قومی اسمبلی: 24 کھرب‘ 73 ارب‘ 85 کروڑ کا ضمنی بجٹ منظور‘ رواں برس 3 کھرب‘ 87 ارب کے اضافی اخراجات ہوئے: وزیر خزانہ کا اعتراف

24 جون 2011
اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے رواں مالی سال 2010-11ءکے 24 کھرب 73 ارب 85 کروڑ 11 لاکھ 96 ہزار کے ضمنی بجٹ کی منظوری دیدی اور مختلف وزارتوں، ان کے ماتحت اداروں اور ڈویژنز کے تمام مطالبات زر بھی منظور کر لئے۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اعتراف کیا کہ رواں مالی سال کے دوران 3 کھرب 87 ارب روپے اضافی اخراجات ہوئے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کے 18 کھرب 9 ارب 45 کروڑ 25 لاکھ سے زائد مالیت کے لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں جس کے مطابق 30 جون 2011ءکو ختم ہونے والے مالی سال کے لازمی اخراجات کیلئے الاﺅنسز اور پنشن کی مد میں 17 کروڑ 80 لاکھ، سول ورکس کیلئے ایک کروڑ 58 لاکھ، سینٹ کیلئے 5 ہزار، پاکستان ریلوے کیلئے 33 کروڑ 66 لاکھ 88 ہزار، ایوان صدر کے عملہ، خانہ داری اور الاﺅنسز کی مد میں 9 کروڑ 58 لاکھ 24 ہزار، مختصر المیعاد غیر ملکی قرضہ جات کی مد میں 14 ارب 11 کروڑ 23 لاکھ 89 ہزار، آڈٹ کیلئے 34 کروڑ 90 لاکھ، مصارف بیرونی قرضہ جات 31 ارب 86 کروڑ 90 لاکھ 66 ہزار، انتخابات 9 ہزار اور وفاقی ٹیکس محتسب کیلئے 11 ہزارروپے ادا کئے گئے۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے وفاقی وزارتوں، ان کے ماتحت اداروں اور ڈویژنز کے 664 ارب سے زائد کے تمام مطالبات زر ایوان میں منظوری کیلئے پیش کئے جن کی قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظوری دیدی۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زاہد حامد نے کہا کہ رواں سال ضمنی مطالبات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 400 فیصد اضافہ ہوا‘ رانا تنویر حسین نے کہا کہ اداروں کو آئین اور قانون کا پابند بنایا جائے۔ انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ اتنے بھاری حجم کا ضمنی بجٹ اقتصادی اور مالیاتی بدنظمی کا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ایل پی جی پر کوئی سبسڈی نہیں ہے اس کی قیمتوں میں ڈسٹری بیوشن کمپنی بنا رہے ہیں قومی اسمبلی نے ملینیئم ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اپنے بچوں کو صحت مند اور توانا ماحول فراہم کرنے کیلئے ملینیئم اہداف کا حصول لازمی ہے۔ سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے چیئرمین سینٹ سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی رکن انوشہ رحمن کے متنازع مضمون سے متعلق معاملے کے بارے میں رولنگ محفوظ کر لی سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہی چال چلن رہا تو عام انتخابات زیادہ دور نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اپوزیشن کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں پر سبسڈی اور سکیورٹی کی صورتحال کے باعث ضمنی گرانٹس دینا پڑیں۔ قرضوں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے جو 60 فیصد سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 55 فیصد تک آ گئی ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس اور ایوان صدر کے ضمنی مطالبات زر ملازمین کی تنخواہوں اور الاﺅنسز میں اضافے کے باعث ضمنی گرانٹس دی گئی ہیں۔ ضمنی مطالبات زر کی منظوری کے بعد خاصی دیر ایوان کی کارروائی نکتہ اعتراض پر چلتی رہی۔ وفاقی وزیر قانون مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی خاتون رکن‘ چیئرمین سینٹ کے حوالے سے مضمون لکھ کر ایوان سینٹ کے امور میں مداخلت کی مرتکب ہوئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے کہا کہ ان کی ایم این اے نے یہ مضمون لکھ کر کوئی قابل اعتراض کام نہیں کیا۔ سپیکر نے کہا کہ وزیر قانون نے درست نشاندہی کی ہے ایک ایوان دوسرے ایوان کی کارروائی میں اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ بجٹ بڑے اچھے ماحول میں منظور ہوا ہے مگر حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر اعتراض اٹھانے کا جواز نہیں تھا۔ سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا کہ گزشتہ دنوں بعض لوگوں نے ہولی فیملی ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی مگر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ ایوان کی کمیٹی بنا کر اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ وزیر خزانہ نے ختم ہونے والے مالی سال کیلئے 18.9 ارب روپے سے زائد کے غیر تصویبی اخراجات کی تفصیل بھی پیش کی۔