اسلام آباد میں جاری دو روزہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات ختم ہوگئے

24 جون 2011 (15:57)
دو روزہ مذاکرات کے بعد دفترخارجہ اسلام آباد سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک جوہری اورروایتی ہتھیاروں کے معاہدے میں مزید اعتماد سازی کیلئے الگ سے ماہرین کا اجلاس بلانے پراتفاق کیا ہے۔ فریقین کشمیر میں آرپارتجارت کیلئے پہلے سے تین مقامات میں مزید اضافہ کرنے اورلائن آف کنٹرول سے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات کو مستحکم کرنے پرمتفق ہوگئے ، دونوں ممالک نے عوامی روابط کے فروغ کے لئے ویزہ پالیسی نرم کرنے، کاروباری حضرات اور کھلاڑیوں کو خصوصی ویزہ سہولیات دینے اوران کی آمدورفت کوسہل بنانے کے اقدامات پربھی اتفاق کرلیا۔ اس کے بعد سیکرٹری خارجہ سلمان بشیرنے بھارتی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا جاری رہنا خوش آئند پیش رفت ہے، ممبئی حملوں پر بھارتی تحفظات سے آگاہ ہیں اوراس کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ مشترکہ حکمت عملی کا متقاضی ہے، اس کا خاتمہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اس موقع پر بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما رائوکا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کشمیر کے دونوں طرف کے عوام کے لئے لائن آف کنٹرول سمیت سفراورتجارتی سہولتوں پر بھی تفصیلی بات کی گئی ہے، کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے مرحلہ وار آگے بڑھنا ہوگا۔
سمجھوتہ ایکسپریس پر پوچھے گئے ایک سوال پر نروپیما رائوکا کہنا تھا کہ ان حملوں کی تحقیقات جاری ہیں، پاکستان کو اس کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزا ملنے سے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی