”پاکستان میں دہشت گردی امریکہ‘ بھارت کرا رہے ہیں‘ طالبان ملوث نہیں“

24 جون 2011
لاہور (خبرنگار خصوصی) پاکستان بھارت مذاکراتی عمل روایتی اور وقت گزاری کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر سمیت متنازعہ مسائل کا حل نہیں دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم مل بیٹھ سکتے ہیں ہم ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے‘ پاکستان میں دہشت گردی کے عمل میں طالبان نہیں امریکہ اور ہندوستان ملوث ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی ادارے جانتے بوجھتے ہوئے شواہد دنیا کے سامنے نہیں رکھتے خارجہ محاذ پر باصلاحیت اور جرات مند لوگ بھجوانے کی بجائے مامے چاچے اور من پسند تعینات کئے جاتے ہیں جو قومی مفادات کی بجائے سیاسی مفادات کیلئے کام کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کیلئے کور ایشو تھا اور ہے مگر افسوس ہمارے حکمرانوں اور ذمہ داران نے اس پر جرات مندانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا‘ مجرمانہ غفلت برتی۔ ان خیالات کا اظہار وقت نیوز کے پروگرام بروقت میں مواحد حسین سید‘ جنرل ریٹائرڈ جاوید‘ مولانا عبدالرحمن مکی نے میزبان سلمان غنی کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ مواحد حسین سید نے کہا کہ ہندوستان سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے لیکن خارجہ محاذ پر اس نے اپنا تاثر امن والے ملک کا دیا جبکہ بدقسمتی سے پاکستان نے خارجہ محاذ پر انہیں بھجوایا جو باصلاحیت اور اہل ہونے کی بجائے مامے چاچے اور من پسند ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ نہ کر سکے اور اپنا کیس دنیا کے سامنے نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر سسٹم اور کلچر بدلے بغیر ہم بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں نام نہاد جمہوریت قائم ہے جو ڈلیور نہیں کر پاتی۔ انہوں نے پاکستان بھارت مذاکرات کو مذاکرات برائے مذاکرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ےہ وقت گزاری ہے‘ بدقسمتی سے ہماری حکومتوں نے کشمیر جیسے بنیادی مسئلہ پر مضبوط موقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اسلام کی بدنامی کیلئے اپنا کردار ادا کیا‘ لیکن ہم اسے ایکسپوز نہیں کر سکے۔ ریٹائرڈ جنرل جاوید نے مذاکراتی عمل کو مصنوعی اور روایتی قراردیتے ہوئے کہا کہ مےز لگانے کا مقصد دنیا کو بتانا ہے کہ یہ آپس میں نفرت نہیں کرتے‘ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقابلہ میں ہماری پالیسی موثر نہیں جس کی وجہ سے ہمارے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکہ افغانستان سے جانے سے پہلے ایسا بندوبست چاہتا ہے کہ اس کے مفادات محفوظ رہیں وہ ویتنام والے تجربے سے خوفزدہ ہے۔ ہماری مسلح افواج کا کشمیر کی آزادی کے حوالہ سے موقف بڑا واضح ہے۔ بہت سے چیلنجز درپیش ہونے کے باوجود کشمیر کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی دفاعی جنگی سوچ کا محور بھی کشمیر سے مشروط ہے۔ مولانا عبدالرحمن مکی نے کہا کہ بھارت امریکی سرپرستی میں دندنا رہا ہے امریکہ اسے خطہ میں تھانیدار اور چوکیدار بنانے پر تلا ہوا ہے بدقسمتی سے ہماری حکومتیں ان کے مقاصد اور عزائم سمجھ نہیں پا رہیں کشمیر کے اندر جاری تحریک دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ کشمیری ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں لیکن ہم ان کا کیس موثر انداز میں نہیں لڑ پا رہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے کیمپ ہیں یہ طالبان کے نہیں امریکہ اور بھارت کی سرپرستی میں چل رہے ہیں لیکن ہمارے اداروں کو خبر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پتھروں سے سر ٹکرانے کے بعد امریکہ بھی واپسی کے راستے پر گامزن ہے اور بھارت کو بھی کشمیر سے واپس جانا ہے۔