مےں ملاقات کی۔ اعجاز الحق نے مزید کہا کہ ہم نے مجید نظامی کی سرپرستی مےں مسلم لیگوں کے اتحاد کا بیڑا کافی دیر سے اٹھایا ہوا تھا اسی سلسلے مےں مےں نے 3 جون 2010ءکو تمام مسلم لیگی قائدین کو خط لکھ کر باقاعدہ دعوت دی کہ ” اتحاد “ کےلئے گفت و شنید کرنی چاہئے۔ سب نے دیکھا کہ اس کے بعد مسلم لیگ کے کنوینر میر ظفر اللہ جمالی نے مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین سے مسلم لیگوں کے اتحاد مےں آنے کی بات کی لیکن ان کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر ظفر اللہ جمالی کنارہ کش ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حامد ناصر چٹھہ کو حال ہی مےں تین ماہ کے لئے متحدہ مسلم لیگ کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے اور ہماری کوشش جاری ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو بھی اس اتحاد مےں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگوں کے اتحاد کا یہ آخری موقع ہے، دائیں بازو کی جماعتیں اکٹھی نہ ہوئیں تو پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ نوازشریف وطن واپسی کے بعد اپنی ذات سے بلند ہو کر ملکی مفاد مےں مسلم لیگوں کو اکٹھا کر لیتے تو ملک آج جس دلدل مےں دھنسا ہوا ہے اس صورت حال سے دوچار نہ ہوتا اور نہ ہی موجودہ حکومت قائم ہو سکتی جس نے ملک کی خودمختاری کو داﺅ پر لگا دیا ہے، ڈرون حملے، مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب مےں قوم کو مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت این آر او کے ذریعے وجود مےں آئی۔ این آر او کے خالق پرویز مشرف خود تسلیم کر چکے ہےں کہ این آر او ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے شفاف عام انتخابات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے پرالزام لگانے کی بجائے اپنی توانائی ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، ڈرون حملوں سے نجات پر صرف کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت ہمارے دشمنوں کا ہدف ہمارے ایٹمی اثاثوں کو اڑانا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ہمارے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہےں اس لئے ان پر آبزرور بٹھائے جائیں جو پاکستان کو اس کی مرضی کے مطابق انہیں استعمال نہ کرنے دیں، فوج اور ملک کے خلاف سازشیں ہو رہی ہےں جنہیں ملکی قیادت بھانپنے مےں ناکام ہے۔ دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ کی رٹ لگانے کی بجائے اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ ایبٹ آباد اور مہران بیس کے واقعات افسوسناک ہےں، فوج اور ایجنسیوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے کوتاہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب جنگ مےں ہوں تو اس مےں اونچ نیچ ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کو سیاسی جلسوں مےں رگڑیں، آئی ایس آئی جس سے دنیا خوفزدہ تھی اسے ہم ہی نشانہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹریوں کے حالیہ مذاکرات کا کچھ نتیجہ نہیں نکلنے والا۔ مسئلہ کشمیر کو بنیادی حیثیت دے کر اور کشمیری قیادت کو مذاکرات مےں شامل کرنے سمیت دہشت گردی پر بھارت سے بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان مےں دہشت گردی کے واقعات مےں غیر ملکی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے جن مےں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ سرفہرست ہے لیکن ہماری حکومت امریکہ کے دباﺅ کے تحت اس معاملے کو بین الاقوامی فورم پر نہیں اٹھا رہی۔