پاکستان اور بھارت کے امن و سلامتی پر مذاکرات‘ آج کشمیر پر بات ہو گی

24 جون 2011
پاکستان اور بھارت کے امن و سلامتی پر مذاکرات‘ آج کشمیر پر بات ہو گی
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر دفتر خارجہ میں مذاکرات ہوئے‘ پہلے روز کے مذاکرات میں امن اور سکیورٹی کے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں پاکستان کی طرف سے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اور بھارت کی جانب سے سیکرٹری خارجہ نروپماراو نے قیادت کی۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ آج بھی جاری رہے گا اور دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق آج ہونے والے مذاکرات میں جموں و کشمیر کے مسئلہ پر توجہ مرکوز ہو گی۔ دوسری جانب چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لئی نے کہا کہ چین مذاکرات اور تعاون کے ذریعے اختلافات دور کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات نہ صرف جنوبی ایشیا خطے کے مفاد میں ہیں بلکہ پورے ایشیا میں امن ‘ استحکام اور ترقی میں مددگار بھی ثابت ہونگے۔ مذاکرات کے بعد سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا کہ وہ پہلے راونڈ کے مذاکرات سے مطمئن ہیں‘ کشمیر پر مذاکرات سے مثبت پیشرفت کی توقع ہے‘ سلمان بشیر نے کہا کہ 1999ءکا ”لاہور اعلامیہ“ اور یادداشت کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان امن و سلامتی کے حوالے سے جامع دستاویز ہے اسے آگے لے کر بڑھیں گے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاملات حل کرنے کا بہتر راستہ ہے۔ اس یادداشت کے معاہدے میں مجوزہ اقدامات پر عمل ہی امن اور سکیورٹی کے مسائل کے حل کی ضمانت ہے‘ آج کشمیر پر مذاکرات کیلئے پرامید ہیں دہشت گردی پوری دنیا اور بالخصوص خطے میں امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ اس موقع پر بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراو نے کہا کہ مذاکرات میں اچھی اور تعمیری بات چیت ہوئی‘ یہ جاری رہے گی۔ امن اور سلامتی دونوں ملکوں کیلئے بہت ضروری ہے‘ اسی صورت میں ہم تجارت، اقتصادی تعلقات اور دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھا سکیں گے اور دونوں ملکوں کو خطے کے عوام کے مستقبل کیلئے اہم اقدامات کرنا ہونگے۔ تعلقات کی بہتری کیلئے مزید نئے اقدامات طے کئے ہیں مگر وہ ابھی میڈیا پر نہیں بتا سکتے۔ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہوں‘ اعتماد سازی کے عمل کیلئے بہت ضروری ہے دونوں ملکوں کے ایکسپرٹ گروپ جلد ملاقات کرینگے جس کی تاریخوں کا تعین سفارتی ذرائع سے کیا جائے گا۔ پہلے سے جاری اعتماد سازی کے اقدامات کے علاوہ مزید اقدامات کریں گے‘ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ملکوں کا مسئلہ ہے اور دونوں ملک مل کر لڑیں گے۔ نروپماراو کے ساتھ بھارتی وفد میں حکام کے علاوہ میڈیا نمائندے بھی شامل ہیں، آج دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔ اسلام آباد پہنچنے پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے نروپماراو نے کہا کہ وہ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری کے ساتھ مذاکرات میں کھلی اور تعمیری سوچ کے ساتھ شریک ہو رہی ہیں۔ کھلے دماغ اور تعمیری سوچ کے ساتھ پاکستان آئی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ان مذاکرات سے رشتے مزید مضبوط ہوں گے اور اس سے دونوں طرف کی عوام خوشحال ہوں گے۔ ان کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے بعد اگلے مہینے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ دہلی میں مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے علاوہ امن وسلامتی، اعتماد کی بحالی کے اقدامات اور دوستانہ وفود کے تبادلے کے فروغ کے لئے بات چیت کی جائے گی۔ بھارت مےں قےد پاکستانی پروفےسر خلےل چشتی کا معاملہ انسانی ہمدردی کی بنےاد پر حل کیا جائے گا۔ بھارت کو بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر تشویش ہے‘ پاکستان ممبئی حملہ میں ملوث ملزموں کے خلاف کارروائی میں تیزی لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مستحکم‘ پرامن اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں‘ اپنی قیادت کی جانب سے دئیے گئے مینڈیٹ کے مطابق معاملات پر بات چیت کریں گے۔ ان میں امن و سلامتی ‘ اعتماد سازی کے اقدامات‘ جموں و کشمیر اور دوستانہ تبادلوں کا فروغ شامل ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کھلے ذہن اور مثبت سوچ کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہا ہے‘ امید ہے بھارت کی جانب سے بھی ایسا ہی جواب ملے‘ امن اور سکیورٹی پر بات چیت ہو گی‘ جموں و کشمیر تنازعہ‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور دوستانہ وفود کے تبادلوں پر بھی بات چیت ہو گی۔ دونوں ممالک کے ورائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا بھی طے کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی اور علاقائی استحکام و ترقی ہے۔