صدر صاحب !! آپکے سسر کو بھی مجید نظامی ہی میدان سیاست میں لائے تھے

24 جون 2011
امیر محمد خان نمائندہ نوائے وقت جدہ
ہمارے ملک میں سیاستدانوں نے سیاست کی تشریح میں جو بات سب سے اہم رکھی ہے وہ ”ٹکا کے جھوٹ بولو“ حکومت وقت نے لوگوںکے کانوں کے بال جلا دئیے ہیں اس بات کا پروپگنڈہ کرکر کے کہ ’ہم مفاہمت چاہتے ہیں‘ اور ابھی کل بے نظیر کی سالگرہ کے موقع پر صدر محترم نے فرمایا کہ میری زبان اور گردن کاٹی گئی، میرے اوپر مقدمات بنائے گئے مگر میں نے سب کو معاف کر دیا وغیرہ وغیرہ، صدر پاکستان میں معاف کرنے کی صلاحیت آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہے، ایک پرانا قصہ حاضر ہے، جب میاں نواز شریف کی حکومت تھی اس وقت آصف علی زرداری جیل میں تھے، اس کے بعد حکومت کرنے کی باری پی پی پی کی آگئی، زرداری رہا کر دئیے گئے اور میاں نواز شریف کے بزرگ والد صاحب کو جیل میں ڈال دیا گیا، آصف علی زرداری عمرہ کے لئے تشریف لائے ان کے ہمراہ بہت سے صحافی بھی تھے خلاف توقع محترم مجید نظامی صاحب تھے، نظامی صاحب کی تمام تر عزت کے ساتھ میں نے وہیں محترم مجید نظامی سے جدہ کے ہوائی اڈے پر ہی پوچھ لیا کہ ’نظامی صاحب آپ کیسے ان کے ہمراہ؟ نظامی صاحب نے اپنی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا میں خود پریشان تھا کہ مجھے کیوں لے جایا جا رہا ہے، مجھ سے پاکستان میںکہا گیا کہ آپ نے ہمیں ”مرد حر“ کا لقب دیا ہے ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں، مگر بھید تب کھلا جب دوران سفر زرداری نے میرے قریب بیٹھ کر کہا ”نظامی صاحب! نواز شریف نے مجھے ایک طویل عرصہ جیل میں رکھا، اب میں بھی اس کے والد کوجیل میں رکھ کر بدلہ اتاروں گا نیز اتنے ہی عرصے بڑے میاں صاحب کو جیل میں رہنا پڑے گا۔ نظامی صاحب نے جواب دیا کہ ’اگر یہی پیغام ان کے لئے مجھے دینا تھا تو وہیں پاکستان میں یہ پیغام پہنچا دیتے اس کے لئے اتنی دور سعودی عرب کیوں لیکر آئے۔ یہ ہے!! درگزر اور معاف کرنے کی صلاحیت جس کا چرچہ روزانہ ہو رہا ہے ٹاک شوز میں پی پی پی کے فیصل عابدی His master voice)) منہ سے جھاگ پھینک کر ان مہربانیوں کا ذکر کرتے ہیں جو انہوں نے حزب اختلاف پر کی ہوئی ہیں اور جو تقریر جہانگیر بدر جسیے لوگوں کو کرنی چاہئے وہ اب آصف علی زرداری خود کر رہے ہیں نوڈیرو کی حالیہ ’تھرڈ ڈگری‘ تقریر میں پاکستان کی واحد عظیم شخص جو پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا خواب لئے ہے ، وہ نظریہ جو تمام سیاسی جماعتیں بھول چکی ہیں اس نظریہ پاکستان کو آنے والی نسلوں، اسکولوں، کالجوں تک پہنچا رہا ہے، جس کا اخبار پاکستان کی وحدت کی ضمانت ہے، جو صحافتی بزنس کے بجائے پاکستان کی اصل اساس کو اپنے اخبارات، چینل پر ترجیح دیتا ہے، وہ ہیں جناب مجید نظامی۔ جوش خطابت میں صدر پاکستان اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے محسن کو نواز شریف کا سیاسی گرو کہہ گئے ، اس طرح کے سڑک چھاپ الفاظ مجید نظامی کی شخصیت کیلئے بالکل مناسب نہیں ہیں اس طرح کے الفاظ ان کے لئے استعمال کرنے والے کیلئے کیا لفظ استعمال کیا جائے ؟ اگر انہوںنے آصف علی زرداری کو ’مرد حر‘ کہا تھا تو صرف اس لئے کہ انہوںنے طویل جیل کاٹی، یہ الفاظ مجید نظامی نے این آر او کے نتیجے میں اقتدار لینے والے صدر کیلئے استعمال ہرگز نہیں کئے تھے ۔ جناب صدر کو شائد ان کے میڈیا ایڈوائزرز نوائے وقت کے وہ اداریے نہیںدکھائے جس میں نواز شریف بھی اگر ہندوستان سے محبت یا کشمیر پر کوئی کمزور بات کرتے ہیں یہ ادارئے انہیں اپنی اوقات یاد دلادیتے ہیں، جناب صدر ،مجید نظامی نواز شریف کے ” گرو “ نہیں بلکہ ایک سچے پاکستانی ہیں، اگر انہوں نے اس وقت کے ’میڈ ان پاکستان‘ نواز شریف کو سیاست کا راستہ دکھایا تو جناب آپ کے سسر محترم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی سیاست کا میدان انہوں نے ہی دکھایا۔ جب انہیں ان کے ڈیڈی ایوب خاں نے فارغ کر دیا تو مجید نظامی نے ہی انہیں راولپنڈی میں مل کر دوبارہ سیاست میں آنے پر آمادہ کیا اور لاہور کے وائی ایم سی اے ہال میں یوم مجید نظامی کے جلسہ کی صدارت کروائی۔ وائی ایم سی اے ہال کی چھت ہی نہیں سیڑھیاں بھی حاضرین سے جیم تھیں اور مال روڈ اور نیلا گنبد کو جانے والی سڑک بھی۔ انہیں لکڑی کی سیڑھی لگا کر وائی ایم سی اے ہال سے نیچے اتارنا پڑا۔ اور پھر چل سو چل! اس طرح محترم مجید نظامی تو پورے بھٹو خاندان کے سیاسی ”گرو “ ہیں۔ میرے خیال میں اپنے اقتدار کی ہوس کی جنگ آپس میں ہی رکھیں توزیادہ بہتر ہے، وہ لوگ جو پاکستان کیلئے اس وقت تحفہ ہیں انہیں ملوث نہ کریںعوام کو توقع اب کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں، چاہے سرے محل والے ہوں یا بقول صدر پاکستان مرغیوں کا کاروبار کرنے والے۔