آزاد کشمیرالیکشن کیلئے لاہورکی دونوں کشمیری مہاجرنشستوں پرانتخابی گھما گھمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے

24 جون 2011 (16:50)
آزاد کشمیرالیکشن کیلئے لاہورکی دونوں کشمیری مہاجرنشستوں پرانتخابی گھما گھمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے
لاہورمیں مہاجرین کشمیر کی دونشستوں ایل اے تیس جموں اورایل اے سنتیس وادی کیلئے مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی اورمتحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں سمیت پندرہ سے زائد چھوٹی بڑی کشمیری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے مابین پنجہ آزمائی ہوگئی۔ انتخابی نقطہ نظر سے سخت مقابلہ ایل۔اے سسنتیس وادی کی نشست پرہوگا جہاں پیپلزپارٹی نے سابق رکن اسمبلی محی الدین دیوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے، پنجاب حکومت پرتنقید کرتے ہوئے محی الدین دیوان کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں ریاستی مشینری بھرپورطریقے سے مسلم لیگی امیدوار و جتوانے کیلئے سرگرم ہے تاہم وہ جبر کے ان ہتکھنڈوں کا ڈٹ کے مقابلہ کریں گے۔
اسی حلقے سے مسلم لیگ نون نے پیپلزپارٹی کے سابق رہنما غلام عباس میرکو ٹکٹ جاری کیا ہے، وزیراعلی پنجاب کے صاحبزادے میاں حمزہ شہبازشریف کے حلقہ انتخاب میں واقعہ اس کشمیری مہاجرین کے حلقے کو نون لیگ نے بھی خصوصی ترجیح دی ہوئی ہے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوارکے الزامات کو بے جا قراردیا۔
اسی حلقے سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوارشکوربٹ نے انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کا الزام پیپلزپارٹی پرلگایا ہے۔
سات ہزارسے زائد ووٹرز کے اس حلقے میں رائے دہندگان یہ سوچ کراپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے کہ ان کی منتخب کردہ قیادت جنت نظیروادی کو بھارتی تسلط سے آذادی دلوائے گی