بپتا

24 جون 2011
آسیہ شاہین
دسمبر کی دھند سے اٹی راتوں کو۔ جب چاروں صرف سناٹا سا چھایا ہوا تھا۔ مجھے لاہور سے باہر جانا پڑا، دو دن کے لئے۔ چوبیس پچیس دسمبر کی خنک راتیں تھیں۔ جب لاہور واپس آئی تو گھر کو اندر سے بند پایا۔ پہلے تو سمجھ نہ آئی کہ معاملہ کیا ہے؟ جب گھر کی سب لائٹس جلتی دیکھیں تو سر چکرا سا گیا۔ گیٹ کھولنے پر تکلیف دہ صورت حال میرے سامنے تھی، تالے ٹوٹے پڑے تھے۔ سب مال و زیورات ندارد۔ گھر کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ فوراً 15 پر کال ملائی۔ دو منٹ کے اندر پولیس موجود تھی لیکن بے بس کہ پہلے ایف آئی آر کٹوائیں۔ سو 26 دسمبر تاریخ کو ڈی آئی جی کی سفارش پر ایف آئی آر کٹوائی۔ وہ دن اور آج کا دن، پولیس ڈیپارٹمنٹ کی پھرتیاں، ان کا عوام کے ساتھ سلوک، معزز پولیس افسران کے دعوے، چیف منسٹر شکایات سیل کی سفارشی پرچیاں۔ نہایت معذرت کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ رات دن محنت کرنے والے کرپشن سے پاک پنجاب کا خواب دیکھنے والے محترم وزیر اعلیٰ کو ”ماڈل ٹاون شکایت سیل“ کی کیا کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔ وہ لوگ جنہیں عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے بٹھایا گیا ہے انتہائی ڈھٹائی اور مخولیہ انداز میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بی بی پولیس کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کرو، چوری بھی کبھی ملی ہے اور پھر لمبی چوڑی کہانی ان لوگوں کی سناتے ہیں جن کے ہاں چوری ہوئی لیکن انہوں نے ایف آئی آر تک درج کروانے کی جرات نہیں کی۔ لیکن محترم وزیر اعلیٰ صاحب ایف آئی آر نمبر 1072، ایس پی آپریشن، ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی آئی جی آپریشن، ایس ایس پی ایڈمن، سی سی پی او آفس، ایس ایس پی سپیشل برانچ، ایس پی سی آئی اے، ڈی آئی جی (سی آئی اے)، ڈی آئی جی انٹیلی جنس بیورو، سب کو شاید زبانی یاد ہو گئی ہو لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود نتیجہ یہ کہ اب تک دو ایس پی آپریشن دو ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی آئی جی آپریشن، ڈی آئی جی انٹیلی جنس بیورو یہاں تک کہ سی سی پی او تک ٹرانسفر ہو چکے ہیں ماسوائے انچارج تھانہ لیاقت آباد (جہاں کی ایف آئی آر ہے) اور ڈی ایس پی ماڈل ٹاون اپنی ڈیوٹی ”معززین علاقہ“ کے تعاون سے بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ یہی وہی معززین علاقہ ہیں جن کی تعریف ذوالفقار چیمہ صاحب نے اپنے کالم میں کی ہے۔ کچھ کرائم رپورٹرز حضرات بھی اس ایف آئی آر نمبر سے واقف ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ سب بڑے عہدوں والے اور میڈیا سے متعلق لوگ سب یہی بات کرتے ہیں کہ ”بی بی چوری ملنا بہت مشکل ہے“ یہ پاکستان یہاں تو کروڑوں ہڑپ کرنے والے مگرمچھ ہیں آپ کا تو صرف لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔ صرف متعلقہ تھانے کا انچارج انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی صاحب یہ یقین دلاتے ہیں کہ اللہ نے چاہا تو چور پکڑے جائیںگے۔ معززین علاقہ یہ دعویٰ کرتے ہیں چور پکڑ لئے گئے ہیں اور گھر کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ صرف یہ کہ ہمیں ڈیل کرنا نہیں آیا محکمہ پولیس والوں سے۔ یہ تو خیر لوگوں کی بات ہے حقیقت یہ ہے کہ جس تیزی سے محکمہ پولیس میں ٹرانسفرز ہوتی ہیں کوئی بھی افسر اپنا کام صحیح طریے سے کر نہیں سکتا۔ ایک ایس پی صاحب تو جوائننگ کے دوسرے روز ہی ٹرانسفر کر دئیے گئے جبکہ جوائننگ دینے کے بعد انہوں نے تمام تھانوں کے انچارج صاحبان سمیت پریس کانفرنس میں جرائم کی تباہی کے دبنگ قسم کے دعوے کئے اگلے ہی دن ٹرانسفر ہو چکے تھے۔ میں ان ایم پی اے صاحب کی بھی مشکور ہوں جنہوں نے ایس پی کو چوری ڈھونڈنے کا کہا لیکن افسوس کہ وہ ان کی ٹرانسفر نہ رکوا سکے۔ میں سینٹیر جہانگیر بدر کی مشکور ہوں جنہوں نے میری پرابلم کو سمجھتے ہوئے ایس پی صاحب کو معاملہ حل کرنے کا کہا۔ لیکن مجھے چھ ماہ کی دردسری کے بعد ایک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی کہ عہدے کا چھوٹا بڑا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا آپ ایسا پرزہ ہیں جو اس کرپٹ سسٹم کی مشینری میں فٹ ہو سکتا ہے تو وارے نیارے ہیں۔ کوئی مائی کا لعل آ پکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ خادم اعلیٰ بھی نہیں اور ناظم اعلیٰ بھی نہیں، باقی رہے نام اللہ کا۔