A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

این آئی سی کیس: لوٹ مار نہیں چلے گی‘ ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں: چیف جسٹس

24 جون 2011
این آئی سی کیس: لوٹ مار نہیں چلے گی‘ ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں: چیف جسٹس
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری، سیکریٹریز اسٹیبلشمنٹ و داخلہ کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے جواب داخل نہیں کیا جا سکا جیسے ہی وہ وطن واپس لوٹیں گے تینوں کی جانب سے جواب داخل کرا دیا جائے گا لہٰذا انہیں کچھ وقت دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خوشنود اختر لاشاری کا جواب اہم ہو گا اس سے معلوم ہو گا کہ ظفر قریشی کا تبادلہ کس نے کیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ظفر قریشی کو واپس لانے کیلئے کیا کیا جا رہا ہے۔ کیا ضروری ہے کہ ہم اوپر کے افسروں تک پہنچیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ وہ دیکھیں گے وہ اس حوالے سے کیا کر سکتے ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اتنے سینئر افسروں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔ عدالت ضبط کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ غلط فائدہ اٹھایا جائے۔ جس طرح ظفر قریشی کی تبدیلی کے احکامات جاری کئے گئے تھے ہم بھی ان کو واپس لانے کیلئے حکم دے سکتے ہیں پھر دیکھیں گے کہ کون عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ جسٹس طارق پرویز نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ ظفر قریشی کو واپس نہیں لایا جا رہا کیا کسی وجہ سے کوئی خوف ہے۔ شفاف تحقیقات کرنی ہےں تو ظفر قریشی کو واپس لانا ہوگا۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر بابر اعوان سے کہا کہ اگر آپ کا کوئی اثر ہے تو استعمال کریں ورنہ ہم آرڈر پاس کر سکتے ہےں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مخدوم امین فہیم کی اہلیہ کی جانب سے چار کروڑ سے زائد کی رقم واپس کر دی گئی ہے تو چیف جسٹس نے کہا یہ رقم الطاف سلیم کے اکاﺅنٹ مےں جمع کرائی گئی ہے معلوم نہیں کہ وہاں سے قومی خزانے مےں آتی ہے یا نہیں اس کے باوجود سماجی روایات کے مطابق ہم خاتون کی عزت کرتے ہےں اب یہ ایف آئی اے کا معاملہ ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے معظم جاہ نے عدالت کو بتایا کہ دو ہفتوں مےں دو کروڑ روپے واپس لئے ہےں۔ عدالت نے این آئی سی ایل کے موجودہ چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارے کو پہنچنے والے نقصان اور واپس آنے والی رقم کے فائدہ پر مبنی رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت مےں پیش کریں اور ملزموں کےخلاف فوری مقدمات درج کر کے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔