ماتحت عملے کی بد عنوانیوں کی وجہ سے عدلیہ پر عوام کے اعتماد میں کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان

24 جون 2011 (16:12)
کراچی میں جوڈیشل پالیسی سازکمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے کہا کہ ضمیرکی عدالت سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے ، انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے والے عدالتی افسروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائی کورٹس کو کرنا چاہیے کیونکہ ماتحت عملے کی بدعنوانی کی وجہ سے عدلیہ پرعوام کے اعتماد میں کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو فوقیت دینی چاہیے اورسائلین کی درخواستوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم سستا اورفوری انصاف فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس میں بڑی حد تک کامیابی ہوئی ہے۔