ملّا کو کوہ ودمن سے نکال دو

24 جون 2011
صدر آصف علی زرداری نے کمال کیا ہے۔منفرد بیان بازی کا جوہر دکھایا ہے۔ میاں نواز شریف نے ان پر تابڑ توڑ حملے کیے۔آپ نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ آپ کی حکومت اور وزراءاربوں روپے کی خورد برد میں ملوث ہیں۔یکے بعد دیگرے سکینڈل سامنے آرہے ہیں۔ہم آپ کو زیادہ دیر تک یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ جواب میں زرداری صاحب نے نوڈیرو میں مرحومہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر تقریر دلپذیر کی ہے۔اپنے اوپر لگائے جانے والے بے تحاشا کرپشن کے الزامات پر کچھ نہیں فرمایا لیکن نواز شریف کو مولوی کے خطاب سے نواز دیا ہے۔ پوری تقریر کے دوران اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف کو ایک نہیں کئی بار مولوی نواز شریف کہہ کر پکارا ہے۔مولوی مسلم معاشرے کا اہم فرد اور ممتاز ادارہ ہے۔ ہماری تہذیبی قدر اس کا احترام سکھاتی ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھی جائز طورپر تنقید کا نشانہ بھی بنتا ہے۔ لیکن عوام کے شعور کیا لاشعور میں بھی اس کے بارے میں ایک ایسے آدمی کا تصور پایا جاتا ہے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔برائی سے منع کرتا ہے۔تو کیا زرداری صاحب نے نواز شریف کو اس لئے مولوی کہا ہے کہ اس نے ان کی حکومت اوروزراءکو بے پناہ کرپشن کی برائی سے منع کیا ہے۔صدر زرداری کی تقریر سن کر تو ایسا معلوم ہوتا تھا وہ نواز شریف سے زیادہ مولوی کے خلاف غصّے سے بھرے ہوئے تھے ۔ کیا وہ امریکہ کو باور کرانا چاہتے تھے مولوی کے ساتھ افغانستان میں جنگ لڑ لڑ کر تم تھک چکے ہو۔ ایک مولوی پاکستان میں بھی پایاجاتا ہے میرے ساتھ مل کر اس سے بھی نمٹ لو۔وہی علامہ اقبال والی بات ملّا کو اس کے کوہ و دمن سے نکا ل دو اور شدید جذبات کے اظہار سے لبریز ہے۔ اسی لئے گزرے ہوئے زمانے میں پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت کہا جاتا تھا اور جیالے اس پر فخر کرتے نہیں تھکتے تھے ہمارے لبرل دانشور اسی پر تو بھٹو اور بے نظیر کی بلائیں لیتے تھے۔ آج معاملات الٹ ہیں۔ جرنیل اور پیپلز پارٹی کے قائدین ایک دوسرے کی مجبوری بن چکے ہیں۔ فوج پر ہرگز ہر گز تنقید نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔اس کے جوانوں اور درمیانے درجے افسروں کے جذبہ حبّ الوطنی سے کسی کو انکار نہیں۔ انہوں نے کبھی وطن کی خاطرقربانیاں دینے سے دریغ نہیں کیا۔ لیکن ملک اور آئین توڑنے والے جرنیلوں کا محاسبہ ہر حال میں ہوناچاہیے۔
زرداری کا کہنا ہے ان کی سوچ کو فتح نصیب ہورہی ہے۔کیا 2مئی کا واقعہ اسی کا شاہکار تھا جو صدر پاکستان نے دیر نہ لگائی اور واشنگٹن پوسٹ میں مضمون جڑ دیا امریکہ کی خدمت میں مبارکباد پیش کی۔اس سے اگلے روز ان کے وزیراعظم نے اس کو فتح عظیم سے تعبیر کیا۔ یہ وہ لمحات تھے جب پوری پاکستانی قوم اپنے حکمرانوں اور محافظوں کی کارکردگی کی وجہ سے شرم میں ڈوبی ہوئی تھی۔اس ملک نے آزاد ریاست کے طورپر جنم لیا تھا۔اسے غیروں کا طفیلی بنادیا گیا ہے۔کیا فتح اسی کا نام ہے۔پاکستان قائم بھی رہے گا۔دائم بھی رہے گا۔لیکن آزاد اور خود مختار جمہوری ریاست کی حیثیت سے اپنے داخلی وسائل پر بھروسہ کرکے غیروں کی امداد سے بے نیاز ملک کے طورپر۔ نہ کہ دوسروں کی جنگ لڑ کے۔ چند بلین ڈالرکی بھیک پر زندہ رہ کر آزاد قوموں اور ان کے غیرت مند حکمرانوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔ ہمیں اس رویے کو ترک کرنا ہوگا۔ ملک و قوم کو یہاں تک پہنچانے والے حکمرانوں سے بھی نجات حاصل کرنا ہوگی۔شرط بس یہ ہے سارا کام آئین اور جمہوریت کے دائرے کے اندر رہ کر ہو اسی لئے قوم خواہش رکھتی ہے کہ انتخابات جلد از جلد ہوں۔