مسئلہ کا سیاسی حل: او آئی سی نے وفد لیبیا بھیج دیا‘ نیٹو کا قذافی کے قریبی ساتھی کے گھر پر حملہ‘3 بچوں سمیت 15 ہلاک

24 جون 2011
قاہرہ (ریڈیو نیوز) او آئی سی نے لیبیا کے مسئلے کے سیاسی حل کیلئے رضامندی ظاہر کر دی اور اس سلسلے میں کوششیں بھی شروع کر دیں، جبکہ اعلیٰ سطح کا سیاسی وفد لیبیا پہنچ گیا۔ ادھرصدر معمر قذافی کے قریبی ساتھی خویلدی حمیدی کے گھر پر نیٹوکے فضائی حملہ میں 3 بچوں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ لیبیا کے صدر نے کہا ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر مغربی صلیبی حملہ آوروں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، میں موت سے نہیں ڈرتا، ہم اس وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک تم بھاگنے پر مجبور نہیں ہو جاﺅ گے۔سرکاری ٹی وی ویڈیو پیغام میں قذافی نے کہا نیٹو فورسز قاتل ہیں۔ جنہوں نے دنیا کو جنگل میں تبدیل کر دیا ۔ اقوام متحدہ مبصر بھیجے۔ معصوم شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔ بچوں کو قتل کیا گیا۔ اب معاہدے کی گنجائش نہیں ہے۔ ادھرعالمی کریمنل کورٹ قذافی ، ان کے بیٹے سیف الاسلام اور لیبیائی انٹیلی جنس ہیڈ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنےکا فیصلہ پیر کو کرےگی۔ برطانیہ نے کہا آپریشن پر 26 کروڑ ڈالر اخراجات آئیںگے۔ لیبیا میں نو فلائی زون پر عملدرآمد سے متعلق نیٹو کے فضائی مشن کو جاری رکھنے پر یورپی اتحادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔