شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستان پر ڈباﺅ ڈالیں گے: اوباما

24 جون 2011
واشنگٹن + کابل (اے ایف پی + اے پی پی + اے این این) امریکی صدربارک اوباما نے افغانستان سے امریکی فوج کی مرحلہ وار واپسی کے پروگرام کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال 10 ہزار، اگلے سال کے اختتام تک مزید 23 ہزارفوجی واپس بلا لیں گے۔ 2014ءتک انخلا مکمل کر کے تمام ترذمہ داریاں افغان حکومت کو منتقل کردی جائیں گی۔ افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت ہے، امید ہے طالبان سے مذاکرات میں پیشرفت ہو گی۔ پاکستان کی مدد سے القاعدہ کی کمر توڑنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں۔ پاکستانی حکومت پر دباﺅ ڈالیں گے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کیلئے وعدے پورے کرے۔ قوم سے براہ راست خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ اب افغان جنگ کی بساط لپیٹنے کا وقت آگیا ہے‘ اگلے ماہ سے امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا شروع ہو جائےگا‘ رواں سال کے آخر تک 10 ہزار اور اگلے سال مزید 23 ہزار فوجی واپس بلا لیں گے۔ امریکی فوج کا مشن جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے سے تبدیل ہو کر صرف معاونت کا رہ جائے گا۔ افغان عوام کو اقتدار کی مکمل منتقلی 2014ءتک ہو جائےگی اور امریکی فورسز واپس چلی جائیں گی۔ امریکی افواج نے طالبان کی قوت کو شدید نقصان پہنچایا‘ ان کے اہم ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ شدت پسندوں کو امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جب تک صدر ہوں، امریکہ شدت پسندوں کےلئے محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرےگا۔ شدت پسند ہم سے چھپ سکتے ہیں نہ ہی بچ سکتے ہیں۔ افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت ہے‘ امریکہ ایسے اقدامات میں شامل ہوگا جو افغان عوام کے درمیان مفاہمت کیلئے کئے جائیں گے ان میں طالبان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہماری پوزیش واضح ہے ہم مصالحت کی کوششوں میں شامل ہوں گے‘ مذاکرات افغان حکومت کرے اور جو ان مذاکرات کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ القاعدہ سے روابط ختم کرےں۔ امید ہے طالبان سے مذاکرات میں پیشرفت ہو گی۔ مئی 2012ءکو شکاگو میں نیٹو کی سربراہی کانفرنس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائےگی۔ امریکہ پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے کیلئے تعاون جاری رکھے گا پاکستانی حکومت اس حوالے سے اپنے عزم کی پاسداری کرے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی کوششوں میں پاکستان میں موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی شامل کرنا ہے۔ پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کیخلاف کام جاری رکھے۔ القاعدہ اب بھی خطرناک ہے، ہمیں اس سے چوکنا رہنا ہوگا اسامہ بن لادن کی ہلاکت سب کیلئے بڑی فتح ہے۔ ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ یہ تنظیم دباﺅ کا شکار ہے۔ انتہا پسندی کا سرطان جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ پاکستان پر دباﺅ ڈالیں گے کہ وہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کیلئے وعدے پورے کرے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون بڑھائے۔ پچھلے دس سال امریکہ کےلئے مشکل رہے ہیں۔ اس دوران تقریباً 4500 امریکی عراق میں اور 1500 امریکی افغانستان میں ہلاک ہوئے۔ جنگ کے بادل اب چھٹ رہے ہیں اور عراق سے ایک لاکھ فوجی پہلے ہی واپس بلائے جا چکے ہیں۔ طویل جنگوں کو ذمہ دارانہ انجام تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ ان جنگوں کی وجہ سے ہمارے دنیا میں مختلف تنازعات میں شرکت کے بارے میں سوالات نے جنم لیا ہے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم دنیا میں سلامتی کیلئے اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جائیں۔ امریکہ آزادی اور خوشحالی کا تحفظ کرتا ہے اور انکو دوسروں کیلئے بھی ممکن بناتا ہے۔ امریکی معیشت کی بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ پچھلی دہائی میں جنگوں میں کھربوں ڈالر لاگت آئی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی پر رقم لگائیں۔ ہمیں نئی نوکریاں دینا ہوں گی‘ صنعتیں بنانی ہوں گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ القاعدہ یہ ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے کہ امریکی قوم اسلام کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ القاعدہ کو شکست کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے‘ اس میں مکمل کامیابی تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعاون مضبوط کرنا چاہتے ہیں‘ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں پاکستان نے مدد کی ہے‘ پاکستان مجموعی طور پر ہم سے تعاون کر رہا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے فوج کے انخلا کے اوباما کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے بعد افغان نوجوان ملک کا دفاع کریں گے‘ مدد پر اتحادی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی مرحلہ وار واپسی سے متعلق صدر اوباما کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں افغان طالبان نے کہا افغانستان سے رواں برس 10 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان محض دکھاوا ہے جس سے عالمی برادری مطمئن ہو گی نہ ہی امریکی عوام۔ امریکی حکومت اپنے عوام کو افغان جنگ ختم کرنے اور بے بنیاد فتح حاصل کرنے کی غلط امید دلا رہی ہے۔ افغانستان میں بے مقصد خون ریزی کا سلسلہ بند کرنے کےلئے امریکہ کو مزید سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان بحران کا حل غیر ملکی افواج کا فوری طور پر مکمل انخلا ہے۔ جب تک بین الاقوامی سکیورٹی فورسز افغانستان میں موجود ہیں طالبان کی مسلح جدوجہد میں روز بروز اضافہ ہو گا۔ نیٹو حکام نے صدر اوباما کے بیان کو سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں‘ پاکستان نے مختصر ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کا اشتراک جاری ہے‘ اگلے ہفتے کابل میں پاکستان ‘ افغانستان‘ امریکہ کے کور گروپ کے اجلاس میں ان امور پر تفصیل سے بات ہو گی۔
کابل (ثناءنیوز + اے ایف پی) افغانستان سے امرےکی صدر کی جانب سے فوج واپس بلانے کے اعلان کے ساتھ ہی برطانےہ‘ فرانس‘ جرمنی اور آسٹرےلےا نے بھی واضح کر دےا ہے کہ ان کی فوج 2014 ءکے آخر تک وطن لوٹ آئے گی ۔ برطانوی وزےر خارجہ ولےم ہےگ نے اپنے افغان ہم منصب سے کابل مےں ملاقات کی اور بعد مےں اعلان کےا کہ برطانوی فوج 2014 ءتک وطن لوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کرچکے ہےں کہ 2015ءمےں ان کی فوج افغانستان مےں لڑاکا کردار ےا موجودہ تعداد مےں نہےں رہے گی مگر ماہرےن معاشی تعاون اور ترقےاتی امداد کی صورت مےں برطانوی دوستی طوےل عرصہ تک رہے گی۔ افغان وزےر خارجہ نے کہا کہ ےہ رابطوں کا ابتدائی مرحلہ ہے اس کا مطلب مذاکرات نہےں ےہ افغان قےادت کے زےر نگرانی عمل ہے ۔ دوست ممالک مدد کر رہے ہےں تاکہ مقصد حاصل ہو سکے۔ جرمنی نے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے صدر اوباما کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی بھی اس سال افغانستان سے اپنی کچھ فوج واپس بلائے گا۔ وزیر خارجہ گیڈو وہیڑویل نے ایک بیان میں یہ نہیں بتایا کہ جرمنی اس سال اپنی کتنی فوج واپس بلائے گا۔ فرانس کے صدارتی آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کے فوجوں کی واپسی کے اعلان کے بعد فرانس بھی اپنی فوج واپس بلانے کا عمل شروع کریگا اور امریکی انخلا کے تناسب سے ہی اپنے فوجیوں کو واپس بلائے گا۔ آسٹریلیا کی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر اوباما کی جانب سے اسی سال سے فوجی واپس بلانے کے اعلان کے باوجود آسٹریلیا کی موجودہ فوج 2014ءتک افغانستان میں رہے گی جس کی تعداد 1500ہے‘ نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسین نے صدر اوباما کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کا جزوی انخلا افغانستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف کامیابی کا فطری نتیجہ ہے‘ افغانستان میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا ہے‘ طالبان شدید دباو میں ہیں۔