پاکستان ،بھارت ،چین اور ایران کی طالبان سے مفاہمت کی پالیسی سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔ واشنگٹن پوسٹ

24 جون 2011 (04:46)
پاکستان ،بھارت ،چین اور ایران کی طالبان سے مفاہمت کی پالیسی سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔ واشنگٹن پوسٹ
ایک تجزئیے میں اخبار نے لکھا ہے کہ افغانستان کی جنگ کا پانسہ اب پلٹنے والا ہے کیونکہ اس قسم کی جنگوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہوتا۔ امریکی صدر اوباما جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، اس سے دو ایسے پہلو اجاگر ہوتے ہیں جو لیبیا اور شام میں جاری بڑھتی ہوئی خانہ جنگیوں کے لیے سبق آموز ہیں۔ اول یہ کہ اس مکالمے کو ملک کے اندر لڑنے والے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہونی چاہیی، امریکا ایسے رابطوں کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے۔دوسرا یہ کہ مکالمے کا دائرہ کار علاقائی ہونا چاہیے تاکہ برسر پیکار فریقوں میں سے کوئی بھی دخل در معقولات کرنے والے پڑوسیوں سے مدد نہ مانگے۔ طالبان کے ساتھ امریکہ کے خفیہ رابطوں میں اس لیے پیش رفت ہوئی ہی کیونکہ صدر کرزئی چاہتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوںجبکہ بھارت پاکستان ، روس، چین اور ایران بھی اس امر کی حمایت کرتے ہیں اوریہی وہ علاقائی دائرہ کار ہے جس نے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار کی ہے۔