زرداری نے خود واضح کر دیا نوازشریف کا ہدف فوج نہیں چند مخصوص جرنیل ہیں

24 جون 2011
لاہور (احمد جمال نظامی سے) قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان کی طرف سے بغیر کسی تکلف کے کہا گیا ہے کہ فوج کو آصف علی زرداری کی صورت مےں نیا ترجمان مبارک ہو، چودھری نثار کے اس بیان کے بعد یہ بات مختلف حلقوں میں موضوع بحث بن چکی ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی طرف سے دفاعی اداروں پر تنقید کے تابڑ توڑ حملوں کا آخر ہدف کون ہے اور کیا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے؟ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے نواز شریف پر کئے گئے کراس فائر سے اتنا تو ضرور واضح ہوا ہے کہ وہ فوج کو نہیں بلکہ جرنیلوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب کے دوران سوال کیا ”آپ جرنیلوں کو برا اور سپاہیوں کو اچھا کہنے والے کون ہوتے ہیں؟“ میاں محمد نوازشریف کے جارحانہ طرزعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ زرداری کی منافقانہ سیاسی چالوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ گمان کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مسلم لیگ ن پنجاب اور قومی اسمبلیوں سے استعفے دینے کا آپشن بھی استعمال کر سکتی ہے۔ قائد مسلم لیگ ن کے حالیہ انداز کو سیاسی پنڈت بہت حد تک عوام کی ترجمانی قرار دے رہے ہیں کیونکہ عوام انتقام کی حد تک پیپلزپارٹی کی حکومت سے اُکتا چکے ہیں۔ جب موجودہ حکومت نے اپنے دورِ اقتدار کے دوران عوام کو مہنگائی، بھوک، بیروزگاری اور امریکی دہشت گردی کی آگ کے سوا کچھ نہیں دیا تو پھر عوام کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے؟ نوازشریف ماضی کے تلخ تجربات سے شاید اب سبق سیکھنے کے خواہشمند ہیں اسی لئے جرنیلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ 12 اکتوبر 1999ءکے اپنے دامن پر ایک فوجی آمر کے ذریعے لگنے والے غیرجمہوری زخموں کو فراموش کرنے پر آمادہ نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ جب بھی اُبھریں گے اور خالصتاً قومی ایشوز کی بات کریں گے تو امریکہ فوجی آمروں کو حائل کر دے گا۔ وہ شاید زرداری کی پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل پر حالات و واقعات کے باعث بہت زیادہ سیخ پا ہو چکے ہیں کہ پرویز مشرف نے گذشتہ روز لندن سے اپنی پارٹی کے ورکرز سے خطاب کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کے گڑھ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا انتخاب کیا۔ ان کی پارٹی کو پاکستان الیکشن کمشن نے سیاسی جماعت کے طور پررجسٹرڈ نہیں کیا۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں انہیں ایوان صدر سے رخصت کرتے وقت 21 توپوں کی سلامی تو دے دی گئی اور اس وقت پیپلزپارٹی کے حکومتی اکابرین کو بالکل بھی خیال نہیں آیا کہ کل کلاں یہ شخص ملکی عدالتوں کو سانحہ 3 نومبر 2007ءکے حوالے سے بھی مطلوب ہو سکتا ہے۔ اب مشرف کا نام بینظیر بھٹو کے قتل کی ایف آئی آر میں آ گیا ہے اور موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کا صرف ڈیڑھ سال باقی رہ گیا ہے۔ اگلے انتخابات میں عوام کے پاس جانا ہے اور عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کے قاتلوںکا کیا کیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے قتل ہو جانے کی صورت میں جن افراد کے نام اپنے قتل کی ایف آئی آر میں درج کرنے کی ای میل جاری کی تھی ان میں سے مشرف لندن میں بیٹھ کر قوم سے ٹیلی فونک خطاب کا خواہاں ہے اور چودھری پرویزالٰہی کو آصف علی زرداری نے سینئر وفاقی وزیر بنا کر چودھری ظہورالٰہی اور ذوالفقار علی بھٹو کی باہمی دشمنی کی وراثت کو باہمی دوستی میں تبدیل کر دیا ہے۔ دہشت گردی کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں جنرل پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ مشرف کے ساتھیوں نے پنجاب کے دارالحکومت میں ملک کے سب سے بڑے اشتہاری کے ٹیلی فونک خطاب کا اہتمام کرنا چاہا جسے روک دینا پنجاب حکومت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری تھی کہ قتل کے الزام میں ملوث اشتہاری شخص ٹیلی فونک خطاب کرتا تو صوبے کی اپوزیشن اس کے لئے مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کرتی کہ وہ بینظیر کے قاتل کو جلسہ عام سے خطاب کرنے کا موقع دے رہی ہے لیکن مشرف نے ٹیلی فونک خطاب میں بھی کمانڈو ایکشن کیا۔ چونکہ میاں محمد نوازشریف آزادکشمیر میں اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان کی کارگل کی مہم جوئی، ان کے 12اکتوبر 1999ءکے ملٹری ٹیک اوور اور دیگر اقدامات کو بھی ہدف تنقید بنا رہے تھے لہٰذا مشرف کے پارٹی ورکروں نے مجوزہ جلسہ گاہ سے ہٹ کر لاہور کی کسی سڑک پر مشرف کے ٹیلی فونک خطاب کو ممکن بنا دیا اور مشرف نے میاں محمد نوازشریف کے اس دعوے کے جواب میں کہ اگر جنرل پرویزمشرف ان کی اجازت کے بغیرکارگل کی جنگ کا آغاز نہ کر دیتے تو 1999ءکشمیر کی آزادی کا سال ہوتا۔ مسلم لیگ (ن) کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس امر کے ثبوت موجود ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی جنگ ان کے علم میں لائے بغیر شروع کی تھی اور صرف اس لئے شروع کی تھی کہ 1999ءتنازعہ کشمیر کے حل کا سال قرار پا چکا تھا۔ بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف میں واجپائی کے دورہ لاہور کے وقت یہ طے پا گیا تھا کہ تنازعہ کشمیر کو 1999ءمیں حل کر لیا جائے گا۔جنرل پرویزمشرف نے 20جون کے ٹیلی فونک خطاب میں میاں محمد نوازشریف کے حوالے سے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے واجپائی کے ساتھ کشمیر کا سودا کرلیا تھا اور ان کا موقف ہے کہ یہ کارگل کی جنگ ہی تھی جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر ابھرکر دنیا کی نظرو ںمیں آیا تھا تاہم انہوں نے نوازشریف کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا کہ اس جنگ کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ملک کے وزیراعظم کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ واجپائی کے دورہ لاہور میں میاں محمد نوازشریف اور بھارتی وزیراعظم مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے کسی ممکنہ حل تک پہنچ گئے تھے اور اس حل کی بھنک جنرل پرویزمشرف کو بھی پڑ گئی تھی۔ غالباً اسی پہلو پر مشرف سمیت بعض جرنیلوں نے میاں محمد نوازشریف کو 1999ءختم ہونے سے پہلے پہلے ہی اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ میاں محمد نوازشریف کو اب اس سلسلہ میں بھی لب کشائی کر ہی لینی چاہئے۔ نواز شریف پرویز مشرف جیسے آمر جرنیلوں کے کردار کی وجہ سے اس مرتبہ کھل کر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہیں یقینا فوج کے بااثر حلقوں کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے مگر ان کو چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی منزل کو انٹی امریکہ شاہراہ پر مزید مضبوطی کے ساتھ گامزن کریں اور بحیثیت ادارہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو فوج کیلئے مثبت نہ ہو۔ میاں محمد نواز شریف کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سب کو بے چین اور بے بس کرنے والے ایوانِ صدر کے مکین کو بے چین اور لب کشائی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نواز شریف کا ہر قدم ملک و قوم اور جمہوریت کے مفادات کے دائروں میں ہی رہنا ان کی اصل کامیابی ہو گی۔