مولوی نواز شریف

24 جون 2011
صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے 58ویں یوم پیدائش پر لاڑکانہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولوی نواز شریف کی سوچ سے پاکستان کو خطرہ ہے۔ اسی سوچ نے میری بیوی بے نظیر بھٹو کو قتل کیا۔ نواز شریف کے خلاف آصف زرداری کا یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل پر تو نواز شریف کا ردعمل اتنا سخت تھا کہ انہوں نے احتجاجاً الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس وقت نواز شریف کو الیکشن کے لئے آمادہ کرنے والے خود آصف زرداری تھے۔ اب صدر آصف زرداری کی شاطرانہ سیاست دیکھیں کہ نواز شریف کو مولوی کہہ کر درحقیقت انہیں تحریک طالبان کا ساتھی قرار دے رہے ہیں۔ صدر آصف زرداری تحریک طالبان کو بے نظیر بھٹو کو قاتل سمجھتے ہیں اور جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مولوی نواز شریف کی سوچ سے پاکستان کو خطرہ ہے اور اسی سوچ نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا تو اس کا صاف مطلب ہے کہ صدر آصف زرداری کے نزدیک تحریک طالبان اور نواز شریف میں کوئی فرق نہیں۔ آصف زرداری کا نواز شریف کے خلاف یہ الزام عالمی تھانیدار امریکہ کے پاس اس مضمون کی ایف آئی آر درج کروانے کے مترادف ہے کہ امریکہ جس دہشت گردی کے خلاف دس سال سے جنگ لڑ رہا ہے نواز شریف اس دہشت گردی کے ساتھ ہے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی نواز شریف کے خلاف یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں جب بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو قومی اسمبلی کے ارکان خریدنے کے لئے نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے سرمایہ لیا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اسامہ بن لادن نے دو مرتبہ انہیں قتل کروانے کی کوشش کی۔ صدر آصف زرداری نے اپنے مضمون میں اسامہ بن لادن کے امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے پر یہ تحریر کیا تھا کہ آج ذاتی طور پر مجھے بھی انصاف مل گیا ہے کیونکہ میرے بچوں کی ماں اور ہماری عظیم لیڈر بے نظیر بھٹو کو بھی دہشت گردوں نے قتل کیا تھا۔ صدر آصف زرداری جنرل مشرف کو بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کا ملزم گردانتے ہیں۔ تو کیا جنرل مشرف، تحریک طالبان اور مولوی نواز شریف کی سوچ یہ سب بے نظیر بھٹو کے قتل میں برابر کے شریک ہیں۔ نہ تحریک طالبان جنرل مشرف کے قریب تھی کیونکہ تحریک طالبان کے خلاف جنگ میں جنرل مشرف امریکہ کا سب سے اہم اتحادی تھا۔ نہ جنرل مشرف کا نواز شریف سے کوئی تعلق تھا کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے تھے۔ پھر یہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں شریک جرم کیسے ہو گئے۔ مولوی نواز شریف کی سوچ اگر پاکستان کے لئے خطرہ ہے اور اسی سوچ نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا تو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد مسلم لیگ (ن) کو مرکز اور پنجاب میں حکومت میں پیپلز پارٹی نے اپنا پارٹنر کیسے بنا لیا تھا۔ نواز شریف اگر بے نظیر بھٹو کے قتل کی دو دفعہ کوشش کرنے والے اسامہ بن لادن کے قریب تھے تو پھر خود بے نظیر بھٹو نے نواز شریف سے میثاق جمہوریت کیوں کیا تھا۔ پاکستان کے سیاستدانوں کا یہ پہلو انتہائی منفی ہے کہ جب اقتدار میں آصف زرداری اور نواز شریف کی جماعت ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھی تو آصف زرداری، نواز شریف کو اپنا بڑا بھائی کہتے تھے۔ اب نواز شریف کے نزدیک آصف زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین صدر ہے اور آصف زرداری کو نواز شریف کی ”مولویت“ کو پاکستان کے لئے خطرہ اور اسی سوچ کو بے نظیر بھٹو کا قاتل قرار دے دیا ہے۔ کیا ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی میں یہ انتہا پسندی بجائے خود پاکستان کے لئے خطرہ نہیں۔ اگر دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے الزامات درست مان لئے جائیں تو پھر ایسی قیادت سے پاکستانی قوم بھلائی کی کیا توقع رکھ سکتی ہے۔ اب اگلے انتخابات کی تیاری کی بنیاد کسی مثبت پروگرام پر رکھنے کے بجائے ماضی کی منفی سیاست کو پھر زندہ کر دیا گیا ہے۔ خدارا دونوں جماعتیں سوچیں کہ ان کے اس طرز عمل سے اپنی تاریخ کے بدترین بحران کے شکار پاکستان کا کیا بھلا ہو گا۔
سیاستدانوں کو آئندہ انتخابات سے پہلے عوام کی خدمت اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی دلدل سے باہر نکال لینے کا کوئی ایجنڈا پیش کرنا چاہئے۔